*”مفتی اعظم یا مفتی پاکستان کون ھے”*
تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی
مفتی اعظم یا مفتی پاکستان، اس مفتی کیلئے یہ نام استعمال ہوتا ھے جو مسالک سے جڑا نہ ہوں وہ مفتی جو صرف اور صرف قرآن و سنت اور نبی کریم ﷺ اور خلافتِ راشدہ کے ادوار میں عملی طور پر مسلمان یا مومن ہوا کرتے تھے انہی کے نقشقدم پر ھو کیونکہ انکے مطابق قرآن پاک میں اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کے امتیوں کو مسلمین و مسلیمات اور مومنین و مومینات ہی کہا ھے کسی ایک کو بھی مسلک کے نام سے نہیں پکارا۔ اس طرح جو مفتی یا شیخ الحدیث خود کو کسی بھی مسلک سے جوڑے وہ ریاست یا امت کا امیر، امام، سربراہ، رہبر، پیر و فقیر ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا البتہ وہ کسی مسلک کو سربراہ یا امام ضرور ہوسکتا ھے۔ ایک مسلمان یا مومن قرآن و سنت کی کھلی مخالفت ہرگز ہرگز نہیں کرسکتا اگر کریگا تو گویا اس نے ازخود جان بوجھ کر اللہ و رسول ﷺ کی مخالفت میں کھڑا ہوگیا۔ قرآن میں اللہ نے واضع فرما دیا ھے۔ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪-وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ-وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (103)
ترجمہ: اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو اوراللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ پیدا کردیا پس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچالیا۔ اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔۔۔!!