*عمران خان کی میڈیا سے غیر رسمی گفتگو_*
*_میں پاکستان کے لئے مذاکرات کرنا چاہتا ہوں،اپنی ذات یا حکومت کے لئے مذاکرات کرنا نہیں چاہتا،پہلے بھی کہا تھا اگر میرے پیچھے ہٹنے سے ملک کو فائدہ ہوتا ہے مجھے مطمئن کریں میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں،محمود خان اچکزئی اگر کوئی آفر لے کر آئیں گے تو پھر مذاکرات کرنے کا سوچیں گے،مذاکرات ایسے تو نہیں ہوتے،ہم نے محمود خان اچکزئی کو سیاسی اتحاد کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دی ہے، ن لیگ سے ہم کیا مذاکرات کریں؟ کیا موسم کی بات کریں؟ اگر مذاکرات کئے تو ان کی حکومت چلی جائے گی،اس وقت ملک کراسس میں ہے،حکومت نے اپنے خرچے کم نہیں کیے جو تکلیف دہ بات ہے،موجودہ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول نہیں بناسکی،ملک کو سرجری اور مینڈیٹ والی حکومت کی ضرورت ہے جو ریفارمز کرکے ملک کو بچا سکے،پاکستان زندگی موت کی جنگ لڑ رہا ہے،موجودہ بجٹ نے ثابت کیا کہ مینڈیٹ کے بغیر حکومت ریفارمز نہیں کرسکتی،پروفیشنلز اور قوم پر ٹیکسوں کی بارش کردی گی،یکم جولائی کو آنے والے بجلی بلوں کے بعد قوم کے ہوش اڑ جائیں گے،لوگوں کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے، عوام نے اب سڑکوں پر آنا ہے،ایسی قانون سازی کی گی کہ حوالہ ہنڈی سے پیسہ ملک سے باہر بھیجنے کو روکنے کا طریقہ ہی موجود نہیں،کے پی میں لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر گنڈا پور سے کیے گے وعدے کو توڑا گیا،بجلی چوری پرانا مسئلہ ہے، حیدر آباد، سندھ، کوئٹہ میں بھی بجلی چوری ہوتی ہے،کے پی کے عوام علی امین گنڈا پور کو برا بھلا کہہ رہی ہے وہ کہاں جائے،علی امین گنڈا پور سے ملاقات سے کبھی انکار نہیں کیا،سپرنٹنڈنٹ جیل میرے ملاقاتیوں کی فہرست سے نام نکال دیتا ہے،شیرافضل مروت لندن کی ٹھنڈی ہوائیں لے رہا ہے،ایک طرف کہتے ہیں خزانہ خالی ہے دوسری طرف مریم نواز اپنی تشہیر پر اربوں روپے خرچ کررہی ہے،اڈیالہ جیل میں بیٹھے میجر اور کرنل کے خلاف بدھ سے کیس دائر کریں گے، ہدایات جاری کردی ہیں،ملک میں کونسی سے ایسی پارٹی ہے جس میں گروپنگ موجود نہیں ہے،احسن اقبال نے مجھے 5 سال جیل میں رکھنے کا کہہ کر عدلیہ کی توہین کی ہے،سنئیر وفاقی وزیر کے اس بیان کے بعد یہ ظاہر ہے ملک میں قانون کی حکمرانی موجود نہیں،احسن اقبال ایسے بیانات کس منہ سے دے رہے ہیں،میرے چھوٹے سے کمرے میں پنکھا بند ہو تو وہ اوون بن جاتا ہے،کے پی میں تو 22 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ جاری ہے،اڈیالہ جیل میں دو اچھے افسران تھے جنہیں یہاں سے تبدیل کردیا گیا،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بلال کو اڈیالہ جیل سے تبدیل کیا گیا،جس شخص نے فراڈ الیکشن کرائے وہ ہمیں انصاف کیسے دے سکتا ہے،شہباز شریف کے 5، نواز شریف کے چار، مریم نواز کے 2 اور زرداری کے 10 مقدمات نئے قانون بنا کر ختم کرائے گے،این آر او 2 میں بہت بڑا فراڈ کیا گیا،ایسی ترامیم کی گئی جو بنانا ری پبلک میں بھی نہیں کی جاتی،نیب قوانین میں ترامیم کرکے اپنی چوریاں چھپائی گی،ملک کا قرضہ ادا کرنے کے لیے مزید قرض لینا پڑیں گے، عدلیہ کا امتحان ہے وہ کمزور کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے یا طاقتور کا ساتھ دیتی ہے،بھارت نے ہمارے بریگیڈئیر کو قتل کردیا ہے اور آئی ایس آئی یہاں لگی ہے کون جیل آسکتا اور کون نہیں آسکتا۔۔۔