October 28, 2026

میں (محمد حارث) آج اپنے تمام سوشل میڈیا سے منسلک افراد سے التماس کر رہا ہوں کہ اس پوسٹ کو پڑھ کر براہ کرم آواز بلند کیجیئے گا

FB_IMG_1754365566570

میں (محمد حارث) آج اپنے تمام سوشل میڈیا سے منسلک افراد سے التماس کر رہا ہوں کہ اس پوسٹ کو پڑھ کر براہ کرم آواز بلند کیجیئے گا

تصویر میں نظر آنے والا نوجوان میری والدہ کے چچا زاد بھائی کا بیٹا زین رشید ہے ۔۔۔ جب بھی بچپن میں ننھیال جانے کا اتفاق ہوا تو اس کے ساتھ خوب گپ شپ و کھیل کود ہوتی ۔۔

وقت گزرتا گیا اور پھر اللہ کے فضل میں سے اپنے رزق کی تلاش میں اس نوجوان نے فوڈ پانڈا رائیڈر کے طور پے اپنی خدمت لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 6 میں انجام دینا شروع کر دی اور خوب محنت کی

گزشتہ دو دن قبل 31 جولائی بروز جمعرات کو بوقت صبح 5 بجے کے قریب یہ نوجوان جب اپنے گھر جا رہا تھا تو ڈی ایچ اے میں 2 نوجوان جو کہ اپنی گاڑی کو زگ زیگ شکل میں چلاتے ہوئے پیچھے سے اسے ہٹ کیا جس سے یہ نوجوان اپنے بائیک سمیت گاڑی (AVF-837) کے فرنٹ سائڈ میں پھنس گیا ۔۔ اور سر پے گہری چوٹ لگی

بجائے یہ کہ گاڑی میں موجود دونوں لڑکے گاڑی روکتے ۔۔ الٹا فرار اختیار کرتے ہوئے گاڑی کو بھگایا جس سے گاڑی یہ نوجوان تقریبا 300 میٹر تک اسی حالت میں گھسیٹتا چلا گیا اور بالآخر اس کی موت موقع پے ہی واقع ہو گئی ۔۔ اور اس طرح یہ محنت کرنے والا نوجوان اپنی زندگی کی بازی ہار کر صاحب اثر افراد کی اولاد کی عیاشی کی بھینٹ چڑھ گیا

مجرمان موقعہ پے ہی زیر حراست لے لیے گئے ۔۔ اور ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ۔۔ مجرمان کے پاس کسی قسم کا ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا اور نا ہی کوئی آئی ڈی کارڈ ۔۔۔ تحقیق کرنے پے معلوم ہوا کہ مجرمان کسی بااثر افراد کی اولاد ہیں ۔۔ اور زیر حراست میں آنے کے بعد بھی ان کی باڈی لینگوئج سے اندازہ ہو رہا کہ کسی قسم کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے

میری اپنے تمام منسلک افراد سے التماس ہے کہ اس پر بات کریں کریں ۔۔ اور سوشل میڈیا پے اس ظلم کے خلاف آواز کو اٹھائیں ۔۔ سوشل میڈیا کی طاقت کا بھرپور فایدہ اٹھائیں ۔۔ تا کہ آئندہ کوئی اور نوجوان اس طرح کی عیاشیوں کی بھینٹ نا چڑھ سکے اور مجرمان کو ان کے لیے کی بھرپور سزا ملے ۔۔۔ زین تو دنیا سے چلا گیا وہ اب کبھی نہیں آ سکتا ۔۔ لیکن ہم کم از کم اس کے لیے انصاف کے حصول کی خاطر آواز کو تو اٹھا سکتے ہیں.

Hafiz Muhammad Haris