پاکستان نے، آئی ایم ایف کی ڈیمانڈ پر، سعودیہ عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے 12 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی اگلے پانچ سالوں تک کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔
پاکستان نے، آئی ایم ایف کی ڈیمانڈ پر، سعودیہ عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے 12 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی اگلے پانچ سالوں تک کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔
یہ درخواست تقریباً ہر سال ہی کی جارہی ہے
اب ہوتا ہے کیا ہے؟ اسے دھیان سے سنیے
حکومتیں اس طرح قرضوں کو رول اوور کرنے کی درخواست کرتی رہتی ہیں۔ عموماً مجبوری ہوتی ہے۔ اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔
پھر ہوتا یہ ہے کہ ایسے قرضے عموماً اگلی آنے والی حکومت کے گلے پڑتے ہیں۔
اب جو نئی حکومت آتی ہے، اس کے پاس قرض ادا کرنے کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں:
1- آمدنی میں اضافہ کرکے قرض ادا کیا جائے
2- فی الحال مزید قرض لے کر، پرانا قرض ادا کیا جائے
آمدنی میں اضافہ کرکے قرض ادا کرنا بہترین آپشن ہے
لیکن،
آمدنی میں اضافہ راتوں رات نہیں ہوتا۔ اس عمل میں برسوں لگ جاتے ہیں
اسی لیے، قرض کی ادائیگی کا “فوری حل”، مزید قرض لینے کے سوا کچھ بھی نہیں
نئی آنے والی حکومت کو، due ہوجانے والے قرضوں کی ادائیگی کے لیے، نئے قرض لینے پڑتے ہیں۔ یہ مجبوری ہے
یہاں تک تو معاملات ٹھیک ہیں لیکن آگے سیاست شروع ہوجاتی ہے
جب نئی آنے والی حکومت، قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرض لیتی ہے، تو مخالفین اس پر الزام لگانے لگتے ہیں کہ نئی حکومت نے قرضوں میں اضافہ کردیا
اگر تو حکومت میں آنی والی جماعت، اس سے پہلے متعدد بار حکومت بناچکی ہو، تو قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کا الزام بالکل درست ہے۔
لیکن اگر کسی جماعت نے پہلی بار حکومت بنائی ہو، تو اس پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کا الزام یا تو جہالت ہے، یا منفی سیاست
دوسری بات،
سودی قرضے وقت کے ساتھ ساتھ compound ہوتے جاتے ہیں، یعنی بڑھتے جاتے ہیں۔
اس پہلو کو آسان مثال سے سمجھاتا چلوں:
فرض کیجیے کوئی ٹیم دوسری بیٹنگ کرنے یا ٹارگٹ چیز کرنے میدان میں اتری ہے۔ اسے 50 اوورز میں 350 کا ٹارگٹ ملا ہے یعنی 7 رنز پر اوور کی اوسط سے رنز بنانے ہیں۔
تو سب سے بھاری ذمہ داری اوپنرز پر ہے
اگر اوپنرز ہی سلو کھیلیں تو رن ریٹ مزید بڑھ کر 7 سے اوپر چلا جائے گا۔ فرض کیجیے نمبر 3، 4 اور 5 بھی سلو کھلیتے رہیں تو رن ریٹ بہت ہی زیادہ بڑھ چکا ہوگا
اب ایک بلے باز چھٹے نمبر پر کھیلنے آئے۔ اسے 12 رنز پر اوور کا ریٹ ملا ہے، ساتھ 5 وکٹیں بھی گر چکی ہوں تو اسے سیٹ ہونے میں وقت لگے گا۔ اسے وکٹیں بھی بچانی ہیں۔ خود کو بھی ایڈجسٹ کرنا ہے۔ اب وہ ہر اوور میں 8 سے 9 رنز بنارہا ہے لیکن ریٹ کے حساب سے ابھی بھی ناکافی ہے۔ تو رن ریٹ مزید بڑھ کر شاید 13 یا 14 تک چلا جائے
اب ایسی صورت میں، پویلین میں آؤٹ ہوکر بیٹھے 5 گدھے یہ بولیں کہ نمبر 6 نے تو پوری اننگز کا سب سے بلند رن ریٹ پہنچادیا تو آپ کا ری ایکشن کیا ہوگا؟
کیا آپ یہ کہیں گے کہ یہ 5 ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ واقعی اس وقت رن ریٹ بلند ترین سطح پر ہے
یا یہ کہیں گے کہ گدھوں، تمھیں آسان (7 رنز یا آس پاس) رن ریٹ ملا تھا۔ تمھاری نااہلی نے اسے 12 پہنچایا تھا
یہی سب کچھ عمران خان کے دور میں بھی ہوا۔ قرضے کمپاونڈ کرتے ہیں۔ ہر نئی آنے والی حکومت پر، جانے والی حکومت سے زیادہ ںوجھ ہوتا ہے۔
نئی حکومت کو پرانے قرضوں کے مد میں ادائیگیوں کے لیے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں
یہ ضرور ہے کہ نئی آنے والی حکومت کو ساتھ ساتھ قومی آمدنی خاص کر ایکسپورٹس بڑھانے پر لازمی کام کرنا چاہیے کیونکہ یہی لانگ ٹرم حل ہے
آپ نے عمران خان کی حکومت کے حوالے سے ایک مضحکہ خیز الزام بھی بار بار سنا ہوگا کہ اس حکومت نے، ریکارڈ قرضے لینے کے باوجود کوئی خاص ترقیاتی کام نہیں کروائے جیسے مسلم لیگ ن کی حکومت نے کروائے تھے
یہ الزام وہ لگاتا ہے جو معاشی سینس کے حوالے سے بالکل جاہل ہو
قرض لے کر ترقیاتی کام کروانے کی وجہ سے ہی پاکستان اس گہری کھائی میں جا گرا ہے۔ سی پیک کے قرضوں نے پاکستان کی معشیت کا بھرکس نکال دیا کیونکہ ان “ترقیاتی پراجیکٹس” نے پاکستان کی معاشی خوشحالی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ تبھی آج خزانہ خالی پڑا ہے
یہ ن لیگ کا ایک قومی جرم تھا کہ وہ سنجیدگی سے قرضہ لوٹانے کی بجائے، قرض پر مبنی ترقیاتی پراجیکٹس پر کام کرتے رہے، جب کہ ان کے ریٹرنز پر کوئی فوکس نہ رہا۔ ان پراجیکٹس نے معشیت پر غیر معمولی بوجھ ڈالا جو آج بھگت رہے ہیں
ایسے ترقیاتی پراجیکٹس سے سیاسی جماعتوں کو دو طرح کے فائدے ملتے ہیں
1- اگلے الیکشنز کی کمپین کے لیے نعرے مل جاتے ہیں کہ دیکھو ہم نے فلاں فلاں پراجیکٹس بنائے (کتنے قرضے لے کر بنائے؟ کس شرح سود پر قرض لیا؟ ان پراجیکٹس کا کیا ریٹرن متوقع ہے اور کب تک؟ ان معاملات کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا)
2- ترقیاتی پراجیکٹس کے چلنے پر زبردست کمیشن کمانے کے بے شمار مواقع ملتے ہیں
میں ترقیاتی پروجیکٹ کے قطعی خلاف نہیں ہوں لیکن ان پر کام اس وقت کیا جائے جب معیشیت stable ہو یا قرضوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک نہ پہنچا ہوا ہو۔
سب سے بڑھ کر ان ترقیاتی پروجیکٹس کا مثبت ریٹرن بھی ملنا چاہیے، جو کہ اب تک (سی پیک وغیرہ) نہیں ملا
عمران خان کی حکومت نے بہت مناسب فیصلہ کیا کہ وہ دکھاوے، کمیشن اور اگلے الیکشنز کے چکر میں نہیں پڑے اور انھوں نے قرض کی رقم کو، ایسے نمائشی ترقیاتی پراجیکٹس میں لگانے اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کی بجائے، پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا
یہ عمران خان کی حکومت کا ایک بہترین قدم تھا جسے مخالفین منفی قدم کے طور پر بتاتے ہیں کہ عمران خان حکومت نے اتنے قرض لینے کے باوجود ترقیاتی کام نہیں کیے
احمقوں، یہ تو عمران خان حکومت کی بہت مناسب اور بروقت پالیسی تھی۔۔۔۔۔۔
اسی لیے عمران خان کی حکومت نے اگر ریکارڈ قرضے لیے تو ریکارڈ قرضوں کی واپسی بھی کی ہے۔ اس امر کو بھی صاف چھپا لیا جاتا ہے۔
عمران خان حکومت نے، قرض کی قیمتی رقم کو، قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہی استعمال کیا۔ جبکہ ن لیگ اس قیمتی رقم سے پراجیکٹس بناتی رہی اور مارکیٹ میں غیر ضروری حد تک ڈالر پھینک کر، اس کی قیمت کو مصنوعی انداز سے کنٹرول کرتی رہی۔ ان دونوں پالیسیوں نے پاکستان کے قرضوں کو حد سے زیادہ بڑھادیا لیکن پاکستان کو کسی قسم کا کوئی معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔
بلکہ ڈالر ریٹ کو کنٹرول کرنے کی وجہ سے، ایکسپورٹس کو شدید نقصان پہنچا۔
عمران خان حکومت کے آخری دنوں میں، مبینہ طور پر روس سے سستے تیل کے معاملات چل رہے تھے۔ وہ اگر مکمل ہونے دئیے جاتے، تو پاکستان کی معشیت آج سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہوتی۔ بھارت نے سستے روسی تیل سے بے تحاشہ فائدہ اٹھایا۔ جبکہ ہم حکومت الٹا کر، روس کی مذمت ہی کرتے رہ گئے
لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ فلاں فلاں حکومت کے دوران اتنا قرضہ لیا گیا، لیکن کسی کو پیچھے کی کہانی، یا فنانشل ہسٹری کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔
عوام کی اسی لاعلمی کا استعمال کرکے، پروپگینڈا کیا جاتا ہے، انھیں بیوقوف بنایا جاتا ہے۔
اب جب اپنی من پسند حکومت لائی گئی ہے، جو پہلے بھی تین چار بار حکومت کرچکے ہیں، تو قرضوں کا ذکر غائب کردیا گیا ہے۔ اب کوئی نہیں بتاتا کہ قرضوں کا بوجھ، عمران خان کی حکومت کے مقابلے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔
اب کوئی نہیں بتاتا کہ ترقیاتی پروگرام کیوں بند کردیا گیا، اس کے لیے بجٹ میں کوئی خاص رقم کیوں مختص نہیں کی گئی!…..