October 17, 2026

*حرام کی کمائی سے حج و عمرہ کی ادائیگی ایک شرعی مغالطہ* اتوار 04 جنوری 2026 تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

Screenshot_2026-01-03_205126

*حرام کی کمائی سے حج و عمرہ کی ادائیگی ایک شرعی مغالطہ*

اتوار 04 جنوری 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

حرام کمائی، جھوٹی دینداری اور معاشرتی تباہی، قرآن و حدیث کی روشنی میں تنبیہ۔

وطنِ عزیز میں ایک خطرناک سوچ رفتہ رفتہ عام ہوتی جا رہی ہے۔ کہ “مال جمع کرو چاہے رشوت لو، چوری کرو، ڈاکہ ڈالو، جھوٹ بولو، جھوٹی گواہی دو،
لوگوں کا حق غصب کرو،
اور حج یا عمرہ کر کے پاک صاف ہو جاؤ۔”
یہ سوچ صرف ایک غلط فہمی نہیں، بلکہ دین کے بنیادی تصورات کو مسخ کرنے والی گمراہی ہے۔

*حرام کمائی اور عبادت: ایک بنیادی اصول*

قرآنِ مجید واضح اور دو ٹوک اعلان کرتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا﴾
(سورۃ البقرہ: 168)

“اے لوگو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ ہے وہی کھاؤ۔”
نبی کریم ﷺ نے اس اصول کو اور زیادہ واضح فرمایا:
“اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے۔”( مسلم)
پھر آپ ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو دعاء مانگ رہا ہے،
حج و عمرہ بھی کرتا ہے، مگر:
“اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام، تو اس کی دعاء کیسے قبول ہو سکتی ہے؟”(صحیح مسلم)
یہ خطرناک غلط فہمی کہاں سے آئی؟
لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ
حج یا عمرہ گناہوں کو ایسے دھو دیتا ہے جیسے پانی میل کو۔
یہ بات اصولی طور پر درست ہے،
مگر صرف ان گناہوں کے لیے جو حقوقُ اللہ سے متعلق ہوں
اور وہ بھی سچی توبہ کے ساتھ لیکن جہاں حقوقُ العباد کا معاملہ ہو وہاں نہ حج معاف کرتا ہے،
نہ عمرہ،
نہ صدقہ،
نہ نماز۔
نبی ﷺ نے صاف فرما دیا:
“جس نے کسی کا حق مارا ہو
تو قیامت سے پہلے اس سے معافی حاصل کر لے، ورنہ قیامت کے دن اس کے نیک اعمال لے لئے جائیں گے۔”
(صحیح بخاری)

اب سوال یہ ہے:
اگر حرام مال سے حج کیا گیا، تو اس حج کا ثواب کس کو ملے گا؟
حج کرنے والے کو؟
یا اس مظلوم کو جس کا مال غصب ہوا؟
یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب سوچ کر ہی لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔

*معاشرتی بے راہ روی: سب شامل، سب ذمہ دار*

افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ
اس بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں:
رشوت خور کلرک مافیہ،
حرام خور پٹواری،
پولیس اور محکمہ مال کے اہلکار، حتاکہ محکمہ تعلیم کے آفیسرز اور اسکولوں کے کلرک تک فرعون بنے بیٹھے ہیں۔
قوم کے مسیحا، ڈاکٹرز مریضوں کی گردنیں کاٹنے اور خطرناک بیماری ظاہر کرکے انسانی اعضاء بیچنے والے ڈاکٹر۔
کنجریاں، فلمی اداکار، اداکارائیں دوا ساز و ذخیرہ اندوز، جعل ساز، ٹھگ
سب کا ایک ہی نعرہ ہے:
“پہلے مال، بعد میں حج اور
یہ سوچ پورے معاشرے کو
اخلاقی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر چکی ہے۔

اقبال کی گونجتی ہوئی صدا
علامہ اقبال نے اس خود فریبی کو بہت پہلے بے نقاب کر دیا تھا:

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری نہ ناری

یعنی انسان اپنے اعمال سے خود فیصلہ کرتا ہے
کہ وہ جنت کا مستحق ہے یا جہنم کا۔

انجام: جس سے قرآن نے ڈرایا
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾(سورۃ البقرہ: 188)

اور ایک اور جگہ فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا﴾(النساء: 10)
یہ صرف یتیموں تک محدود نہیں، بلکہ ہر غصب شدہ مال اسی انجام کی طرف لے جاتا ہے۔

*آخری پیغام اور تنبیہ*
اگر معاشرہ اس غلط فہمی سے نہ نکلا تو یقین جانیے:
نہ مسجدیں ہمیں بچا سکیں گی، نہ عمرے اور نہ حج
کیونکہ جہنم اعمال سے بھری جائے گی، دعوؤں سے نہیں۔
اے سیانے لوگو اب بھی وقت ہے:
کس کو دھوکہ دے رہے ہو اس اللہ تعالٰی کو جو دلوں کے بھید تک جانتا ہے یا اپنے اپ کو کیا تم نہیں جانتے کہ کھلی آنکھوں ظلم کر رہے ہو؟

کیا تمہیں یاد نہیں رہتا کہ سال میں ایک یا دو بار اللہ کی گرفت میں آجائے ہو پھر معافیاں بھی مانگتے ہو۔
اس وقت کو غنیمت جانو!
حرام سے پکی توبہ کیجیئے جیسے نصوح نے کی تھی اور
لوگوں کے حقوق واپس کیجیے۔
عبادت کو حلال رزق سے جوڑیے
ورنہ وہ دن دور نہیں جب
پچھتاوا ہو گا، مگر واپسی ممکن نہ ہو گی۔

نہ دیکھ دیر گیری اس کی کہ سخت ہے گرفت اسکی۔

وما علینا الا البلاغ المبین۔

ایک ناصح
انجینیئر نذیر ملک
سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333