September 3, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سندھ شدید مسائل کی زد میں، عملی اقدامات ناگزیر ہیں: ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ

IMG-20251229-WA0286
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

Qسندھ شدید مسائل کی زد میں، عملی اقدامات ناگزیر ہیں: ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ

سکھرسید نصیر حسین زیدی(بیورورپورٹ)ممتاز سیاسی و سماجی رہنما ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ پاکستان کا قدیم، زرخیز اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہونے کے باوجود متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے۔ دریاؤں، گیس، بندرگاہوں اور دیگر قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود سندھ کا عام شہری آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم نظر آتا ہے۔اپنے بیان میں ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، مگر دریائے سندھ میں پانی کی قلت، اپ اسٹریم سے پانی روکے جانے اور غیر منصفانہ تقسیم کے باعث آبادگار شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹیل کے علاقوں تک پانی نہ پہنچنے سے زرعی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں جبکہ چاول، کپاس اور گنے کی پیداوار میں نمایاں کمی کے باعث ہاری اور کاشتکار معاشی بدحالی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ خصوصاً دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات انتہائی ناکافی ہیں۔سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی، ادویات کی قلت اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کے باعث خواتین اور بچوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نجی اسپتالوں کے بھاری اخراجات کے سبب دیہی آبادی کو معمولی علاج کے لیے بھی شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ نے تعلیم کی زبوں حالی کو سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں اسکول بند پڑے ہیں یا گھوسٹ اسکول بن چکے ہیں۔اساتذہ کی غیر حاضری، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی کمی اور نجی اسکولوں کی بھاری فیسوں کے باعث لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگاری اور مہنگائی نے سندھ کے نوجوانوں کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ روزگار کے محدود مواقع، صنعتوں کی بندش اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث عام آدمی کے لیے گزارہ مشکل ہو چکا ہے، یہاں تک کہ آٹا، تیل، چینی اور ادویات جیسی بنیادی اشیائے ضروریہ خریدنا بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکو راج، اغوا، ڈکیتیاں اور قبضہ مافیا نے سندھ کے امن کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ تاجر، زمیندار اور صنعتکار عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ پولیس نظام پر عوام کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے انفراسٹرکچر اور شہری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہروں اور دیہاتوں میں بنیادی ڈھانچہ انتہائی خستہ حال ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، ناقص نکاسی آب کا نظام، صاف پینے کے پانی کی قلت اور بارشوں کے دوران شہروں کا زیر آب آ جانا معمول بن چکا ہے۔ایڈووکیٹ سید شفقت علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ گیس، کوئلے، بندرگاہوں اور زرعی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مقامی لوگوں کو روزگار نہیں مل رہا اور وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ نہیں کی جا رہی، جس کے باعث عوام میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے مسائل ہمہ جہت اور سنگین نوعیت کے ہیں، جن کا حل محض دعوؤں اور اعلانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ شفاف حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، تعلیم و صحت کے شعبوں میں سنجیدہ سرمایہ کاری اور امن و امان کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر سندھ کے عوام کی آواز کو نظرانداز کیا گیا تو سماجی اور معاشی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0