October 17, 2026

سکھر روز نامہ کانیات زیدی حکومت کالے قوانین کے ذریعے صحافتی آزادی سلب

IMG-20260103-WA0251

سکھر روز نامہ کانیات
زیدی
حکومت کالے قوانین کے ذریعے صحافتی آزادی سلب کرنا چاہتی ہے، ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے: لالا اسد پٹھان
آزاد میڈیا 25 کروڑ عوام کی آواز، صحافیوں کی زباں بندی دراصل عوام کی زباں بندی ہے

روہڑی(بیورورپورٹ)ہمارے اکابرین کی انتھک محنت اور لازوال قربانیوں کی بدولت صحافت کو آزادی ملی اور قلم کی حرمت بحال ہوئی، مگر موجودہ حکمران طبقہ کالے قوانین متعارف کرا کر صحافتی آزادی سلب کرنے کے درپے ہے، جنہیں کسی صورت نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اگر اظہارِ رائے پر قدغن لگائی گئی تو ملک بھر کے ہزاروں صحافی اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکریٹری فنانس لالا اسد پٹھان نے 10 جنوری کو سکھر پریس کلب میں منعقد ہونے والے میڈیا لاز، ریگولیشنز اینڈ ایتھکس کے عنوان سے سندھ ریجنل جرنلسٹس کنونشن کی تیاریوں کے سلسلے میں روہڑی پریس کلب میں سکھر یونین آف جرنلسٹس (ایس یو جے) کے روہڑی یونٹ کی جانب سے منعقدہ موبلائزیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔لالا اسد پٹھان نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سننے اور ان کا حل نکالنے کے بجائے ایسے قوانین بنا رہی ہے جو صرف حکمرانوں کی حفاظت کے لیے ہیں۔ دنیا بھر میں قوانین عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائے جاتے ہیں، مگر پاکستان میں قانون سازی حکمران طبقے کی بقا اور مفادات کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہے۔ ایسے قوانین کسی ایک فرد یا طبقے کے خلاف نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے شکنجہ ہیں جو حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور اقدامات کو بے نقاب کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد میڈیا ملک کے پچیس کروڑ عوام کی آواز ہے اور صحافیوں کی زباں بندی دراصل عوام کی زباں بندی ہے۔ صحافی غریب عوام کے مسائل اجاگر کرتے ہیں، زیادتی کرنے والوں سے سوال کرتے ہیں اور انہیں عوامی عدالت کے سامنے بے نقاب کرتے ہیں، اسی وجہ سے آج صحافت کو دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔لالا اسد پٹھان نے کہا کہ قلم کے مزدور آج بھی بھوک، افلاس اور مشکلات کے باوجود مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس ملک کے حقیقی صحافیوں نے ہمیشہ سچ کی قیمت ادا کی ہے اور آئندہ بھی عوام کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی بالادستی کے لیے سب سے زیادہ جدوجہد صحافی برادری نے کی ہے، مگر آزاد صحافت سے متصادم کسی بھی کالے قانون کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ 10 جنوری کو سکھر پریس کلب میں منعقد ہونے والے سندھ ریجنل جرنلسٹس کنونشن میں سندھ کے 11 اضلاع سے صحافی شرکت کریں گے جبکہ ایک ہزار کے قریب صحافیوں کی شرکت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا قوانین اور اخلاقیات پر سنجیدہ اور بامقصد گفتگو وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ صحافتی اصولوں کی پاسداری، آزادیٔ اظہار کے تحفظ اور صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔انہوں نے سندھ بھر کے تمام حقیقی قلم کے مزدوروں سے اپیل کی کہ وہ اس کنونشن میں بھرپور شرکت کر کے صحافتی آزادی کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
تقریب سے سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی، جنرل سیکریٹری کامران شیخ، نائب صدر اسحاق کھوسو، سکھر پریس کلب کے صدر خالد بھانھبن، جنرل سیکریٹری احقر شاہ، خازن کاشف پھلپوٹو، رضوان لودھی، سینئر صحافی نثار ناز، رُک مسعود زیدی، غفور شیخ، فضل الرحمان بھٹو، عقیل قریشی، روہڑی پریس کلب کے صدر مجاہد بوزدار، ایس یو جے روہڑی یونٹ کے صدر عبدالجواد عباسی، جمشید قریشی، حیدر مستوئی، عثمان گنھیو سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے صحافیوں کو درپیش مسائل، پروفیشنل جرنلزم کے موجودہ چیلنجز، میڈیا اخلاقیات اور نوجوان صحافیوں کی تربیت و رہنمائی کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