152

21 جون کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات 1527ء۔۔۔یورپ کا ممتاز سیاسی مفکر نکولو مکیاویلی 3 مئی 1459ء کو اٹلی کے شہر فلورنس (فیرنزے) میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ متوسط طبقے

21 جون کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

1527ء۔۔۔یورپ کا ممتاز سیاسی مفکر نکولو مکیاویلی 3 مئی 1459ء کو اٹلی کے شہر فلورنس (فیرنزے) میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ متوسط طبقے مگر اشراف کے گھرانے سے تھا اور وکالت کرتا تھا۔ مکیاویلی کا دور دراصل یورپی ممالک کی باہمی رقابت، محلاتی سازشوں اور سیاسی تبدیلیوں کا ہے۔ اس کے دور اندیش اور حساس ذہن نے ان سب کا زبردست اثر قبول کیا۔ اس نے سیاسیات پر اپنے تاثرات کوعقلیت کی کسوٹی پر پرکھ کر ریاست کے عروج و زوال کے اسباب بیان کیے اور1513ء میں (Il Principe) ’’بادشاہ‘‘ جیسی یگانہ روزگار کتاب لکھی۔

1957ء۔۔جوہنس سٹارک جرمنی کے ایک طبیعیات دان تھے، جنھیں 1919ء میں نوبل انعام برائے طبیعیات دیا گیا جس کی وجہ کینال ریز میں ڈوپلر ایفکٹ اور مقناطیسی میدان میں اسپیکٹرل لائن کے مڑ جانے کی دریافت تھی۔

1914ء۔۔برتھا فان ستنر چیک آسسٹریلین ناول نگار اور امن کارکن تھیں۔ وہ پہلی خاتون تھی جنھیں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ انھیں یہ انعام 1905ء میں دیا گیا۔

1377ء برطانیہ میں کنگ ایڈورڈ سوئم انتقال ہوا۔

1893ء اسٹینفورڈ یونیورسٹی (امریکہ) کے بانی لیلنڈر اسٹینفورڈ کا انتقال ہوا۔

1906ء آل انڈیا کانگریس کے پہلے صدر ویومیش چندر بنرجی کا انتقال ہوا۔

1940ء بدنام زمانہ ہندو تشدد پسند تنظیم آر ایس ایس کے بانی کیشور راوَ بلی رام ہیڈ گیوار کی موت ہوئی۔

2018ء۔۔پاکستان کے سابق سفیر جمشید مارکر کراچی میں انتقال ہوا۔جمشید مارکر نے 1964 میں افریقی ملک گھانا میں بطور سفیر اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔جمشید مارکر کو دنیا میں طویل ترین مدت تک سفیر رہنے کا اعزاز حاصل تھا، جس پر ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا تھا۔جمشید مارکر کو دنیا میں طویل ترین مدت تک سفیر رہنے کا اعزاز حاصل تھا۔وہ عمر قریشی کے ساتھ کرکٹ کے ابتدائی کمنٹیٹر بھی ہے۔انہیں فرانسیسی، جرمن اور روسی زبان بولنے پر عبور حاصل تھا۔

2021ء۔۔عثمان خان کاکڑ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر اور بلوچستان کے منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ 21 جولائی 1961ء کو ضلع قلعہ سیف اللہ کی تحصیل مسلم باغ میں پیدا ہونے والے عثمان کاکڑ نے معیشت میں ماسٹرز اور ایل ایل بی کر رکھا ہے۔ دورِ طالب علمی سے سیاسی زندگی کا آغازکیا، 1977ء میں پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہوئے اور تنظیم کے مرکزی اول سیکرٹری (سربراہ) کی حیثیت سے کام کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پشتونخوامیپ کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست شروع کی۔ 2002ء بلوچستان اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ عثمان کاکڑ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی کنوینئر اور پشتونخوا نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کی مرکزی کنویننگ کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں ۔ عثمان کاکڑ 21 جون 2021 بروز سوموار خالق حقیقی سے جاملے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں