32

شکریہ پنجاب — سیاست میں عوام کی خاموش فتح

شکریہ پنجاب — سیاست میں عوام کی خاموش فتح

کبھی کبھی سیاست میں شور بہت ہوتا ہے، لیکن فیصلہ خاموشی کرتی ہے۔ پنجاب کی عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ شورش اور اشتعال انگیزی سے زیادہ اہم، امن اور استحکام ہے۔ مریم نواز کا “شکریہ پنجاب” کہنا دراصل اس عوامی شعور کا اعتراف ہے جو اس صوبے کی رگوں میں لہو کی طرح دوڑتا ہے۔

یہ وہی پنجاب ہے جس نے ہمیشہ ملکی سیاست کے رخ متعین کیے۔ جب بھی انتشار کی آندھی چلی، پنجاب کے کسی نہ کسی کونے سے عقل و تحمل کی ہوا ضرور چلی۔ آج بھی ایسا ہی ہوا۔ سیاسی مخالفین نے فتنہ انگیزی کی کوشش کی، مگر عوام نے اس کھیل میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔ سڑکیں بند کرنے والوں کو پنجاب کے گھروں سے کوئی آواز نہ ملی۔ ہجوم بنانے والوں کو ہاتھ نہ ملے، نعرے لگانے والوں کو کان نہ ملے۔ یہی خاموش بغاوت دراصل جمہوریت کی اصل روح ہے۔

مریم نواز نے جب عوام کا شکریہ ادا کیا، تو اس کے پیچھے صرف ایک سیاسی جملہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس طبقے کے لیے پیغام تھا جو روز قیمتوں، روزگار، اور عدم استحکام سے لڑ رہا ہے۔ ان کے “شکریہ” میں یہ احساس چھپا تھا کہ پنجاب کی عوام اب صرف تماشائی نہیں، بلکہ کردار ہیں — وہ کردار جو ملک کی سمت بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

آج کا پنجاب سیاسی بلوغت کی اس منزل پر کھڑا ہے جہاں ووٹ اور امن، نعرے اور نفرت سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ یہ خاموش فتح کسی جلسے میں نہیں منائی گئی، مگر اس کی گونج ایوانوں تک پہنچ گئی ہے۔ شاید اسی لیے اب وقت آگیا ہے کہ سیاست دان بھی یہ سمجھیں — پنجاب اب صرف سنے گا نہیں، فیصلہ بھی خود کرے گا۔

@@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں