1 نومبر 1922ء کو سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ یہ وہ عظیم سلطنت تھی جو تقریباً 623 سال تک قائم رہی اور تین براعظموں ایشیا، یورپ اور افریقہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس 600 سالہ دور میں عثمانی سلطانوں نے اسلام، انصاف، علم اور تہذیب کو پوری دنیا میں پھیلایا۔ لیکن وقت کے ساتھ دشمنوں کی سازشوں، اندرونی کمزوریوں اور پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کی وجہ سے سلطنت بہت کمزور ہو گئی۔ جنگ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے انقرہ میں ایک نئی حکومت بنائی اور کہا کہ اب ترکی بادشاہت نہیں بلکہ عوام کی حکومت ہوگی۔ پھر 1 نومبر 1922ء کو ترکی کی اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ سلطنت اور خلافت دونوں ختم کر دی جائیں۔ اس کے بعد آخری عثمانی سلطان محمد ششم وحید الدین نے تخت چھوڑا اور ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ یوں ایک عظیم سلطنت ختم ہو گئی۔ مگر خلافت کو عارضی طور ختم نہیں کیا گیا بلکہ ایک علامتی خلیفہ عبد المجید کو مقرر کیا گیا تا کہ مسلمانوں میں غصہ نہ پھیلے۔ مگر پھر 3 مارچ 1924ء کو مصطفیٰ کمال اتاترک کی حکومت نے خلافت عثمانیہ کو بھی ختم کر دیا۔ اسی کے ساتھ اسلامی خلافت کا وہ طویل اور روشن دور مکمل طور پر ختم ہو گیا جو صدیوں تک امت مسلمہ کو ایک مرکز کے تحت جوڑے رکھتا تھا۔ یہ دن مسلمانوں کے لیے انتہائی دکھ بھرا تھا، کیونکہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ امت مسلمہ کا عالمی اتحاد بھی ٹوٹ گیا 😢۔
Copy
*اے پاکستان کے مقتدرو ذرا بیدار ہوجاؤ* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) تحصیل گڑھی خیرو میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے نئے
خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) محکمہ ء بہبود آبادی ضلع خوشاب کے زیر اہتمام ایجوکیشنل فیملی پلاننگ میلے کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ایکس سینیٹر
اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن خوشاب ملک شاہد اقبال — حسنِ کارکردگی کی روشن مثال خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
کھوڑہ (راجہ نورالہی عاطف سے) لاتعداد خوبصورت ڈرامے اور کتابوں کے مصنف گورنمنٹ کھوڑہ ہائی سکول کے عظیم معلم خدابخش مدت ملازمت پوری