285

ایک عہد ساز شخصیت بابائے صحافت طارق علی بھٹو (مرحوم) تحریر: چودھری وسیم طارق بھٹو

ایک عہد ساز شخصیت بابائے صحافت طارق علی بھٹو (مرحوم)
تحریر: چودھری وسیم طارق بھٹو
یقیناََ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دنیا میں دوسروں کے لئے مشعل راہ ہوتے ہیں اور شعبہ صحافت میں خاص طور پر اپنالوہا منوانا اور دوسروں کے لئے ایک مثال بننااور مثال بھی ایسی جس کو صدیوں یاد رکھا جائے آج ایک ایسی ہستی کو قلم کی زینت بنا رہا ہوں بلکہ اس ہستی کو لکھتے ہوئے قلم کو فخر محسوس ہو رہا ہوگا صحافت کی دنیا میں ضلع اوکاڑہ کے صحافیوں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھنے والے میرے والد محترم بانی ممبر اوکاڑہ پریس کلب اوکاڑہ بابائے صحافت طارق علی بھٹو (مرحوم) 15دسمبر1948کو آبائی گاؤں خالصہ پور میں پیدا ہوئے آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سی ایم آرہائی سکول اوکاڑہ سے حاصل کی اور شعبہ صحافت میں ماسٹرز کی ڈگری اعلیٰ نمبروں سے پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی۔ 1969کواپنے آبائی گاؤں سے اوکاڑہ شہر سکونت اختیار کر لی ان دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کا دور دورہ تھا اور والد گرامی دیگر لوگوں کی طرح ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دلدادہ تھے اوکاڑہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی کارکنا ن میں والد گرامی کا نام سر فہرست تھا پاکستان پیپلز پارٹی کے خاطر جیلیں کاٹنا بھی ان کا مقدر رہیں لیکن مرتے دم تک پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی نہ چھوڑی ایک ایسا وقت بھی آیا جب والد گرامی نے بھٹو فورس میں شمولیت اختیار کر لی والد گرامی ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے لاڑکانہ میں ذوالفقار علی بھٹو مرحوم صاحب سے ایک خصوصی ملاقات میں ذوالفقار علی بھٹو نے والد گرامی کو بھٹو کا لقب دیا اور بعد ازاں یہ لقب ا ن کی پہچان بن گیا۔
1969میں والد محترم نے اپنی صحافتی سر گرمیوں کا آغاز روزنامہ امروز سے کیا اور اس کے ساتھ ساتھ روزنامہ مشرق کے ساتھ بھی منسلک ہو گئے اور اپنے صحافتی فرائض نہایت ایمانداری سے سر انجام دیتے ہوئے ضلع اوکاڑہ کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا 1970میں آپ نے بطور ممبر اوکاڑہ پریس کلب اوکاڑہ میں شمولیت اختیار کر لی آپ کی ہستی ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اوکاڑہ پریس کلب کو تعمیر کرنے میں اہم کردار ادا کیا والد گرامی کے ساتھیوں میں کامریڈ عبد السلام،اقبال چودھری،منیر چودھری،میاں ظفر اقبال،شہباز ساجد،جاوید راہی،لالہ صادق،بابا عطاء محمد غازی،مرزا بشیر،جاوید ہمدرد سر فہرست تھے۔ آپ کا صحافت سے بے پناہ لگاؤ دوسرے صحافیوں کے لئے مشعل راہ بنا بے شک آپ صحافیوں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے۔والد گرامی اور والدہ محترمہ میں اکثر و بیشتر معمول کے لڑائی جھگڑے ہو جاتے تھے اور ان جھگڑوں میں سر فہرست اوکاڑہ پریس کلب اوکاڑہ تھا چونکہ والد محترم کا سارا وقت اوکاڑہ پریس کلب میں گذرتا تھا اس لئے والدہ محترمہ نے اوکاڑ ہ پریس کلب کو ”سوتن”کا درجہ دے رکھا تھا اکثر والدہ کو یہ کہتے سنا کہ آپ نے اوکاڑہ پریس کلب کو میری سوتن بنا رکھا ہے۔