شخصیت، کیپٹن عاصم ملک/ترجمان اوورسیزپاکستانیز(مقیم۔دبئی)۔ انٹرویو/ تصاویر، نثار بیٹنی
شخصیت، کیپٹن عاصم ملک/ترجمان اوورسیزپاکستانیز(مقیم۔دبئی)۔
انٹرویو/ تصاویر، نثار بیٹنی
*تعارف*
*متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں مقیم معروف پاکستانی سیاسی و سماجی شخصیت کیپٹن(ر) عاصم ملک کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، وہ اس وقت اوورسیز پاکستانیوں کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں جبکہ ماضی میں وہ اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے چیف کوارڈینیٹر برائے مڈل ایسٹ بھی رہ چکے ہیں اور مختلف آرگنائزیشنز اور فلاحی تنظیموں کے عہدوں پر بھی رہے ہیں، کیپٹن(ر) عاصم ملک اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں اور وہ اس سلسلے میں متعدد بار حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں، عوامی مسائل پر کھل کر بات کرنے والے کیپٹن(ر) عاصم ملک وسیع سیاسی و سماجی خدمات رکھتے ہیں اور ان کا پاکستان، پاکستانیت اور اوورسیز پاکستانیوں کے بارے میں ایک واضح موقف ہے، وہ پچھلے کئی سالوں سے اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف فورمز پر آواز اٹھارہے ہیں اور پر امید ہیں کہ ان کی یہ کوششیں ایک نہ ایک دن ضرور بارآور ثابت ہوں گی*
انٹرویو،،
اوورسیز پاکستانی بیرون ملک پاکستان کے بلامعاوضہ سفیر ہیں یہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنے ملک کا نام روشن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، پاکستانیوں کی کثیر تعداد خلیجی ممالک میں عشروں سے روزگار کے سلسلے میں رہ رہے ہیں، خلیج کے دو اہم ملک متحدہ عرب اور سعودی عرب میں کافی تعداد میں پاکستانی رہتے ہیں جو وطن کی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں، مشرق وسطی میں مقیم اوورسیز پاکستانی مختلف مسائل سے دوچار ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، مشرق وسطی میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے میں پیش پیش ایک اہم پاکستانی شخصیت کیپٹن عاصم ملک کی ہے جو نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے میں بھی لگے ہوئے ہیں، بطور ترجمان اوورسیز پاکستانیز کیپٹن عاصم ملک کی اب تک کی کارکردگی بہت شاندار ہے اور وہ پرعزم ہیں کہ بہت جلد اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل ہوجائیں گے، گزشتہ دنوں ان سے طویل گفتگو کی ایک نشست ہوئی، اس نشست میں اوورسیز پاکستانیوں کے ترجمان کیپٹن عاصم ملک نے کئی امور پر کھل کر بات کی، انہوں نے کہا کہ میرے والد فرید ملک معروف ڈاکٹر(ڈینٹسٹ) تھے، وہ 1971 میں دوبئی آئے میرے والد صاحب نے یہاں پر اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل دیکھے تو ان کے حل کے لیے کمر کس لی میرے والد صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ عرب امارات کی طرف سے انٹرنیشنل کرکٹ امپائر بھی رہے اور انہوں نے کئی کرکٹ میچ سپروائز کیے، کیپٹن عاصم ملک نے کہا کہ میری پیدائش دبئی میں ہوئی، میں یہی پلا بڑھا اور جوان ہوا ہوں میں چونکہ خود بھی اوورسیز پاکستانی ہوں اس لئے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہوں، بچپن سے اپنے والد کے ساتھ رہا اور انہیں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا لہذا والد صاحب کا یہی جذبہ میرے دل میں بھی پیدا ہوا اور میں نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو مختلف پلیٹ فارمز پر اجاکر کرنا شروع کیا، انہوں نے کہا کہ میں جب بھی پاکستان آتا ہوں تو یہاں پر حکومتی شخصیات سے ضرور ملتا ہوں اس سلسلے میں حکومتی وزراء، مشیروں اور دیگر آفیشلز سے بھی خصوصی ملاقاتیں کیں، میں نے ہر بار حکومتی عہدیداروں کو اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سے آگاہ کیا اور اس سلسلے میں ان وزرا اور مشیروں نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل میں خصوصی دلچسپی لی، مجھے امید ہے کہ بہت جلد اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل ہوجائیں گے اور ان کے مسائل حل ہونے بھی چائیں کیونکہ اوورسیز پاکستانی ہزاروں میل وطن سے دور ملک کی معیشت کی بہتری کے لیے محنت کررہے ہیں اور کثیر سرمایہ پاکستان بھیجتے ہیں، ان کا پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو کئی مسائل درپیش ہیں جن میں ویزے کی مدت میں توسیع، پاسپورٹ کی تجدید، صحت کی ناکامی سہولیات اور معیاری تعلیمی اداروں کا فقدان شامل ہے، مشرق وسطی میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کو مناسب صحت کی سہولیات بھی میسر نہیں اور پاکستانی کمیونٹی ہاسپٹلز میں سہولیات کا فقدان ہے جب کہ متحدہ عرب امارات میں قائم پاکستانی تعلیمی ادارے علم پھیلانے کی بجائے کاروباری اداروں کی شکل اختیار کرچکے ہیں، کیپٹن عاصم ملک نے کہا کہ جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو یہاں پر سرحد یونیورسٹی راس الخیمہ کیمپس بن گیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس جیسے دیگر پاکستانی تعلیمی اداروں کو بھی یہاں اپنے کیمپسسز بنانے چائیں تاکہ اوورسیز پاکستانی بچے بھی اعلی تعلیم حاصل کر کے دنیا کی دیگر اقوام کے بچوں کے مقابلے پر آسکیں، ایک اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے انہوں کہا کہ یہاں پر کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو ویزٹ ویزہ اور آزاد ویزہ کے نام پر پاکستانی عوام کو بیوقوف بناتے ہیں اور ان سے پیسے لیکر دیارغیر میں بے یارومدد گار چھوڑ دیتے ہیں اس لیے میں تمام پاکستانیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آزاد ویزے کا کوئی تصور نہیں، یہ سب جھوٹ ہے کچھ پاکستانی وزٹ ویزہ اور آزاد ویزہ کے نام پر معصوم پاکستانیوں کو لوٹ رہے ہیں جس کا سدباب ضروری ہے پاکستانی ایسے ایجنٹوں پر بلکل اعتبار نا کریں اور اور دبئی یا خلیج کے کسی ملک میں بسلسلہ روزگار جانے کے لیے قانونی طریقہ کار اپنائیں تاکہ ان کے پیسے ضائع نہ ہوں اور یہاں آکر ان کو مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے، میں حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ایسا گھناؤنا کردار ادا کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے کیونکہ ان ممالک میں ایسے لوگ پاکستان اور پاکستانیوں کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ایک سوال کے جواب میں کیپٹن عاصم ملک نے کہا کہ میں یہاں پر صرف پاکستانی ہوں اور میرا کسی بھی جماعت سے کوئی تعلق نہیں، میرے لیے تمام پاکستانی برابر ہیں اور میری کوشش ہے کہ میں یہاں پر تمام پاکستانیوں کے ساتھ روابط قائم کرکے ان کے مسائل کو زیادہ سے زیادہ حل کرنے کی کوشش کروں کیوں کہ میں خود بزنس مین ہوں اور اس لیے باشعور لوگوں کو اکٹھا کرکے پاکستانیوں کے مسائل کے حوالے سے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، الحمدللہ اوورسیز پاکستانی میری جدوجہد اور میری کوششوں سے مطمئین ہیں اور وہ مجھے اس حوالے سے مکمل سپورٹ کر رہے ہیں، کیپٹن عاصم ملک نے کہا کہ مشرق وسطی میں اوورسیزپاکستانی اپنے وطن کے قومی تہواروں اور متحدہ عرب امارات کے تہواروں پر بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں اور عرب امارات کے قومی دن سمیت 14 اگست، 23 مارچ، 25 دسمبر، 6 ستمبر، عیدین، یوم قائداعظم اور یوم اقبال سمیت دیگر قومی تقریبات کو باقاعدگی سے مناتے ہیں، ان تقریبات میں اوورسیز پاکستانی متحدہ عرب امارات کے بھائیوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانی بہت بڑے محب وطن ہیں اور وہ ملک سے باہر پاکستان کے لیے فکر مند رہتے ہیں، پاکستان میں ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے غیرمعمولی واقعہ سے پریشان ہو جاتے ہیں، حکومت کی طرف سے اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے پیش کردہ بل پر اظہارخیال کرتے ہوئے کیپٹن عاصم ملک نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا جو حق دیا جارہا ہے یہ حق صرف ان اوورسیز پاکستانیوں کو دینا چائیے جو پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر ہیں، ووٹ کا حق دوہری شہریت رکھنے والے افراد کو نہیں دینا چاہیےکیونکہ دوہری شہریت رکھنے والے اوورسیز پاکستانی نہیں ہیں، دوہری شہریت رکھنے والے دو کشتیوں کے سوار ہوتے ہیں جبکہ اوورسیز پاکستانی پاکستان سے باہر روزگار کے سلسلے میں عارضی طور پر نوکری یا کاروبار کی غرض سے مقیم ہوتے ہیں ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہوتا ہے اور ایک مخصوص مدت کے بعد وہ اپنے پاسپورٹ کی تجدید کراتے ہیں لہذا حکومت پاکستان ووٹ کا حق صرف اوور سیز پاکستانیوں کو دے، میں یہ بات دہراتا ہوں کہ دوہری شہریت والے اوورسیز پاکستانی نہیں ہیں انہیں اوورسیز پاکستانی نہیں کہا جا سکتا جس طرح دوہری شہریت رکھنے والے الیکشن نہیں لڑ سکتے اسی طرح دوہری شہریت والوں کو ووٹ کا حق بھی نہیں ملنا چاہیے، جس طرح الیکشن لڑنے کے لیے دوہری شہریت والوں کو دوسرے ملک کی شہریت کو ترک کرنا پڑتا ہے اسی طرح اگر ووٹ کا حق بھی ان کو دینا ہے تو انکو دوسرے ملک کی شہریت چھوڑنی پڑے گی، انکا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کو دوہری شہریت والوں اور اوور سیز پاکستانیوں کے درمیان فرق کو سمجھنا چاہیے اوورسیز پاکستانی اپنے وطن کی خاطر عارضی طور پر دوسرے ملکوں میں مقیم ہوتے ہیں اور وہ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد ہوتے ہیں جبکہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستان کے ساتھ ساتھ کسی اور ملک کے بھی شہری ہوتے ہیں لہذا ان کی پاکستان کے لیے دیانت داری اور حب الوطنی پر سوالیہ نشان ضرور ہوتا ہے اس لیے حکومت پاکستان کو اس حوالے سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چائیے، ایک سوال کے جواب میں کیپٹن عاصم ملک نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے یہاں پر جو مسائل اوورسیز پاکستانیوں کو درپیش ہیں ان میں سے کئی بیان سے باہر ہیں کئی پاکستانی خلیجی ممالک کی مختلف جیلوں میں معمولی جرمانہ ادا نا کرسکنے کی وجہ سے برسوں سے قید کاٹ رہے ہیں انکی معمولی قانونی اور مالی معاونت کرکے انہیں رہائی دلائی جاسکتی ہے، اسی طرح انکے کے لیے صحت کی سہولیات ناکافی ہیں اور ان کے لیے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں پاکستانی بچوں کا تعلیمی معیار بہت نیچے ہے جسے اوپر لانے اور اوورسیز پاکستانیوں کو مسائل سے آزاد کرنے کے لئے میں تمام پلیٹ فارم استعمال کررہا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد ڈاکٹر فرید ملک کے مشن کو لے کر چل رہاہوں اور جب تک میرے جسم میں سانس باقی ہے میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں رہونگا اس سلسلے میں انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی کہ خدارا اپنے آپ کو پہچانئے اور یہاں پر سیاسی جماعتوں کا حصہ بن کر اپنا وقت برباد مت کریں، ایک پاکستانی ہونے کا مظاہرہ کریں تاکہ آپ کے مسائل بہتر طریقے سے حل ہو سکیں کیونکہ یہاں پر تمام پاکستانیوں کو مسائل درپیش ہیں چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے، کسی بھی علاقے سے اور کسی بھی زبان سے ہے تمام پاکستانیوں کو ایک جیسے ہی مسائل کا سامنا ہے لہذا میری ان سے گزارش ہے کہ وہ میرے ہاتھ مضبوط کریں، اکر ہم میں اتفاق رہا تو ہم اپنے مسائل بھرپور طریقے سے حل کرسکیں گے، اپنے پیغام میں کیپٹن عاصم ملک نے کہا کہ پاک فوج پاکستان کی سرحدوں کی ضامن ہے پاک فوج ہے تو ہم ہیں پاکستانی قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے اور یہ فخر ہونا بھی چاہیے کیونکہ پاک فوج دنیا کی بہترین فوج ہے یہ ہماری فوج ہے، پاکستان کی فوج ہے اور ہم پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور ان کو منزل مقصود تک پہنچانے کے حوالے سے اپنی افواج کی کاوشوں، قربانیوں اور شہادتوں کا نہ صرف اعتراف کرتے ہیں بلکہ ان کو قدر اور محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، 14 اگست کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ 14 اگست ناصرف پاکستان کی آزادی کا دن ہے بلکہ کے لاکھوں مسلمان بہن، بھائیوں اور بزرگوں کی شہادت کا دن بھی ہے، پاکستان ان عظیم شہادتوں کی بدولت معرض وجود میں آیا اور اس کے حصول کے لیے برصغیر کے تمام مسلمانوں نے جانی و مالی قربانیوں دیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، آج کے دن ہمہیں عہد کرنا چائیے کہ ہم مملکت خداداد پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایمانداری، دیانتداری اور لگن سے کام کرینگے