43

کراچی، وہی شہر جو کبھی اپنی بندرگاہوں، جہازوں اور مچھلی پکڑنے والی کشتیوں سے پہچانا جاتا تھا

کراچی، وہی شہر جو کبھی اپنی بندرگاہوں، جہازوں اور مچھلی پکڑنے والی کشتیوں سے پہچانا جاتا تھا، اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والی پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس (PIMEC 2025) نے دنیا کی توجہ ایک بار پھر پاکستان کے بحری امکانات کی طرف مبذول کرائی ہے۔ چار روزہ اس نمائش میں چوالیس ممالک کے وفود اور درجنوں بین الاقوامی کمپنیاں شریک ہوئیں۔ ان کے درمیان سمندر، تجارت، اور ٹیکنالوجی کا ایک نیا رشتہ قائم ہوتا دکھائی دیا۔ لیکن سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ سب کچھ صرف تقریبات اور تصویروں تک محدود رہے گا، یا واقعی پاکستان اپنی بحری معیشت کو نئی زندگی دینے میں کامیاب ہو گا؟

کراچی، جو ملک کی نوے فیصد سمندری تجارت کا مرکز ہے، آج بھی بنیادی سہولیات کے لحاظ سے کمزور ہے۔ بندرگاہ کے اطراف خستہ حال سڑکیں، ٹریفک کا دباؤ، صفائی کے مسائل، اور سیکورٹی خدشات بڑے سرمایہ کاروں کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں۔ غیر ملکی نمائندوں نے جب کراچی پورٹ ٹرسٹ اور بن قاسم بندرگاہ کا دورہ کیا تو ان کے تاثرات میں امکانات کے ساتھ ساتھ حیرانی بھی نمایاں تھی۔ ان کے بقول یہ شہر اگر تھوڑا سا نظم و ضبط اور شفافیت اپنا لے تو جنوبی ایشیا کی بحری منڈی کا دل بن سکتا ہے۔

پاکستان نیوی نے اس نمائش میں اہم کردار ادا کیا۔ ایڈمرل نوید اشرف نے “بلو اکنامی” یعنی سمندری معیشت کے تصور کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندر کو صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ توانائی، مچھلیوں، معدنیات، اور سیاحت کے مواقع کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ سوچ اگر عملی صورت اختیار کر لے تو کراچی کی ساحلی پٹی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے سب سے بڑی شرط پالیسی کا تسلسل اور سیاسی مداخلت سے نجات ہے۔

یہ حقیقت اب ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے اکثر بڑے منصوبے سیاست اور کمیشن کلچر کے ہاتھوں برباد ہوئے۔ کئی بندرگاہی منصوبے فائلوں کی زینت بنے رہ گئے، کیونکہ ادارے اپنی اصل خودمختاری سے محروم تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ PIMEC 2025 صرف ایک تقریبی شو ثابت ہوتا ہے یا پھر یہ واقعی پاکستان کی سمندری تاریخ کا نیا باب رقم کرے گا۔

سمندر ہمیشہ ان قوموں سے وفا کرتا ہے جو اس کے وسائل کا احترام کرتی ہیں۔ کراچی کی لہریں آج بھی ہمیں پکار رہی ہیں — “استحصال نہیں، استعمال کرو۔” اگر یہ نمائش محض بیانات سے آگے بڑھ کر پالیسیوں میں ڈھل گئی تو یہ شہر پاکستان کی معیشت کا رخ بدل سکتا ہے۔ لیکن اگر ہم نے ایک بار پھر اس موقع کو کھو دیا، تو شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہی سوال کریں گی: “تمہارے پاس سمندر تھا، پھر بھی تم پیاسے کیوں رہے؟”

@@@@@@@@@@@@@@@@

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں