51

عوامی پن کی پہچان — ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

عوامی پن کی پہچان — ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر

خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف

سیاست دراصل خدمتِ خلق کا دوسرا نام ہے۔ وہ سیاست جو عوام سے جڑی ہو، جس کا مرکز و محور انسانیت کی فلاح ہو، وہی دیرپا اثر چھوڑتی ہے۔ ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر جیسے رہنما امید کی ایک روشن کرن بن کر ابھرے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی سیاست کا مقصد کسی عہدے یا شہرت کا حصول نہیں بلکہ عوام کی خدمت، سماجی انصاف اور علاقائی ترقی کا فروغ ہے۔
ملک امجد رضا گجر کا شمار اُن سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ عوام کے دکھ درد کو ذاتی مشن کے طور پر لیا۔ وہ نہ صرف اپنے حلقے میں بلکہ دیگر نواحی علاقوں میں بھی ایک عوام دوست شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھلے رہتے ہیں۔ دیہاتی کسان ہو یا شہری مزدور، طالب علم ہو یا سائل ، ہر طبقے کے لوگ بلا جھجک ان سے رابطہ کرتے ہیں اور مطمئن لوٹتے ہیں۔ یہی وہ خلوص اور عوامی پن ہے جس نے انہیں دلوں کا رہنما بنا دیا ہے۔ حضرت عزیز نوجوان قانون دان ملک امجد رضا گجر فخر تھل جسٹس ریٹائرڈ جناب کاظم علی ملک کے صاحبزادے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی ا کی ذات والا صفات نے آپ کی پوری فیملی کو علاقہ بھر میں ممتاز مقام عطا کیا ہے ۔ آپ کے آبا و اجداد نے ان کی آبائی رہائش حویلی ملک غلام حسین گجر کو علاقائ عوام کی بے لوث خدمت کا محور و مرکز بنائے رکھا اور اب اس مشن کو ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر لے کر چل رہے ہیں ۔ ایڈووکیٹ امجد رضا گجر بے لوث عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں۔ انہوں نے کرونائ ایام وسیع و عریض علاقہ تھل کے قریہ قریہ میں جا کر عوامی خدمت کےلیے اپنے آپ کو وقف کئے رکھا ہے جس کی وجہ سے انہیں بھرپور عوامی اپنائیت حاصل ہے ۔اسی طرح جب صحراءے تھل میں کاشتہ فصلات چنا اور گندم ودیگر پر مکڑی نے یلغار کرکے فصلات کو نقصان پہنچانا شروع کیا تو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار ایڈوکیٹ ملک امجد رضا گجر مختلف مواضعات میں دن رات نہ صرف متاثرہ کسانوں کے معاون مددگار بنے بلکہ انہوں نے متعلقہ ارباب بست و کشاد سے اس عوامی پریشان حالی کے ازالہ کے لیے بھرپور رابطہ رکھا اور مختلف متاثرہ دیہاتوں میں محکمہ زراعت کی ٹیموں کی بھی معاونت کی ۔ جس کو تھل کا کسان طبقہ آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ ایڈ ووکیٹ ملک امجد رضا گجر ہردلعزیز، ملنسار ،پروقار، ہنس مکھ ، بردبار اور معاملہ فہم شخصیت کے مالک ہیں وہ اپنی توانائیوں کو عوامی فلاح و بہبود پر صرف کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔
ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر نے مختلف مواقع پر راقم الحروف (راجہ نورالہی عاطف ) کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران تھل کے عوام کی اجتماعی تعمیروترقی کو اپنا محورومقصد قرار دیا ۔ بطور سابق مشیر وزیرِاعلیٰ پنجاب، انہوں نے ہمیشہ عوامی خدمت کے اصولوں کو مقدم رکھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی ترقی صرف انفراسٹریکچر سے نہیں بلکہ انسانی فلاح سے ممکن ہے۔ ان کی ترجیحات میں تعلیم، صحت، روزگار اور انصاف کی فراہمی ہمیشہ سرفہرست رہی۔
ملک امجد رضا گجر اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عوامی قیادت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب وہ اقتدار سے باہر بھی عوام کے ساتھ کھڑی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انتخابات کے موسم سے ہٹ کر بھی اپنے علاقے کے لوگوں کے درمیان موجود رہتے ہیں۔ وہ کسی پروٹوکول یا فاصلے کے قائل نہیں، بلکہ عاجزی اور خلوص ان کی سیاست کی بنیاد ہیں۔
نوجوانوں کے حوالے سے ان کی سوچ ہمیشہ مثبت اور متحرک رہی ہے۔ وہ نوجوان نسل کو پاکستان کا مستقبل قرار دیتے ہیں اور انہیں تعلیم و روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ “ترقی کا سفر اُس وقت ممکن ہے جب نوجوان خود کو اس کا حصہ سمجھیں، محض ناظر نہیں۔” یہی فکر ان کے وژن کو وسعت اور پائیداری بخشتی ہے۔
ایڈووکیٹ ملک امجد رضا گجر کا طرزِ سیاست رواداری، برداشت اور خدمت سے عبارت ہے۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی احترام کا رشتہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ مثبت گفتگو کے حامی رہے ہیں۔ یہی سیاسی شائستگی انہیں ہر طبقے میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جانے کا باعث بنتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ملکی سیاست میں ملک امجد رضا گجر جیسے مخلص، دیانتدار اور عوامی مزاج رکھنے والے رہنما زیادہ ہوں تو وطنِ عزیز میں خدمت، یکجہتی اور انصاف کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ وہ اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں کہ سیاست اگر خلوص اور عوامی درد سے کی جائے تو یہ عبادت بن جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں