راجہ حاجی غلام شبیر — خدمت، دیانت اور عوامی اعتماد کی علامت خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
راجہ حاجی غلام شبیر — خدمت، دیانت اور عوامی اعتماد کی علامت
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ایثار، ہمدردی اور باہمی تعاون پر استوار ہوتی ہے۔ ایسے معاشروں میں وہ شخصیات تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں جو منصب کو اختیار نہیں بلکہ امانت سمجھتی ہیں۔ سابق چیئرمین عشر و زکوٰۃ کمیٹی راجہ حاجی غلام شبیر کا شمار بھی انہی دردمند اور عوام دوست شخصیات میں ہوتا ہے، جنہوں نے خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے۔
راجہ حاجی غلام شبیر کی سماجی پہچان محض کسی عہدے تک محدود نہیں بلکہ ان کی اصل شناخت ان کا کردار، اخلاق اور عوام سے بے لوث محبت ہے۔ وہ ہر اس فرد کے دکھ درد میں شریک نظر آتے ہیں جو غربت، بیماری، بے روزگاری یا تعلیمی مسائل کا شکار ہو۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، فیصلوں میں انصاف اور طرزِ عمل میں عاجزی نمایاں ہے، جو انہیں ایک ہردلعزیز سماجی شخصیت بناتی ہے۔
بطور چیئرمین عشر و زکوٰۃ کمیٹی، راجہ حاجی غلام شبیر نے اپنے دور میں اس فلاحی نظام کو حقیقی معنوں میں فعال بنانے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ زکوٰۃ اور عشر محض مالی امداد نہیں بلکہ معاشرتی توازن قائم رکھنے کا ایک مضبوط ذریعہ ہیں۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنی ذمہ داری کے ایام میں مستحقین کی فہرستوں کی ازسرِ نو جانچ کی، شفاف تقسیم اور میرٹ کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا۔
ان کی ذاتی نگرانی میں بیواؤں، یتیموں، معذور افراد، بزرگ شہریوں اور نادار طلبہ تک امداد پہنچائی جاتی رہی۔ خاص طور پر تعلیم کے میدان میں ان کی کوششیں قابلِ صد ستائش ہیں، جہاں مالی مشکلات کے شکار ہونہار طلبہ کو تعلیمی وظائف فراہم کر کے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے ۔
راجہ حاجی غلام شبیر کی خدمات کا ایک نمایاں پہلو مستحق افراد کی عزتِ نفس کا مکمل احترام ہے۔ وہ کبھی بھی امداد کو تشہیر یا احسان کے طور پر پیش نہیں کرتے بلکہ خاموشی اور وقار کے ساتھ حق دار تک حق پہنچانے کو ترجیح دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں عشر و زکوٰۃ کمیٹی پر اعتماد دن بدن مضبوط ہوا۔
سماجی میدان میں بھی راجہ حاجی غلام شبیر کا کردار انتہائی متحرک اور مثبت ہے۔ وہ فلاحی تقریبات، تعلیمی سیمینارز، اصلاحی نشستوں اور مذہبی و سماجی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ نوجوانوں کو خدمتِ خلق، ایمانداری اور سماجی ذمہ داری کا درس دینا ان کے مشن کا اہم حصہ ہے۔
علاقے کے معززین، علماء کرام اور سماجی کارکنان اس بات پر متفق ہیں کہ راجہ حاجی غلام شبیر کی قیادت نے نہ صرف فلاحی نظام کو مضبوط کیا گیا بلکہ معاشرے میں بھائی چارے، ہمدردی اور اعتماد کی فضا بھی قائم کی ہوئ۔
راجہ حاجی غلام شبیر کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کو صرف سننے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ ان کے عملی حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرتے ہیں۔ ان کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے اور وہ بلا تفریق ہر فرد کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ یہی عوامی رابطہ انہیں ایک سچا عوامی نمائندہ بناتا ہے۔
ایک قابلِ تقلید شخصیت
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ راجہ حاجی غلام شبیر آج کے دور میں سماجی خدمت کا روشن استعارہ ہیں۔ ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال ہیں کہ اگر نیت خالص ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے سماجی کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔
اختتامیہ کے طور پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ راجہ حاجی غلام شبیر نہ صرف ایک کامیاب چیئرمین عشر و زکوٰۃ کمیٹی رہے بلکہ ایک ایسے انسان دوست رہنما بھی ہیں جن کی خدمات معاشرے کو مضبوط بنیادیں فراہم کر رہی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، استقامت اور مزید توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ اسی جذبے کے ساتھ انسانیت کی خدمت کرتے رہیں۔ آمین