*کالم: ہنی ٹریپ گینگ معاشرتی زوال کی ایک بھیانک تصویر*
*ٹوبہ ٹیک سنگھ امن، ادب اور شرافت کا شہر۔ مگر افسوس کہ حالیہ دنوں میں اس شہرِ خموشاں کی فضاؤں میں ایک ایسی خبر نے ہلچل مچا دی ہے جس نے نہ صرف عوامی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق شہر میں ایک منظم “ہنی ٹریپ گینگ” سرگرم تھا جو اوورسیز پاکستانیوں اور صاحبِ حیثیت شہریوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں کے جال میں پھنسا کر نہ صرف ان سے لاکھوں روپے ہتھیا لیتا بلکہ ان کی عزت و آبرو کو بھی داؤ پر لگا دیتا۔تحقیقات کے مطابق یہ گروہ انتہائی چالاکی اور منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتا تھا۔ گینگ میں شامل خواتین مردوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے اپنے گھروں پر بلاتیں، جہاں خفیہ کیمروں کے ذریعے ان کی غیر اخلاقی ویڈیوز بنائی جاتیں۔ اسی دوران دیگر ساتھی — مسلح اور تربیت یافتہ موقع پر پہنچ کر متاثرہ شخص کو بلیک میل کر کے نقدی، موبائل فون، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء چھین لیتے۔ذرائع کے مطابق گینگ کا ایک اہم رکن پولیس کا حاضر سروس کانسٹیبل حافظ قاسم تھا، جس کی موجودگی نے عوامی اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ بعض مبینہ رپورٹس کے مطابق اس گینگ کی پشت پناہی کچھ با اثر شخصیات اور سابق ایس ایچ او حضرات بھی کر رہے تھے، جن کے نام جلد منظرِ عام پر آنے کی توقع ہے۔تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ گینگ کے قبضے سے درجنوں برہنہ ویڈیوز، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ثبوت برآمد ہوئے ہیں۔ ان شواہد میں بعض ملزمان خود کو “CCD پولیس” کا اہلکار ظاہر کرتے ہوئے متاثرین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے نظر آئے۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کئی متاثرین خوف، عزت اور سماجی دباؤ کے باعث شکایت درج نہیں کراتے، جبکہ بعض رپورٹس کے مطابق چند متاثرہ افراد ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی تک کر چکے ہیں۔یہ معاملہ صرف ایک کرائم اسٹوری نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کی خوفناک علامت ہے۔ جب قانون کے رکھوالے خود قانون شکن بن جائیں، جب عزت کے محافظ ہی عزت لوٹنے لگیں، تو پھر انصاف کا نظام کس در پر جا کر فریاد کرے؟اس سانحے میں ایک پیغام پوشیدہ ہے:اگر ہم نے اپنے معاشرتی نظام، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی، اور شہری شعور کی بیداری پر توجہ نہ دی تو “ہنی ٹریپ” جیسے گینگ ہمارے گھروں کی دیواروں تک رسائی حاصل کر لیں گے۔پولیس کے اعلیٰ افسران خصوصاً ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ فریاد چیمہ قابلِ ستائش ہیں جنہوں نے بروقت کارروائی کر کے اس گینگ کو بے نقاب کیا۔ ان کی کوششیں یقینی طور پر شہر کے امن و انصاف کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم ہیں۔آخر میں یہی دعا ہے کہ قانون کی گرفت مضبوط ہو، انصاف شفاف ہو، اور معاشرہ اس اندھیرے سے روشنی کی طرف لوٹ آئے۔*