والد گرامی نے مختلف قومی اخباروں کی نمائندگی کی جن میں روزنامہ امروز،روزنامہ مشرق،روزنامہ جنگ،روزنامہ جناح، روزنامہ پاکستان اور ایسے کئی اخبارات شامل تھے۔میں اور بڑے بھائی چوہدری منصور طارق گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول اوکاڑہ سٹی میں زیر تعلیم تھے سکول کے بعد ہم دونوں بھائیوں نے اوکاڑہ پریس کلب چلے جانا میری دس یا گیارہ سال کی عمر میں والد گرامی نے مجھے صحافت کی باقاعدہ ٹریننگ دینا شروع کر دی انہوں نے مجھے ایک سادہ صفحہ اور پین دے دینا اور خود انہوں نے خبر لکھوانا شروع کر دینا اور مجھے کہنا کہ لکھتے جاؤ بیچ میں کئی الفاظ ایسے ہونے جو میرے سر کے اوپر سے گزر جانے خبر مکمل کروانے کے بعد والد محترم نے ساری غلطیاں نکالنا اورپھر اسی خبر کو دوبارہ صحیح انداز میں لکھ کر مجھے سمجھانا صرف والد محترم ہی نہیں منیر چودھری،بابا عطاء محمد غازی،لالا صادق،خورشید جیلانی بھی میرے اساتذہ کرام میں سے ایک ہیں۔
ابو جان کی جوانی اور بڑھاپا اوکاڑہ پریس کلب میں ہی گزرا اوکاڑہ پریس کلب کی ترقی دیکھتے پھولے نہیں سماتے تھے 2018میں گرنے کی وجہ سے ابو کی کولہے کی ہڈی فریکچر ہو گئی چونکہ شوگر کا مرض بھی لاحق تھا اس لئے ڈاکٹرز نے آپریشن نہ کروانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ معمولی سا فریکچر ہے یہ میڈیسن سے ہی ٹھیک ہو جائے گا فریکچر ٹھیک ہو گیاپر مکمل طور پر ٹھیک نہ ہو سکا ٹانگ چھوٹی ہو گئی اور چلنے میں دشواری پیش آنے لگی واکر کے سہارے بڑی مشکل سے چلتے تھے یہاں تک کہ چلنا پھرنا مکمل طور پر بند ہو گیا اور وہیل چیئر پر آ گئے لیکن بات تو گھوم پھر وہاں ہی تھی کے مجھے پریس کلب جانا ہے گھر چونکہ اوکاڑہ پریس کلب سے تین چار کلو میٹر دور تھا تو میں نے رات کو والد صاحب کو وہیل چیئرپر بٹھانا اور اوکاڑہ پریس کلب لے جانا خان غفار خان کی کینٹین ملحقہ پریس کلب اوکاڑہ پر والد صاحب کا بیٹھنا ہوتا ہی تھا کہ سب دوست احبات اکٹھے ہونا شروع ہو جانے دوستوں نے ایک دوسرے کو فون کر کے بتانا کہ پریس کلب کی کیٹین پر آجاؤ چاچا بھٹو آگیا ہے اور یہ میلہ ساری رات اسی طرح سجا رہناوالد صاحب نے مجھے گھر بھیج دینا کہ تم چلے جاؤ میں خود ہی آجاؤں گا اور پھر صبح فجر کی نماز کے وقت غفار خان یا عمران مانی مینیجرپریس کلب نے والد صاحب کو گھر چھوڑنے آنا بات یہاں ہی ختم نہیں ہوتی یہ تو میں تھا جو رات کو ابو جان کو پریس کلب چھوڑ آتا تھا والد صاحب نے جیسے ہی صبح سو کر اٹھنا تو ناشتہ وغیرہ کر کے صدر پریس کلب اوکاڑہ شیخ شہباز شاہین کو فون کر دینا کہ یار منصور اور وسیم تو آفس چلے گئے ہیں اس لئے کسی کو بھیج دو مجھے آکر پریس کلب لے جائے اور یہ روٹین روزانہ کی تھی شہباز شاہین صاحب نے اپنے ڈرائیور کو پابند کر رکھا تھا کہ روزانہ چاچا بھٹو کو 10بجے گھر سے لے کر آنا ہے اور شام 5 بجے گھر واپس چھوڑنا ہے گھر میں دو تین گھنٹے گزارنے کے بعد بڑے بھائی نے یا میں نے ابو کو پریس کلب چھوڑنا یہی روٹین ان کی وفات تک چلی گھر میں بھی جو تین چار گھنٹے گزرتے تھے اس دوران بھی ان کے صحافی دوست گھر میں موجود ہوتے تھے۔
