*تقدیر، اخلاق اور انسانی ذمہ داری* ہفتہ 03 جنوری 2026 تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*تقدیر، اخلاق اور انسانی ذمہ داری*
ہفتہ 03 جنوری 2026
تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
اے انسان!
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ تیری تقدیر کاتبِ تقدیر نے لکھ دی ہے۔ زندگی، موت، رزق اور آزمائشیں تیرے رب کے اختیار میں ہیں۔
لیکن یہ بھی ایک اٹل سچ ہے کہ تیرا اخلاق، تیرا کردار اور تیری کوشش تیرے اپنے اختیار میں ہیں۔
قرآنِ مجید انسان کو بے اختیار مخلوق نہیں بلکہ ذمہ دار ہستی قرار دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لقد خَلَقْنَا الإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾ (سورۃ التین: 4)
ترجمہ:
“بیشک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا۔”
یہ بہترین ساخت عقل، شعور، ارادہ اور اخلاقی انتخاب کی صلاحیت کا نام ہے۔
تقدیر اور اختیار کا توازن
بعض لوگ اپنی ناکامیوں اور بداعمالیوں کو تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، حالانکہ قرآن صاف اعلان کرتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ﴾ (سورۃ الرعد: 11)
یعنی انسان کی سوچ، جستجو اور کوشش اس کی تقدیر کے ظاہری رخ کو بدلنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری نہ ناری
یعنی انسان نہ پیدائشی طور پر فرشتہ ہے، نہ شیطان
وہ اپنے اعمال سے خود کو جنتی یا جہنمی بناتا ہے۔
اخلاق: اصل کامیابی کا پیمانہ۔
اسلام میں کامیابی کا معیار مال و منصب نہیں بلکہ حسنِ اخلاق ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔”(صحیح بخاری)
اور ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا:
“قیامت کے دن مومن کے میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی عمل نہ ہو گا۔” (سنن ترمذی)
یہی وجہ ہے کہ انسان مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے—
نہ جسم کے ساتھ، نہ نام کے ساتھ، بلکہ کردار کی خوشبو کے ساتھ۔
مرنے کے بعد یاد کیسے رکھا جاتا ہے؟
یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ
مرنے کے بعد سبھی کو یاد کیا جاتا ہے،
مگر فرق یہ ہوتا ہے کہ:
کسی کو دعاؤں میں یاد کیا جاتا ہے
اور کسی کو شکایتوں میں
کسی کے جانے پر خلا محسوس ہوتا ہے
اور کسی کے جانے پر بوجھ اترنے کا احساس۔
یہ فرق تقدیر نہیں بناتی،
یہ فرق انسان کے معاملات، اخلاق اور رویے بناتے ہیں۔
*دائمی زندگی کا راستہ*
اے مخاطب!
اگر تُو چاہتا ہے کہ تُو بھی ان لاکھوں لوگوں کی طرح
آئے اور گمنامی میں چلا جائے
تو جمود، خود غرضی اور بے عملی کو اپنا شعار بنا لے۔
لیکن اگر تُو چاہتا ہے کہ تیرا ذکر تیرے بعد بھی باقی رہے
تو اپنی ذات کو مٹا کر خلقِ خدا کے لیے جینا سیکھ۔
علامہ اقبال اسی حقیقت کو یوں بیان کرتے ہیں:
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
نتیجہ اور پیغام
یاد رکھو!
جو کچھ تیرے رب کی طرف سے ہے
اس پر تجھ سے سوال نہ ہو گا،
لیکن جو تجھے اختیار دیا گیا ہے۔ نیت، اخلاق، کردار اور عمل۔
اسی پر تیرا محاسبہ ہو گا۔
پس کوشش کر کہ:
تُو جینے میں بھی مثال بنے
اور مرنے کے بعد بھی اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے
اگر تُو اس میں کامیاب ہو گیا
تو یقیناً تُو نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا۔
ایک ناصح
انجینیئر نذیر ملک
سرگودھا