*عمران خان کی آج اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو*
*عمران خان کی آج اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو*
*• جنرل فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا، فوج جنرل ریٹائرڈ فیض حمید سے تفتیش کررہی ہے یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے، مجھے اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے، جنرل فیض حمید کا احتساب کررہے ہیں اچھی بات ہے، لیکن پھر یہ سب کا احتساب کریں*
*عمران خان*
*• آئی بی کی رپورٹس تھیں کہ موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان ہر وقت جنرل باجوہ کے پاس بیٹھے رہتے تھے، جنرل باجوہ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے کہنے پر جنرل فیض حمید کو ہٹایا تھا، جنرل فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخ کلامی ہوئی تھی*
*عمران خان*
*• جنرل فیض حمید نے ملک سے دہشتگردی ختم کرنے کا مکمل پلان بنا کر دیا تھا، فیض حمید کے طـالبان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، وہ 3 سال تک طـالبان کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا، میں بار بار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو کہتا رہا کہ فیض حمید کو نہ ہٹائیں، باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے کیلئے فیض حمید کو ہٹایا اور آئی ایس آئی کو پی ٹی آئی کے پیچھے لگا دیا*
*عمران خان*
*• آج تمام طـالبان ہمارے خلاف ہو چکے ہیں، روزانہ ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں، آپ جو مرضی آپریشن کر لیں یہ سرحد کراس کر کے دوسری جانب چلے جائیں گے اور دوبارہ واپس آ جائیں گے*
*عمران خان*
*• یہ کہتے ہیں کہ میں نے طـالبان کے ساتھ معاہدے کئے اور انہیں واپس لا کر ٹھہرایا، اگر ایسی بات ہے تو اب کراس بارڈر دہشت گردی کیوں ہو رہی ہے؟ ہمارے دور میں کیوں دہشت گردی نہیں ہوئی؟ جنرل فیض، زلمے خلیل زاد اور طـالبان کو میرے پاس لے کر آیا تھا، اب جتنی دہشت گردی ہو رہی ہے اس کا ذمہ دار جنرل ریٹائرڈ باجوہ کو ٹھہراتا ہوں*
*عمران خان*
*• نواز شریف اور شہباز شریف کی شرط تھی کہ فیض حمید کو ہٹائیں، فیض حمید کو ہٹانے پر میری جنرل باجوہ سے سخت تلخی ہوئی تھی، فیض حمید کو اس لیے میں نہیں ہٹانا چاہتا تھا کیونکہ وہ طـالبان اور افغان حکومت کے ساتھ انگیج تھا، ہمارے پاس پاکستان میں دہشت گردی ختم کرنے کا سنہری موقع تھا*
*عمران خان*
*• خواجہ آصف نے کہا ہے جنرل ریٹائرڈ باجوہ مزید ایکسٹینشن چاہتے تھے، یہ میرے موقف کی تائید ہے، جنرل باجوہ نے اپنی ایکسٹینشن کے لیے میری حکومت گرائی*
*عمران خان*
*• سڑکوں پر نکلنے لگے ہیں پارٹی کو تیار رہنے کو کہا ہے*
*عمران خان*
*• یہ چاہتے ہیں پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ ملیں اور یہ آئینی ترمیم کر سکیں، یہ اب تیسری دفعہ آئین شکنی کر رہے ہیں، پہلے 90 روز میں انہوں نے الیکشن نہیں کروائے، پھر اکتوبر میں بھی الیکشن سے بھاگ گئے، اب یہ تیسری دفعہ آئین میں ترمیم کرنے جا رہے ہیں*
*عمران خان*
*• ان کا مسئلہ یہ ہے 8 فروری کو پی ٹی آئی الیکشن جیت گئی،چیف جسٹس اور الیکشن کمیشن اب فراڈ الیکشن کوچھپا رہے ہیں*
*عمران خان*
*• چیف الیکشن کمشنر، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ لندن پلان کا حصہ تھے، قاضی فائز عیسیٰ کو فیض آباد کمیشن اور بھٹو کا کیس یاد آگیا، ہماری پٹیشن نہیں سن رہے*
*عمران خان*
*• خواجہ آصف نے کہا ہے فیض حمید کا ۹ مئی کے واقعات سے براہ راست تعلق ہے، سارا معاملہ میری گرفتاری سے شروع ہوا، اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جا رہی؟ اگر ۹ مئی فیض حمید نے کروایا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیں، ۹ مئی دراصل لندن پلان کا حصہ تھا، جہاں جہاں آگ لگی، وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز غائب ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے لائیں اور ہمیں قصور وار ثابت کریں، جس نے میری گرفتاری کا آرڈر دیا وہی سازش میں ملوث ہے*
*عمران خان*
*• مخصوص نشستوں کے فیصلے پرعمل نہ کرکے یہ آئین کی تیسری مرتبہ خلاف ورزی کرینگے، پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہ دینے اور آئین کی خلاف ورزی پر میں پارٹی کو ابھی سے تیار کررہا ہوں، ہم سڑکوں پر نکلیں گے*
*عمران خان*
*عمران احمد خان نیازی، ۱۵ اگست 2024، اڈیالہ جیل*