ان کے روز وفات دوپہر تین بجے ڈائریکٹر انفارمیشن خورشید جیلانی اور چیئرمین اوکاڑہ پریس کلب منیر چودھری گھر تشریف لائے اور ابو جان سے گپ شپ لگاتے رہے شام 6 بجے تک جیلانی صاحب اور منیر چودھری صاحب صحافتی امور پر ہی گفتگو کرتے رہے ابو جان شام 6بجے تک بالکل ہشاش بشا ش تھے جیلانی صاحب اور منیر چودھری صاحب کے جانے کے بعد مجھے کہنے لگے کہ یار آج جیلانی اور چودھری بہت جلدی چلے گئے ہیں کچھ دیر اور بیٹھتے تو اور گپ شپ لگ جاتی میں نے کہا ابو جان چار گھنٹے سے زیادہ وقت وہ آپ کے پاس گزار کر گئے ہیں تو کہنے لگے چل کوئی بات نہیں 7بجے کھانا کھا کر پریس کلب چلتے ہیں میں نے بھی سر کو ہلاتے ہوئے ہاں میں ہاں ملائی اس دوران والد گرامی سستانے لگے بمشکل پندرہ منٹ ہی گزرے ہوں گے مجھے ابو کی طبیعت میں تھوڑی خرابی محسوس ہوئی تو میں نے اسی وقت انتہائی محسن ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر چودھری ظفر اقبال صاحب کو فون کیا کہ فوری طور پر گھر ایمبو لینس بھجوا دیں جیسے ہی فون بند ہوا میں نے ابو جان کا سر گود میں رکھ لیا اور پلک جھپکتے ہی والد گرامی ہم سب کو روتا چھوڑ کراس دار فانی سے کوچ کر گئے شام سات بجے کا وقت تھا میں نے پہلے خورشید جیلانی صاحب اور پھر بعد میں منیر چودھری صاحب کو فون کر کے ابو جان کے انتقال بارے بتلایا تو ان پر تو جیسے سکتہ طاری ہو گیا میں نے شام سات بجے انہیں فون تو کیا لیکن شاید اس دفعہ یہ فون نہیں تھا کہ ابو کو پریس کلب آ کر لے جائیں اس دنیا سے پردہ کرنے سے چند لمحے پہلے تک بھی ان کی زبان پر ایک ہی لفظ تھا کہ پریس کلب جانا ہے ان کی پریس کلب سے اتنی زیادہ انسیت آج تک مجھے سمجھ نہیں آسکی اور شاید یہ بات مجھ پر کبھی آشکار نہ ہو۔
والد گرامی انتہائی شفیق،ملنسار اور پیار کرنے والے انسان تھے لیکن ان کے غصے کا بھی کوئی ثانی نہیں تھا گھر میں چھوٹا تھا تو پیار بھی بے انتہا کرتے تھے مارشل آرٹس،کرکٹ اور ویڈیو گیمز کھیلنے کا مجھے جنون تھا اکثر اوقات پڑھائی کو بھی پیچھے کرتے ہوئے اپنے یہ شوق پورے کرنے میں لگ جاتا تھا بس پھر کیا تھا ابو جان کا تشدد اور میں۔۔اس قدر مار پڑتی تھی پڑھائی نہ کرنے کی وجہ سے کہ پوچھیں مت ایک دو دفعہ تو ما ر کھاتے کھاتے میرا سر بھی پھٹ گیا تھا والدہ محترمہ نے اس مارکٹائی کی وجہ سے ابو سے لڑائی بھی کر لینی کہ ابھی بچہ ہے کھیلے کودے گا نہیں تو کیا کرے گا ابو جان نے امی کو جواب دینا کہ ایک دن ایسا آئے گا یہ مجھے دعائیں دے گا اس مار کی وجہ سے جب یہ اپنی زندگی میں کامیاب ہو گا اور تب میں نہیں ہوں گا اور یہی بات ذہن میں نقش ہو کر رہ گئی ہے کوئی دن ایسا نہیں ہے جس دن ابو جان کی یا دنہیں آئی زندگی میں ہر قسم کی آسائش میسر ہے سب کچھ ہے لیکن ابو نہیں ہیں کاش ابو جان واپس آجائیں اور پھر ڈانٹ ڈپٹ کریں ماریں آپ سے سیکھا ہوئے لفظ میرے لئے مشعل راہ ہیں اور زندگی کے ہر موڑ پر آج بھی میرے راہنمائی کر رہے ہیں میرے بڑے بھائی چودھری منصور طارق اور میں آج جس مقام پر ہیں یہ سب ابو اور امی کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے والدین کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور قبر مبارک میں نبی کریم ﷺ کا دیدار نصیب فرمائے۔آمین
یہ اذیت ہے اور مسلسل ہے بابا
آپ کو دیکھ نہیں پاتے آپ کو سن نہیں پاتے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں