سکھر۔ یورو ۔۔۔ دعا آن لاین ۔یوز۔۔۔ سید۔ نصیر حسین زیدی چمن کو لگ گئی کس کی نظر خدا جانے
سکھر۔ یورو ۔۔۔
دعا آن لاین ۔یوز۔۔۔
سید۔ نصیر حسین زیدی
چمن کو لگ گئی کس کی نظر خدا جانے
اگر زیادہ پیچھے نہ بھی جائیں تو آج سے تقریبا پندرہ سے سولہ سال پہلے تک جشن آزادی کو جس عقیدت، جوش و خروش اور جذبے سے منایا جاتا تھا آج اسکی ذرا بھر بھی جھلک نظر نہیں آتی سرکاری سطح کی اگر بات کی جاۓ تو پھر بھی جشن آزادی کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جاتی ہیں لیکن ماضی میں عوامی سطح پر جشن آزادی کو بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے منایا جاتا تھا پر اب نہ جانے کس کی نظر لگ گئی مجھے آج بھی اپنے بچپن اور اسکول دور کے وہ دن یاد آتے ہیں جب بھی اگست کا مہینے کا آغاز ہوتا تو ہم سب بڑی بے صبری سے چودہ اگست والے دن کا انتظار کرتے جیسے عید کے دن کا انتظار کیا جاتا ہے اور تیرہ اگست سے ہی چودہ اگست(جشن آزادی)کی تیاریاں شروع کردیتے ہم سب بہن بھائیوں نے ملکر اپنا پورا گھر جھنڈیوں سے سجانا اس ٹائم جھنڈیاں لگانے کے لیے آٹے کی مخصوص لیوی کا استعمال کیا جاتا اور کافی محنت درکار ہوتی تھی لیکن پھر بھی تقریبا گاؤں کے تمام گھروں میں جھنڈیاں اور جھنڈے لگے نظر آتے تھے اور ملی نغموں کی آوازیں گلیوں محلوں میں گونج رہی ہوتی تھی ایک الگ ہی سماں ہوتا تھا لیکن اس کے برعکس آج کل تو ہر چیز تیارشدہ مل جاتی ہے پر جوش و جذبے اور عقیدتیں مدھم پڑھ گئی ہیں اور کچھ آج کل کی نئی نسل کو شاید جشن آزادی کی اہمیت کا صحیح طرح سے ادراک بھی نہیں کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے اور آزادی حاصل کرنے کے لیے ہمارے آباؤاجداد نے کتنی لازوال قربانیاں دیں ہمیں تو آزادی جیسی بہت بڑی نعمت مفت میں مل گئی شاید اسلیے ہم اسکی قدر نہیں کرتے آزادی کی قدر ان سے پوچھیئے جو آج کے دور میں بھی آزادی جیسی بہت بڑی نعمت سے محروم ہیں۔اگر ویسے نہ بھی بتاسکیں تو کم از کم اگست کے مہینے میں ماں باپ اپنے بچوں کو اور اساتذہ کرام اپنے شاگردوں کو یہ بات ضرور بتائیں کہ ہم نے آزادی کس سے حاصل کی،کیوں حاصل کی،کیسے حاصل کی اور ہمارے آزادی کے ہیروز کون ہیں۔۔۔؟کس کا کتنا کردار رہا وغیرہ یہ سب ان کو تفصیل سے بتائیں کہ چودہ اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن ہمارا پیارا وطن پاکستان ہمارے آباؤ اجداد کی لازوال قربانیوں کے بعد معرض وجود میں آیا آج کی میری اس تحریر کا بنیادی مقصد یوم آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور نوجوان نسل کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ جذبہ حب و الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اپنی تمام سیاسی وابستگیوں کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ دل سے اور جوش و جذبے سے جشن آزادی کو منائیں۔
یہ وطن ہمارا ہے
ہم ہیں پاسباں اس کے۔
ہے جرم اگر وطن کی مٹی سے محبت
تو یہ جرم سدا میرے حسابوں میں رہے گا۔
سچ بتاؤں تیری محبت میں ہار بیٹھے ہیں
. . . . . . . . . . . اے ارض وطن
بس اک تیرے اور صرف تیرے ہو بیٹھے ہیں
خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔
💟