September 4, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

“سیلسٹے کا سانحہ اور ہماری اجتماعی غفلت”

IMG-20250923-WA0272(2)
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

“سیلسٹے کا سانحہ اور ہماری اجتماعی غفلت”

دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جہاں کمزور کی حفاظت نہ ہو، وہاں تہذیب کا چراغ بجھ جاتا ہے۔ سیلسٹے ریواس ہرنینڈیز کا حالیہ سانحہ، جس نے امریکہ کو ہلا دیا، صرف ایک ملک کا واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے دل پر لگا ہوا ایک گھاؤ ہے۔ پندرہ برس کی ایک کلی، جو ابھی زندگی کے خواب دیکھ رہی تھی، اچانک اندھیروں کی نذر ہو گئی۔

یہ قصہ ہمیں اپنے زخم یاد دلاتا ہے۔ پاکستان میں بھی قصور کی زینب سے لے کر اندرونِ سندھ اور پنجاب کے دیہاتوں تک معصوم بچیاں ظلم اور ہوس کا شکار ہوتی رہی ہیں۔ ہمارے ہاں ہر واقعے کے بعد کچھ دن شور مچتا ہے، احتجاج ہوتا ہے، انصاف کے نعرے بلند ہوتے ہیں، مگر پھر دھیرے دھیرے سب کچھ خاموش ہو جاتا ہے۔ گویا ہم اجتماعی طور پر بے حسی کے عادی ہو چکے ہیں۔

صوفیاء کرام نے انسانیت کو ہمیشہ ایک بدن قرار دیا۔ حضرت بایزید بسطامیؒ فرمایا کرتے تھے: “جو دل کسی اور کے دکھ پر نہ تڑپے، وہ دل دل نہیں، پتھر ہے۔” آج ہم سب کو اپنے دلوں کی جانچ کرنی ہے کہ کیا وہ ابھی بھی انسانیت کی حرارت رکھتے ہیں یا پتھر بن چکے ہیں؟

سیلسٹے کی لاش ایک ٹیسلا میں برآمد ہوئی — جدید دنیا کی ایک علامت۔ اس سے بڑا تضاد کیا ہوگا کہ مشینیں ترقی کر گئیں مگر دل اجڑ گئے۔ مولانا رومیؒ نے کہا تھا: “علم و ہنر سے پہلے اپنے باطن کو درست کرو، ورنہ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں۔” ہمارے ہاں بھی یہی حال ہے۔ عدالتیں ہیں، پولیس ہے، ادارے ہیں، لیکن انصاف نہیں۔

پاکستانی معاشرہ اگر اپنے بچوں کو محفوظ نہ بنا سکا تو یہ گویا اپنی روح بیچنے کے مترادف ہے۔ بُلھے شاہؒ نے کہا تھا:
“بچے معصوم خدائی رنگ، انہاں وچ رب دے جلوے سنگ”
یعنی بچے خدا کی معصوم تجلی ہیں، ان کا دکھ دراصل خدا کے نور کی بے حرمتی ہے۔

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ بچہ صرف ماں باپ کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی امانت ہے۔ اگر ہم نے اس امانت کو ضائع کیا تو نہ صرف اپنی دنیا کھوئیں گے بلکہ اپنی روح بھی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں انصاف کو مضبوط کیا جائے، پولیس کو ایمانداری کے ساتھ جواب دہ بنایا جائے، اور معاشرے میں یہ شعور بیدار کیا جائے کہ ہر بچہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہمیں اپنے محلوں کو محفوظ، اپنے اسکولوں کو محفوظ، اور اپنی گلیوں کو محفوظ بنانا ہوگا۔

سیلسٹے کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت ایک جسم ہے۔ اگر ایک عضو زخمی ہو تو پورا بدن کراہتا ہے۔ اگر امریکہ کی ایک بچی کے لیے دنیا اشکبار ہے تو یہ ہمارے لیے بھی صدا ہے کہ اپنے گھر، اپنی گلی، اپنے محلے میں موجود ہر سیلسٹے کو بچایا جائے۔

وقت کے دھارے کبھی رکتے نہیں۔ جو قومیں اپنے بچوں کو محفوظ نہ کر سکیں، وہ تاریخ کے ملبے تلے دفن ہو جاتی ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم صوفیاء کی اس نصیحت کو اپنائیں گے کہ “دل کو دل سے راہ ہوتی ہے” یا پھر یونہی بے حسی کے اندھیروں میں ڈوبے رہیں گے؟

@@@@@@@@@@@@

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0