November 1, 2026

کوآرڈینیٹر ٹو ایم این اے ایڈووکیٹ ملک وقاص احمد بگھور۔۔۔۔۔۔ہردلعزیز مثالی شخصیت خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

IMG-20250923-WA0175(3)

کوآرڈینیٹر ٹو ایم این اے ایڈووکیٹ ملک وقاص احمد بگھور۔۔۔۔۔۔ہردلعزیز مثالی شخصیت

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

تھل کی وسعتوں میں ایک نرم ہوا چلتی ہے جو سادگی، خلوص اور انسانی محبت کی خوشبو لیے صدیوں سے دلوں کو معطر کرتی رہی ہے۔ یہی خطہ اپنے اندر ایسی شخصیات کی پرورش کرتا ہے جو سیاست کو خدمت کی صورت میں اپناتی ہیں، اور معاشرت کو اخلاق و کردار کے زیور سے آراستہ کرتی ہیں۔ انہی تابندہ چراغوں میں ایک روشن، معتبر اور مقبول نام ہے—ایڈووکیٹ ملک وقاص احمد بگھور کا—جو بیک وقت ایک فعال سیاسی کارکن، کوآرڈینیٹر ٹو وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت مواصلات و ایم این اے انجینیئر ملک گل اصغر خان بگھور، عدالتی شعور کے حامل وکیل، اور دردِ دل رکھنے والے سماجی رہنما ہیں۔
وقاص احمد بگھور کی سیاسی زندگی کی بنیادیں شور و شرابے پر نہیں بلکہ تحمل، بردباری اور دلیل پر استوار ہیں۔ وہ سیاست کو محض طاقت یا اختیار نہیں سمجھتے بلکہ ایک امانت سمجھ کر نبھاتے ہیں۔
کوآرڈینیٹر ٹو ایم این اے انجئنیر ملک گل اصغر خان بگھور کی حیثیت سے وہ عوام اور ایوان کے درمیان ایک مضبوط اور معتبر پل ہیں۔ ایڈووکیٹ ملک وقاص بگھور رنگپور بگھور کہ معروف معزز زمیندار بگھور فیملی کے قابل فخر چشم چراغ ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی ا کی ذات والا صفات نے انہیں اعلی ا صلاحیتیں ودیعت کی ہیں ۔ وہ نہایت ہردلعزیز ، ،پروقار،ملنسار، بردبار ،ہنس مکھ اور معاملہ فہم شخصیت کے مالک ہیں ۔ موصوف علاقہ تھل کے عوام کی بے لوث خدمت کے عظیم جذبے سے سرشار ہیں ۔ راقم الحروف( راجہ نور الہی عاطف ) کے ساتھ میڈیا ٹاک کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے لیڈر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ممبر قومی اسمبلی انجینیئر ملک گل اصغر خان بگھور کے عوام دوست ویژن کے تحت علاقہ تھل کے عوام کی بے لوث خدمت کے لیے شب و روز اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے اور انشاءاللہ اس حوالے سے ہر گز کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ ملک وقاص احمد بگھور کی روزمرہ سیاسی سرگرمیوں میں سنجیدگی، مسائل کے حل میں ان کی چابک دستی اور کسی بھی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت انہیں عوامی حلقوں میں ’’مسئلہ فہم‘‘ اور ’’مسئلہ حل‘‘ شخصیت کے طور پر روشناس کراتی ہے۔
چاہے دھوپ کی تپش ہو یا موسم کی سختیاں—وقاص بگھور ہمیشہ اپنے لوگوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔
بیواؤں کے دکھوں کا درماں،
یتیم بچوں کی دستگیری،
بیماروں کا علاج،
اور نادار طلباء کی رہنمائی—
یہ سب ان کی روزمرہ سرگرمیوں کا لازمی حصہ ہیں۔
ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ کسی کی مدد کو خبر بنانے کے بجائے خیر کو پوشیدہ رہنے دینا پسند کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں نرمی، رویوں میں شائستگی اور دل میں انسانیت کا سچا درد انہیں وہ مقام عطا کرتا ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔
بذاتِ خود ایک قابل وکیل ہونے کے باعث انہیں قانون، انصاف اور شہری حقوق کا گہرا شعور حاصل ہے۔ یہی قانونی فہم انہیں عوام کے مسائل کو نہ صرف سمجھنے بلکہ ان کے حل تک پہنچانے میں غیر معمولی مدد دیتا ہے۔مشکلات کی پیچیدگیوں سے گذرتے ہوئے وہ ہمیشہ آئین اور قانون کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں، جو ان کے علمی وقار اور عملی سمجھ بوجھ کا ثبوت ہے۔
ملک وقاص بگھور کا دل نوجوانوں کی طرف خاص طور پر کھنچتا ہے۔ وہ انہیں مستقبل کا معمار ہی نہیں بلکہ موجودہ دور کی اصل طاقت سمجھتے ہیں۔ان کی سرپرستی میں بے شمار نوجوان سیاسی تربیت،
سماجی خدمت،اور شخصی کردار سازی
کے مراحل سے گزر کر آج معاشرے میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
وہ نوجوان نسل کو ہمیشہ محنت، نظم و ضبط، مثبت سوچ اور ترقی یافتہ شعور کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان کی محفل میں بیٹھنا خود ایک درس گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ملک وقاص احمد بگھور نرم گفتاری، پاکیزہ کردار اور وسیع الظرفی کا امتزاج ہیں۔
وہ اختلاف رکھتے ہیں مگر دلوں میں فاصلے پیدا نہیں ہونے دیتے۔وہ مقابلہ کرتے ہیں مگر کردار کو گوارا نہیں کرتے کہ کسی پر کیچڑ اچھالا جائے۔
وہ بات کرتے ہیں تو دلیل سے، اور فیصلہ کرتے ہیں تو دیانت سے۔
انہیں دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ سیاست اگر اخلاق اور کردار کے تابع ہو تو سماج کے لیے کتنی بڑی نعمت بن سکتی ہے۔
منصوبے سڑکوں کے ہوں یا اسکولوں کے، بجلی، پانی یا صحت کے—وقاص بگھور نے ہمیشہ اپنے علاقے کے لیے بڑھ چڑھ کر آواز اٹھائی۔ ان کی کوششوں سے متعدد ترقیاتی سکیمیں شروع ہوئیں، کئی مسائل حل ہوئے اور بے شمار کام عملی شکل اختیار کر گئے۔
وہ اپنی دھرتی کے ذرے ذرے سے محبت کرتے ہیں اور اسی محبت کے سبب دن رات اپنے علاقے کی بہتری کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
ایڈووکیٹ ملک وقاص احمد بگھور کی شخصیت ایک درخشاں چراغ کی مانند ہے جو نہ صرف آج کے تھل کو روشن کیے ہوئے ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔وہ خدمت کی زبان سمجھتے ہیں، محبت کا لہجہ اپناتے ہیں، اور سیاست کو انسانیت کی فلاح کا ذریعہ بناتے ہیں۔
ایسی ہستیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں—وہ اپنے کردار کی خوشبو سے صحراؤں کو بھی گلستان بنا دیتی ہیں۔

You may have missed