October 17, 2026

یہ رپورٹ اس امر کی نشاندہی کے لیے مرتب کی جا رہی ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا معاملہ اس وقت

Screenshot_2026-01-03_000052

یہ رپورٹ اس امر کی نشاندہی کے لیے مرتب کی جا رہی ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا معاملہ اس وقت معزز سندھ ہائی کورٹ سکھر میں زیرِ سماعت ہے، اس کے باوجود بورڈ کے معاملات میں غیر مجاز مداخلت کا سلسلہ جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اورنگزیب بھٹو (ایڈووکیٹ)، جن کی تقرری نہ تو اشتہار کے ذریعے عمل میں لائی گئی اور نہ ہی گورننگ باڈی میٹنگ سے اس کی منظوری لی گئی، خود کو کبھی سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ کا ایڈوائزر اور کبھی پرسنل سیکریٹری ظاہر کر کے لیبر کالونیوں، لیبر فلیٹس، زونل دفاتر اور بالخصوص ورکرز ویلفیئر بورڈ کے اسکولوں کے سرکاری دورے کر رہے ہیں۔
مزید یہ کہ موصوف کی جانب سے سرکاری ریکارڈ اور حساس دستاویزات کی جانچ پڑتال کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جو کہ واضح طور پر اختیارات سے تجاوز، سروس رولز کی خلاف ورزی اور عدالتی کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہے۔ چونکہ معاملہ عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے ایسی سرگرمیاں توہینِ عدالت کے زمرے میں بھی آ سکتی ہیں۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے تحت چلنے والے اسکول خستہ حالی کا شکار ہیں، لیبر اسکوائر سکھر کے فلیٹس شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور صفائی ستھرائی کا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں۔ اس کے باوجود ان بنیادی مسائل کے حل کے بجائے غیر مجاز افراد کے دورے ادارہ جاتی نظم و ضبط پر سوالیہ نشان ہیں۔
واضح رہے کہ بورڈ میں تمام مجاز ڈائریکٹرز، ڈپٹی ڈائریکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز تعینات اور موجود ہیں، لہٰذا کسی غیر قانونی طور پر مقرر شخص کی جانب سے سرکاری امور میں مداخلت نہ صرف غیر ضروری بلکہ قانون کے بھی خلاف ہے۔
سفارش کی جاتی ہے کہ اس غیر قانونی تقرری اور مداخلت کا فوری نوٹس لیا جائے، موصوف کو سرکاری امور اور دوروں سے فی الفور روکا جائے، اور معاملے کو قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جائے، تاکہ ادارے کو مزید قانونی پیچیدگیوں اور عدالتی کارروائی سے بچایا جا سکے۔