166

گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے قیادت اجازت دے تو گرفتار کارکنوں کو تھانوں سے نکال کر باہر لائیں گے صوبائی حکومت اور ایوان صدر نے یہاں پیپلا راج قائم کرنے کی کوشش کی تو ہر صورت میں مزاحمت کریں گے دریجی کے متعلق پہلے جھوٹی مہم چلائی گئی پھر فورس بھیجھی گئی وہاں کچھ نہیں ملا تو اب حب میں کارکنوں کی

گرفتاریوں سے نہیں ڈرتے قیادت اجازت دے تو گرفتار کارکنوں کو تھانوں سے نکال کر باہر لائیں گے صوبائی حکومت اور ایوان صدر نے یہاں پیپلا راج قائم کرنے کی کوشش کی تو ہر صورت میں مزاحمت کریں گے دریجی کے متعلق پہلے جھوٹی مہم چلائی گئی پھر فورس بھیجھی گئی وہاں کچھ نہیں ملا تو اب حب میں کارکنوں کی گرفتاریاں شروع کردیں کب تک ضلع حب اور بلوچستان کو فورس کی سنگینوں کے سائے میں چلانے کی کوشش کرتے رہو گے اگر ڈاکو کو ڈاکو کہنا جرم ہے لینڈ گریبر کو لینڈ گریبر کہنا جرم ہے تو اس سے ہم باز انے والے نہیں اور نا ہی پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں قیادت فیصلہ کرے کہ اب کیا کرنا ہے باقی کارکن خود معاملات کو دیکھیں گے فورس ہمیں کیسے احتجاج کے حق سے محروم کرتی ہے اس کا فیصلہ اس وقت سڑکوں پر ہوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں