October 18, 2026

زندگی اور موت کے درمیان 208 سیکنڈ:

Screenshot_2026-01-03_000052

زندگی اور موت کے درمیان 208 سیکنڈ:
15 جنوری 2009 کو نیویارک شدید سردی کی لپیٹ میں تھا۔ لاگوآرڈیا ایئرپورٹ سے امریکی ایئرلائن (US Airways) کی پرواز نمبر 1549 ایک عام سی پرواز لگ رہی تھی۔ کچھ مسافر اخبار پڑھ رہے تھے، کچھ اپنے فون بند کر رہے تھے اور عملہ اڑان بھرنے کی تیاری میں مصروف تھا۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ جہاز میں سوار 155 افراد کی زندگی چند منٹوں میں ایک انسان کے فیصلے سے جڑی ہونے والی ہے۔
کچھ ہی دیر بعد ایئربس A320 طیارہ فضا میں بلند ہوا۔ اسے ایک تجربہ کار پائلٹ، کیپٹن “چیسلی سولی سولنبرگر” اڑا رہے تھے، جنہیں 40 سال سے زیادہ کا تجربہ حاصل تھا۔ ان کے ساتھ معاون پائلٹ جیف سکايلز موجود تھے۔ جہاز ابھی فضا میں بلند ہی ہوا تھا کہ صرف 90 سیکنڈ بعد ایک غیر متوقع حادثہ پیش آ گیا۔
اچانک جہاز کا کینیڈین ہنسوں (پرندوں) کے ایک غول سے ٹکراؤ ہوا۔ زور دار آواز آئی، پھر انجنوں نے کام کرنا چھوڑ دیا اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ دونوں انجن ایک ساتھ بند ہو گئے۔
70 ٹن وزنی جہاز اب ایک بے جان گلائیڈر بن چکا تھا جو نیویارک جیسے گنجان شہر کے اوپر تیزی سے نیچے آ رہا تھا۔
کاک پٹ میں خوف کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ وقت بہت کم تھا۔ قریبی ہوائی اڈوں پر واپس جانا ممکن نہیں تھا، کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب شہر پر گر جانا تھا۔
اسی لمحے کیپٹن سولی نے واحد ممکن اور درست فیصلہ کیا:
“ہم دریائے ہڈسن میں اتریں گے۔”
پائلٹ نے مسافروں کو ایک مختصر پیغام دیا:
“ٹکر کے لیے تیار ہو جائیں۔” (Brace for impact)
جہاز نہایت کم بلندی سے جارج واشنگٹن پل کے قریب سے گزرا۔ ذرا سی بھی غلطی جہاز کو الٹا سکتی تھی۔
انتہائی مہارت سے کیپٹن سولی نے جہاز کو پانی پر اس طرح اتارا کہ وہ الٹا نہ ہوا۔ ٹھنڈے پانی پر جہاز رک گیا اور تیرتا رہا۔ سب محفوظ تھے۔
جب جہاز کے اندر پانی بھرنے لگا تو مسافر تیزی سے باہر نکل کر جہاز کے پروں پر کھڑے ہو گئے اور امدادی کشتیاں فوراً پہنچ گئیں۔
سب سے متاثر کن منظر یہ تھا کہ کیپٹن سولی خود سب سے آخر میں جہاز سے نکلے۔ وہ دو بار یخ بستہ پانی میں ڈوبے پورے جہاز کے اندر گھومے، ہر نشست کو دیکھا، تاکہ کوئی مسافر اندر نہ رہ گیا ہو۔
یہ واقعہ بعد میں “دریائے ہڈسن کا کرشمہ” کہلایا اور یہ اس بات کی زندہ مثال بن گیا کہ تجربہ، حوصلہ اور درست فیصلہ کیسے سینکڑوں جانیں بچا سکتا ہے اور یہ کہ ایسے وقت میں آدمی کو اپنے حواس قابو کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور جلد بازی کے بجائے ٹھنڈے دماغ کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے اگرچہ یہ کام بہت مشکل ہے۔