October 28, 2026

پہلے جہانگیر ترین اور علیم خان کے پی ٹی آئی چھوڑنے سے عمرانی انقلاب ختم ہوا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ پی ٹی آئی کے اصل مالک ہیں۔ اب پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے کے پیسے ملیں گے اور نہ ٹکٹ دینے کو امیدوار۔ اب جہانگیر ترین اور علیم خان کا نام بھی کوئی نہیں لیتا، پی ٹی آئی کے جلسے بھی ہوتے ہیں اور امیدواروں پر ریاستی جبر کے باوجود ٹکٹ کے خواہشمندوں کی قطار رہتی ہے۔

20240905_150006

پہلے جہانگیر ترین اور علیم خان کے پی ٹی آئی چھوڑنے سے عمرانی انقلاب ختم ہوا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ یہ پی ٹی آئی کے اصل مالک ہیں۔ اب پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے کے پیسے ملیں گے اور نہ ٹکٹ دینے کو امیدوار۔ اب جہانگیر ترین اور علیم خان کا نام بھی کوئی نہیں لیتا، پی ٹی آئی کے جلسے بھی ہوتے ہیں اور امیدواروں پر ریاستی جبر کے باوجود ٹکٹ کے خواہشمندوں کی قطار رہتی ہے۔

پھر جنرل باجوہ کے پی ٹی آئی کے خلاف ہوجانے سے عمرانی انقلاب ختم ہوا۔ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کو جنرل باجوہ نے سیلیکٹ کیا۔ آج جنرل باجوہ کا کوئی اتہ پتہ نہیں اور عمران خان کے بغیر کوئی سیاسی گفت گو مکمل نہیں۔

پھر تحریکِ عدم اعتماد سے عمرانی انقلاب ختم ہوا۔ اسی تحریک عدم اعتماد کے وقت پی ڈی ایم الیکشن سے بھاگ گئی۔ گیارہ اپریل کو لوگ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت گرائے جانے کے خلاف سڑکوں پر نکلے، ہر شہر میں نکلے اور بڑی تعداد میں نکلے۔ پھر ضمنی الیکشنز میں پی ٹی آئی کو لینڈ سلائیڈ فتوحات ملیں۔

پھر فیض حمید کی ریٹائرمنٹ سے عمرانی انقلاب ختم ہوا، لیکن پی ڈی ایم اور کمپنی ڈیڑھ سال الیکشن سے بھاگتی رہیں۔

پھر نو مئی سے عمرانی انقلاب ختم ہوا۔ بڑے پیمانے پر لوگوں سے پارٹی چھڑوائی گئی۔ کریک ڈاؤن کیا گیا، ملک دشمن قرار دیا گیا لیکن پی ٹی آئی کی مقبولیت بڑھ گئی۔

پھر عمران خان کے جیل جانے سے عمرانی انقلاب ختم ہوا۔ کہا گیا کہ نواز شریف کے جیل جانے کی وجہ سے ہی ن لیگ 2018 میں الیکشن ہاری تھی۔ عمران خان کے جیل جانے سے ان کا سحر بھی ٹوٹ جائے گا لیکن پی ٹی آئی پھر بھی الیکشن جیت گئی۔

پھر بلےّ کا نشان لیے جانے سے عمرانی انقلاب ختم ہوا۔ کہا گیا کہ پی ٹی آئی کا ووٹر سیاسی استقلال نہیں رکھتا اور بددل ہوگیا ہے، عوام جاہل ہیں اور جو آزاد لوگ جیتیں گے ان کو تو یقیناً خرید لیا جائے گا۔ ووٹر نے بینگن، چارپائی، پیانو اور ٹرائی سائیکل پر مہریں لگائیں اور پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار بھی نہیں بکے۔

پھر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل نہ کرنے پر عمرانی انقلاب ختم ہوا۔ نتیجہ سامنے ہے کہ پی ٹی آئی سے ڈیل کی ضرورت اس وقت دم توڑتی معیشت اور ڈوبتے ہوئے ملک کو ہے، عمران خان ہمت اور استقلال کی تصویر بنے جیل میں بیٹھے ہیں اور پارٹی ریاستی پابندی کے باوجود چل رہی ہے۔

آئندہ بھی عمرانی انقلاب مختلف موقعوں پر اسی طرح ختم ہوتا رہے گا اور عمران خان کی مقبولیت بڑھتی رہے گی کیونکہ عمران خان جس سماجی ارتقاء کی علامت بن گئے ہیں وہ ارتقاء فطرت کا تقاضا ہے اور یہ ارتقائی عمل سیاست و ریاست سے بہت بڑا فینومنیا ہے۔