سبز انقلاب لانے کے لیے کسانوں کا کردار خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
سبز انقلاب لانے کے لیے کسانوں کا کردار
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی، خوشحالی اور معاشی خودکفالت کا سب سے مضبوط ستون اس کے کسان ہوتے ہیں۔ یہ وہ طبقات میں سے ہے جو دھوپ، مٹی، محنت اور پسینے کو یکجا کرکے قوموں کی زندگی کے چراغ روشن کرتا ہے۔ آج جب پوری دنیا “سبز انقلاب” کی نئی بنیادیں استوار کر رہی ہے، ایسے میں پاکستان میں بھی تبدیلی کی وہ ہوا چل چکی ہے جو زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی داعی ہے۔ اس انقلاب کے حقیقی معمار اور روحِ رواں بلا شبہ ہمارے کسان ہیں۔
کسان صرف زمین کو آباد نہیں کرتے بلکہ پوری معیشت کی شہ رگ کو متحرک رکھتے ہیں۔ دنیا کے بڑے زرعی ممالک نے اپنی ترقی کا سفر اس وقت شروع کیا جب انہوں نے اپنے کسان کو تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، بہتر مشینری، معیاری بیج اور سہولیات سے لیس کیا۔ کسی بھی ملک میں بھی کسان کی بنیاد مضبوط کرکے زرعی خودکفالت کی منزل حاصل کی جاسکتی ہے، کیونکہ سبز انقلاب کی کنجی کسان کے ہاتھ میں ہے۔
ہمارا کسان اگر جدید زرعی عمل، سائنسی رہنمائی اور معیاری تربیت سے آگاہ ہو جائے تو نہ صرف فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے بلکہ غذائی عدم تحفظ جیسے چیلنجز سے بھی نجات مل سکتی ہے۔ آج کے دور میں وہ ممالک ترقی یافتہ کہلاتے ہیں جنہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو زراعت کا لازمی حصہ بنا لیا ہے۔ ڈرون اسپرے، اسمارٹ فارمنگ، ڈیجیٹل زراعت، جدید نہری نظام اور سرمایہ کاری—یہ وہ اقدامات ہیں جو ایک مضبوط سبز انقلاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ کسان کو اس راستے میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے، جن میں موسمیاتی تبدیلی، مہنگائی، توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مارکیٹ کی غیر مستحکم صورتحال اور زرعی مداخل کی بلند قیمتیں شامل ہیں۔ اگر حکومتی سطح پر کسان کو سستے بیج، کھاد، مشینری اور آسان قرضے فراہم کئے جائیں تو کسان اپنی محنت کا کئی گنا بہتر نتیجہ دے سکتا ہے۔
سبز انقلاب کے لیے ضروری ہے کہ کسان کو محض زمین کا مزدور نہ سمجھا جائے بلکہ قوم کے محسن اور ترقی کے سفیر کے طور پر پہچانا جائے۔ دیہی معیشت کی مضبوطی ملک کو معاشی استحکام دیتی ہے، اور یہی استحکام بڑے شہروں کی خوشحالی اور صنعتی ترقی کا ضامن بنتا ہے۔ اس لیے کسان کی فلاح و بہبود صرف ایک طبقے کی ضرورت نہیں بلکہ پوری قوم کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سبز انقلاب صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں ہوتا، اس کے لیے کسان کی محنت، سائنسی رہنمائی، محققین کی تحقیق، ماہرین کی منصوبہ بندی اور معاشرے کی اجتماعی حمایت ضروری ہے۔ جب یہ تمام قوتیں یکجا ہو جائیں تو وہ وقت دور نہیں جب وطن عزیز ایک زرعی طاقت کے طور پر دنیا کے نقشے پر نئی شناخت کے ساتھ ابھرے گا—اور اس روشن مستقبل کی بنیاد ہمارے کسان ہی رکھیں گے۔