یہ کوئی ریلوے اسٹیشن نہیں،
رپوٹ وجئے کمار واسوانی
انٹر نیشنل دعا أن لائین نیوز
بلکہ سندھ کی دوسری بڑی
سول اسپتال حیدرآباد کی حقیقت ہے!
جہاں مریضوں کے لواحقین علاج کی سہولت کے انتظار میں راستوں اور دیواروں کے سائے تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
ست (7) ارب روپے کی بھاری بجٹ کے باوجود، انسانیت اب بھی اذیت میں مبتلا ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
آخر یہ بجٹ کہاں خرچ ہوتا ہے؟
کیا عوام کے علاج، آرام اور عزت کے لیے مختص یہ وسائل کبھی اُن تک پہنچ پائیں گے؟
اسپتالوں کی حالت زار اور عوام کی بے بسی ایک المیہ نہیں — ایک سوالیہ نشان ہے، جس کا جواب اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو دینا ہوگا۔