یکم اگست 1947 کی صبح کچھ بے قراری، کچھ امید، اور بہت ساری بےیقینی کے ساتھ طلوع ہوئی۔ گلیوں میں ہلکی سی ہَوا تھی مگر فضا
یکم اگست 1947 کی صبح کچھ بے قراری، کچھ امید، اور بہت ساری بےیقینی کے ساتھ طلوع ہوئی۔ گلیوں میں ہلکی سی ہَوا تھی مگر فضا بوجھل تھی، جیسے وقت سانس روک کر کھڑا ہو۔ برصغیر کی زمین پر ایک نئی مملکت کا خواب اب فقط تصور نہیں رہا تھا بلکہ اس کی حقیقت کی چاپ ہر سمت سنائی دینے لگی تھی۔ دہلی، لاہور، کراچی، بمبئی، لکھنؤ، پشاور—ہر شہر میں، ہر قہوہ خانے، ہر مدرسے، ہر اخباری اسٹال پر ایک ہی بات چل رہی تھی: پاکستان کب بنے گا؟ کس طرح بنے گا؟ اور ہم کہاں کھڑے ہوں گے؟
قائداعظم محمد علی جناح کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر دن بھر مصروف رہے۔ ان کے سامنے فائلوں کا ڈھیر تھا، فیصلوں کے دباؤ تھے، اور قوم کی نظریں۔ وہ مختصر بولتے تھے مگر ان کے الفاظ میں آنے والے پاکستان کی بنیادوں کی لکیر کھینچی جا رہی تھی۔ اسی دن دہلی میں وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اعلان کیا کہ 14 اگست کو پاکستان اور 15 اگست کو بھارت آزادی حاصل کریں گے۔ یہ اعلان کاغذ پر آسان لگتا تھا مگر زمین پر زلزلے کی مانند تھا۔ ہر دل دھڑکنے لگا، ہر آنکھ کسی اَن دیکھی دنیا کا خواب سجانے لگی۔
لاہور کا دل تقسیم کی تلوار کے نیچے دھڑک رہا تھا۔ شہر کی فضاؤں میں ایک ان کہی بےچینی تھی۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ لاہور پاکستان میں آئے گا یا بھارت میں چلا جائے گا۔ دیواروں پر “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لکھے جا رہے تھے، بچوں کے ہاتھوں میں سبز رنگ کی پرچم نما پتنگیں تھیں، مگر بزرگوں کی آنکھوں میں خدشات کی نمی تھی۔ ریڈیو سروس کے دفاتر میں نئے ملک کے لیے الگ نشریاتی ڈھانچے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ انجینئرز، مدیران، اور نوجوان رپورٹرز ریڈیو پاکستان کی بنیاد رکھنے میں مصروف تھے۔ ادھر کراچی میں نوجوان لڑکے دیواروں پر چونے سے “یہ میرا پاکستان ہے” لکھ رہے تھے۔
دہلی، علی گڑھ، آگرہ جیسے علاقوں سے مسلم خاندان خاموشی سے رخت سفر باندھنے لگے تھے۔ نہ ان کے پاس پاسپورٹ تھے، نہ ویزا، صرف ایک یقین تھا—پاکستان ہمارا ہے۔ وہ چھوٹے بچوں کو لے کر، ماؤں کو سہارے دے کر، بھینسیں اور سامان ساتھ لیے، پنجاب اور سندھ کی طرف رواں دواں تھے۔ ان کے قدموں میں تھکن ضرور تھی، مگر ان کے دلوں میں ایک نعرہ گونجتا تھا—لے کے رہیں گے پاکستان۔
مدارس میں، درسگاہوں میں، رضاکار نوجوانوں کی تنظیمیں دن رات ایک نئی ریاست کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے سرگرم تھیں۔ کچھ لڑکیاں سلائی مشینوں پر سبز جھنڈے سیتے ہوئے ہونٹوں ہی ہونٹوں میں “پاکستان کا مطلب کیا” کا ترانہ گنگناتی تھیں۔ کوئی مسجد کے باہر عوامی جلسے کی تیاری کر رہا تھا، تو کوئی مسجد کے اندر شکرانے کی نفل ادا کر رہا تھا۔
شام کو سورج ڈوبا تو فضا میں اذان کی آوازیں بلند ہوئیں۔ جیسے یہ وقت خود سجدے میں جا رہا ہو۔ ایک چائے خانے میں بیٹھے بوڑھے شخص نے اپنا کپ رکھتے ہوئے کہا، “پتر، ساڈی آزادی سچ اے؟” سامنے بیٹھے نوجوان نے مسکرا کر جواب دیا، “بابا جی، ایہہ خواب نہ رہ جائے، اوہدی خاطر اسی ساں جان وار دیاں گے!” ان دو جملوں میں پوری قوم کا حال چھپا تھا۔
یکم اگست کا دن تاریخ کے کاندھوں پر رکھا ایک ایسا لمحہ تھا، جہاں سے خواب اور حقیقت کا فاصلہ کم ہونا شروع ہوا۔ رات کی خاموشی میں، دور کہیں سے یہ آواز آئی، “بس تھوڑا اور صبر… پاکستان آ رہا ہے۔”