1972 میں شیریں مزاری (جو اس وقت شیریں مہرالنساء انصاری مزاری کے نام سے جانی جاتی تھیں) نے پنجاب کے ضلع راجن پور میں واقع موضع کچہ
1972 میں شیریں مزاری (جو اس وقت شیریں مہرالنساء انصاری مزاری کے نام سے جانی جاتی تھیں) نے پنجاب کے ضلع راجن پور میں واقع موضع کچہ میانوالی میں ریونیو ڈیپارٹمنٹ کی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات کے ذریعے تقریباً 1386 کنال (تقریباً 173 ایکڑ) سرکاری زمین پر قبضہ کیا۔ یہ زمین ایم ایس پروگریسو فارم لمیٹڈ کے نام پر حاصل کی گئی تھی، لیکن دستاویزات میں خریدار اور بیچنے والے کے دستخط اور انگوٹھے کے نشانات غائب تھے۔
1975 میں، 26 مئی کو فیڈرل لینڈ کمیشن نے اس ڈیل کو جعلی قرار دے دیا اور دستاویزات کو بوگس ڈکلیئر کیا۔ اس کے باوجود، شیریں مزاری نے یہ زمین پرووینشل لینڈ کمیشن کو واپسن نہیں کی، انہوں نے ریکارڈ میں کاٹ پیٹ اور چھیڑ چھاڑ کی۔ یہ کیس کئی دہائیوں تک زیر التوا رہا اور کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
2022 میں، مارچ 11 کو راجن پور کے ڈپٹی کمشنر نے اس معاملے کی شکایت درج کروائی اور انکوائری کی ہدایت کی۔ اپریل 9 کو یہ ریفرنس انٹی کرپشن پنجاب کو بھیجا گیا، اور اپریل 11 کو ڈیرہ غازی خان میں انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) پنجاب نے شیریں مزاری کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ الزام تھا کہ اصل ریکارڈ غائب کیا گیا اور جعلی دستاویزات کے ذریعے زمین ہڑپ کی گئی۔
مئی 21، 2022 کو شیریں مزاری کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے باہر انٹی کرپشن اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے گرفتار کر لیا۔ ان کی بیٹی ایمان مزاری نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ مرد پولیس اہلکاروں نے ان کی ماں کو مارا پیٹا اور اغوا کر لیا۔ پی ٹی آئی لیڈرز نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا، کیونکہ یہ گرفتاری عمران خان کی حکومت گرنے کے بعد نئی حکومت کے دور میں ہوئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسی دن یا اگلے دن شیریں مزاری کی رہائی کا حکم دیا۔ گرفتاری کے بعد شیریں مزاری نے عدالت میں یہ کیس سیاسی مخالفین کی سازش قرار دیا۔
ایسے کرکے ماں بیٹی نے کھیل ختم پیسہ زمین ہضم کیا
میری حکام بالا سے اپیل ہے کہ شیریں مزاری عرف ٹریکٹر ٹرالی کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے
ایم اے راجپوت خانیوال