100

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی سکھر: سندھ ہائی کورٹ میں شوکت آباد کالونی کے مکینوں نے اپنے پلاٹس کو غیر قانونی طور زرعی زمین

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی
سکھر: سندھ ہائی کورٹ میں شوکت آباد کالونی کے مکینوں نے اپنے پلاٹس کو غیر قانونی طور زرعی زمین میں تبدیل کرنے کے خلاف درخواست دائر کی، جس کی سماعت کے دوران عدالت نے ڈی سی دادو، اسسٹنٹ کمشنر، مختیارکار، سب رجسٹرار، تپیدار اور دیگر متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 17 نومبر کو طلب کر لیا۔

سکھر: اطلاعات کے مطابق دادو میں شوکت آباد کالونی کے رہائشی وکیل الٰہی بخش جمالي کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سال 1995-96 میں شوکت حمید کی زرعی زمین کو رہائشی پلاٹس میں تبدیل کر کے ہاؤسنگ اسکیم کے تحت پلاٹس میں تقسیم کیا گیا، جن کی روینیو ریکارڈ میں اندراج کروائی گئی اور سال 2008 سے پلاٹس فروخت کیے گئے۔ ایجنٹ لیاقت دودانی جمالي نے خریداروں کو رجسٹریاں فراہم کیں۔

سکھر: تاہم سال 2022 تک کالونی میں اسکول، پارک، ڈرینیج، پینے کے پانی، باونڈری وال سمیت دیگر بنیادی سہولیات میسر نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے رہائشی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

سکھر: اب سال 2023 میں مرحوم شوکت حمید کے وارثوں نے روینیو اہلکاروں کے ساتھ مل کر رشوت دے کر پلاٹس کو غیر قانونی طور زرعی زمین میں تبدیل کرایا اور 26 گھوٹا اعجاز جمالي ولد لیاقت کو فروخت کر دیا۔

سکھر: رہائشی کالونی کی حیثیت بدلنے کا مقصد رہائشیوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ہے، جو قانون کے مطابق جرم ہے۔ رہائشیوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں آئین اور قانون کے تحت ان کا حق دلایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں