November 5, 2026

پاکستان نے، آئی ایم ایف کی ڈیمانڈ پر، سعودیہ عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے 12 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی اگلے پانچ سالوں تک کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔

20240730_170303

پاکستان نے، آئی ایم ایف کی ڈیمانڈ پر، سعودیہ عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے 12 ارب ڈالر کے قرض کی ادائیگی اگلے پانچ سالوں تک کے لیے مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے۔

یہ درخواست تقریباً ہر سال ہی کی جارہی ہے

اب ہوتا ہے کیا ہے؟ اسے دھیان سے سنیے

حکومتیں اس طرح قرضوں کو رول اوور کرنے کی درخواست کرتی رہتی ہیں۔ عموماً مجبوری ہوتی ہے۔ اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔

پھر ہوتا یہ ہے کہ ایسے قرضے عموماً اگلی آنے والی حکومت کے گلے پڑتے ہیں۔

اب جو نئی حکومت آتی ہے، اس کے پاس قرض ادا کرنے کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں:

1- آمدنی میں اضافہ کرکے قرض ادا کیا جائے
2- فی الحال مزید قرض لے کر، پرانا قرض ادا کیا جائے

آمدنی میں اضافہ کرکے قرض ادا کرنا بہترین آپشن ہے

لیکن،

آمدنی میں اضافہ راتوں رات نہیں ہوتا۔ اس عمل میں برسوں لگ جاتے ہیں

اسی لیے، قرض کی ادائیگی کا “فوری حل”، مزید قرض لینے کے سوا کچھ بھی نہیں

نئی آنے والی حکومت کو، due ہوجانے والے قرضوں کی ادائیگی کے لیے، نئے قرض لینے پڑتے ہیں۔ یہ مجبوری ہے

یہاں تک تو معاملات ٹھیک ہیں لیکن آگے سیاست شروع ہوجاتی ہے

جب نئی آنے والی حکومت، قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئے قرض لیتی ہے، تو مخالفین اس پر الزام لگانے لگتے ہیں کہ نئی حکومت نے قرضوں میں اضافہ کردیا

اگر تو حکومت میں آنی والی جماعت، اس سے پہلے متعدد بار حکومت بناچکی ہو، تو قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کا الزام بالکل درست ہے۔

لیکن اگر کسی جماعت نے پہلی بار حکومت بنائی ہو، تو اس پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کا الزام یا تو جہالت ہے، یا منفی سیاست

دوسری بات،

سودی قرضے وقت کے ساتھ ساتھ compound ہوتے جاتے ہیں، یعنی بڑھتے جاتے ہیں۔

اس پہلو کو آسان مثال سے سمجھاتا چلوں:

فرض کیجیے کوئی ٹیم دوسری بیٹنگ کرنے یا ٹارگٹ چیز کرنے میدان میں اتری ہے۔ اسے 50 اوورز میں 350 کا ٹارگٹ ملا ہے یعنی 7 رنز پر اوور کی اوسط سے رنز بنانے ہیں۔

تو سب سے بھاری ذمہ داری اوپنرز پر ہے

اگر اوپنرز ہی سلو کھیلیں تو رن ریٹ مزید بڑھ کر 7 سے اوپر چلا جائے گا۔ فرض کیجیے نمبر 3، 4 اور 5 بھی سلو کھلیتے رہیں تو رن ریٹ بہت ہی زیادہ بڑھ چکا ہوگا

اب ایک بلے باز چھٹے نمبر پر کھیلنے آئے۔ اسے 12 رنز پر اوور کا ریٹ ملا ہے، ساتھ 5 وکٹیں بھی گر چکی ہوں تو اسے سیٹ ہونے میں وقت لگے گا۔ اسے وکٹیں بھی بچانی ہیں۔ خود کو بھی ایڈجسٹ کرنا ہے۔ اب وہ ہر اوور میں 8 سے 9 رنز بنارہا ہے لیکن ریٹ کے حساب سے ابھی بھی ناکافی ہے۔ تو رن ریٹ مزید بڑھ کر شاید 13 یا 14 تک چلا جائے

اب ایسی صورت میں، پویلین میں آؤٹ ہوکر بیٹھے 5 گدھے یہ بولیں کہ نمبر 6 نے تو پوری اننگز کا سب سے بلند رن ریٹ پہنچادیا تو آپ کا ری ایکشن کیا ہوگا؟

کیا آپ یہ کہیں گے کہ یہ 5 ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ واقعی اس وقت رن ریٹ بلند ترین سطح پر ہے

یا یہ کہیں گے کہ گدھوں، تمھیں آسان (7 رنز یا آس پاس) رن ریٹ ملا تھا۔ تمھاری نااہلی نے اسے 12 پہنچایا تھا

یہی سب کچھ عمران خان کے دور میں بھی ہوا۔ قرضے کمپاونڈ کرتے ہیں۔ ہر نئی آنے والی حکومت پر، جانے والی حکومت سے زیادہ ںوجھ ہوتا ہے۔

نئی حکومت کو پرانے قرضوں کے مد میں ادائیگیوں کے لیے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں

یہ ضرور ہے کہ نئی آنے والی حکومت کو ساتھ ساتھ قومی آمدنی خاص کر ایکسپورٹس بڑھانے پر لازمی کام کرنا چاہیے کیونکہ یہی لانگ ٹرم حل ہے

آپ نے عمران خان کی حکومت کے حوالے سے ایک مضحکہ خیز الزام بھی بار بار سنا ہوگا کہ اس حکومت نے، ریکارڈ قرضے لینے کے باوجود کوئی خاص ترقیاتی کام نہیں کروائے جیسے مسلم لیگ ن کی حکومت نے کروائے تھے

یہ الزام وہ لگاتا ہے جو معاشی سینس کے حوالے سے بالکل جاہل ہو

قرض لے کر ترقیاتی کام کروانے کی وجہ سے ہی پاکستان اس گہری کھائی میں جا گرا ہے۔ سی پیک کے قرضوں نے پاکستان کی معشیت کا بھرکس نکال دیا کیونکہ ان “ترقیاتی پراجیکٹس” نے پاکستان کی معاشی خوشحالی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔ تبھی آج خزانہ خالی پڑا ہے

یہ ن لیگ کا ایک قومی جرم تھا کہ وہ سنجیدگی سے قرضہ لوٹانے کی بجائے، قرض پر مبنی ترقیاتی پراجیکٹس پر کام کرتے رہے، جب کہ ان کے ریٹرنز پر کوئی فوکس نہ رہا۔ ان پراجیکٹس نے معشیت پر غیر معمولی بوجھ ڈالا جو آج بھگت رہے ہیں

ایسے ترقیاتی پراجیکٹس سے سیاسی جماعتوں کو دو طرح کے فائدے ملتے ہیں

1- اگلے الیکشنز کی کمپین کے لیے نعرے مل جاتے ہیں کہ دیکھو ہم نے فلاں فلاں پراجیکٹس بنائے (کتنے قرضے لے کر بنائے؟ کس شرح سود پر قرض لیا؟ ان پراجیکٹس کا کیا ریٹرن متوقع ہے اور کب تک؟ ان معاملات کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا)

2- ترقیاتی پراجیکٹس کے چلنے پر زبردست کمیشن کمانے کے بے شمار مواقع ملتے ہیں

میں ترقیاتی پروجیکٹ کے قطعی خلاف نہیں ہوں لیکن ان پر کام اس وقت کیا جائے جب معیشیت stable ہو یا قرضوں کا بوجھ ناقابلِ برداشت حد تک نہ پہنچا ہوا ہو۔

سب سے بڑھ کر ان ترقیاتی پروجیکٹس کا مثبت ریٹرن بھی ملنا چاہیے، جو کہ اب تک (سی پیک وغیرہ) نہیں ملا

عمران خان کی حکومت نے بہت مناسب فیصلہ کیا کہ وہ دکھاوے، کمیشن اور اگلے الیکشنز کے چکر میں نہیں پڑے اور انھوں نے قرض کی رقم کو، ایسے نمائشی ترقیاتی پراجیکٹس میں لگانے اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کرنے کی بجائے، پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا

یہ عمران خان کی حکومت کا ایک بہترین قدم تھا جسے مخالفین منفی قدم کے طور پر بتاتے ہیں کہ عمران خان حکومت نے اتنے قرض لینے کے باوجود ترقیاتی کام نہیں کیے

احمقوں، یہ تو عمران خان حکومت کی بہت مناسب اور بروقت پالیسی تھی۔۔۔۔۔۔

اسی لیے عمران خان کی حکومت نے اگر ریکارڈ قرضے لیے تو ریکارڈ قرضوں کی واپسی بھی کی ہے۔ اس امر کو بھی صاف چھپا لیا جاتا ہے۔

عمران خان حکومت نے، قرض کی قیمتی رقم کو، قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہی استعمال کیا۔ جبکہ ن لیگ اس قیمتی رقم سے پراجیکٹس بناتی رہی اور مارکیٹ میں غیر ضروری حد تک ڈالر پھینک کر، اس کی قیمت کو مصنوعی انداز سے کنٹرول کرتی رہی۔ ان دونوں پالیسیوں نے پاکستان کے قرضوں کو حد سے زیادہ بڑھادیا لیکن پاکستان کو کسی قسم کا کوئی معاشی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

بلکہ ڈالر ریٹ کو کنٹرول کرنے کی وجہ سے، ایکسپورٹس کو شدید نقصان پہنچا۔

عمران خان حکومت کے آخری دنوں میں، مبینہ طور پر روس سے سستے تیل کے معاملات چل رہے تھے۔ وہ اگر مکمل ہونے دئیے جاتے، تو پاکستان کی معشیت آج سے کہیں بہتر پوزیشن میں ہوتی۔ بھارت نے سستے روسی تیل سے بے تحاشہ فائدہ اٹھایا۔ جبکہ ہم حکومت الٹا کر، روس کی مذمت ہی کرتے رہ گئے

لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ فلاں فلاں حکومت کے دوران اتنا قرضہ لیا گیا، لیکن کسی کو پیچھے کی کہانی، یا فنانشل ہسٹری کی کچھ خبر نہیں ہوتی۔

عوام کی اسی لاعلمی کا استعمال کرکے، پروپگینڈا کیا جاتا ہے، انھیں بیوقوف بنایا جاتا ہے۔

اب جب اپنی من پسند حکومت لائی گئی ہے، جو پہلے بھی تین چار بار حکومت کرچکے ہیں، تو قرضوں کا ذکر غائب کردیا گیا ہے۔ اب کوئی نہیں بتاتا کہ قرضوں کا بوجھ، عمران خان کی حکومت کے مقابلے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے۔

اب کوئی نہیں بتاتا کہ ترقیاتی پروگرام کیوں بند کردیا گیا، اس کے لیے بجٹ میں کوئی خاص رقم کیوں مختص نہیں کی گئی!…..

You may have missed

محترم اسلام عیلکم تحریر سید نصیر حسین زیدی سکھر *شہادتِ حضرت فاطمہ زہرہ ا سلام اللہ علیہا؛ صدیوں پر محیط شیعہ مؤقف۔* *رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مختصر حیاتِ مبارکہ شدید مصائب اور رنج و آلام سے گزری۔ شیعہ روایات میں ان واقعات کو بالخصوص امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے حقِ امامت و ولایت کے دفاع اور آپ کے ساتھ پیش آنے والے حالات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔* *✍️ ترجمہ و ترتیب: مولانا سید علی ہاشم عابدی* *رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی مختصر حیاتِ مبارکہ شدید مصائب اور رنج و آلام سے گزری۔ شیعہ روایات میں ان واقعات کو بالخصوص امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے حقِ امامت و ولایت کے دفاع اور آپ کے ساتھ پیش آنے والے حالات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔* *شیعہ علماء نے ابتدائی صدیوں ہی سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مصائب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیش آنے والے واقعات کو اپنے حدیثی، تاریخی، کلامی اور دیگر علمی آثار میں نقل کیا ہے۔ مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے متعدد علماء کی تحریروں میں ان واقعات کے مختلف پہلوؤں کا ذکر ملتا ہے۔ اس طرح یہ موضوع شیعہ علمی روایت میں ایک طویل تاریخی تسلسل کے ساتھ سامنے آتا ہے۔* *ذیل میں مختلف صدیوں سے تعلق رکھنے والے بعض معروف شیعہ علماء رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی عبارات پیش کی جارہی ہیں، جن سے اس موضوع کے قدیم اور مسلسل علمی پس منظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔* *1۔ شیخ نعمانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *جناب محمد بن ابراہیم نعمانی، المعروف ابن ابی زینب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی 360ھ) حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر گزرنے والی مصیبت کی شدت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “فلو لم يكن في الإسلام مصيبة … إلا ما لحق فاطمة عليها السلام حتى مضت غضبى على أمة أبيها، ودعاها ما فعل بها إلى الوصية بأن لا يصلي عليها أحد منهم، لكان عظيماً.” یعنی ’’اگر اسلام میں کوئی اور مصیبت نہ بھی ہوتی، سوائے اس مصیبت کے جو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر گزری، یہاں تک کہ وہ اپنے والد کی امت سے ناراض ہو کر دنیا سے رخصت ہوئیں، اور ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے انہیں یہ وصیت کرنے پر آمادہ کیا کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ان پر نماز نہ پڑھے، تو بھی یہ ایک عظیم اور سنگین معاملہ تھا۔‘‘(محمد بن ابراہیم بن جعفر، المعروف ابن ابی زینب نعمانیؒ، الغیبۃ، ص 55، تحقیق: فارس حسون کریم، ناشر: انوار الہدیٰ، قم، چاپ اول، 1422ھ۔)* *2۔ شیخ صدوق رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *جناب ابوجعفر محمد بن علی بن الحسین، معروف بہ شیخ صدوق رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 381ھ)، حضرت محسن علیہ السلام کے سقط ہونے کے واقعہ کے ضمن میں لکھتے ہیں: “هو (المحسن) السقط الذي ألقته فاطمة عليها السلام لما ضغطت بين البابين.” یعنی وہ محسن ہیں، جو حضرت فاطمہ‌سلام اللہ علیہا کے وہ سقط شدہ فرزند ہیں، جنہیں آپؑ نے اس وقت حمل سے کھو دیا، جب آپؑ کو دونوں دروازوں کے درمیان دبایا گیا۔(شیخ صدوقؒ، معانی الأخبار، ص 206، ناشر: جامعہ مدرسین، قم، چاپ اول، 1403ھ۔)* *شیخ صدوقؒ نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے ضمن میں آپ کو ’’صدیقہ، شہیدہ‘‘ اور ’’مظلومہ‘‘ کے الفاظ سے بھی یاد کیا ہے: “السَّلَامُ عَلَيْكِ يَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ … السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الصِّدِّيقَةُ الشَّهِيدَةُ … السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَغْصُوبَةُ، السَّلَامُ عَلَيْكِ أَيَّتُهَا الْمُضْطَهَدَةُ الْمَقْهُورَةُ.” یعنی ’’سلام ہو آپ پر، اے رسول اللہ کی بیٹی! … سلام ہو آپ پر، اے صدیقہ، شہیدہ! … سلام ہو آپ پر، اے مظلومہ، اے غصب شدہ حق والی! سلام ہو آپ پر، اے ستم رسیدہ اور مقہورہ!‘‘(شیخ صدوقؒ، من لا یحضره الفقیه، ج 2، ص 573، تحقیق: علی اکبر غفاری، ناشر: جامعہ مدرسین حوزۂ علمیہ قم۔)* *3۔ شیخ مفید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *جناب محمد بن محمد بن نعمان، معروف بہ شیخ مفید رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 413ھ)، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت کے بیان میں آپ کو ’’بتولِ شہیدہ‘‘ کے عنوان سے یاد کرتے ہیں: “فَإِذَا أَرَدْتَ زِيَارَتَهَا فَقِفْ بِالرَّوْضَةِ وَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكِ … يَا سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ، أَيَّتُهَا الْبَتُولُ الشَّهِيدَةُ” یعنی ’’جب تم ان کی زیارت کا ارادہ کرو تو روضۂ رسول پر کھڑے ہو کر کہو: سلام ہو آپ پر … اے تمام عالم کی عورتوں کی سردار! اے بتولِ شہیدہ!‘‘(شیخ مفیدؒ، کتاب المزار، مناسک المزار، ص 179، تحقیق: آیت اللہ سید محمد باقر ابطحی، ناشر: دار المفید للطباعة والنشر والتوزیع، بیروت، چاپ دوم، 1414ھ)* *4۔ سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *جناب سید مرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 436ھ) پانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم و متکلم تھے۔ انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کے دروازے کو جلانے کی دھمکی سے متعلق ایک روایت نقل کی اور اس کے متعدد طرق سے منقول ہونے کا ذکر کیا۔ وہ لکھتے ہیں: “هذا الخبر (فقالت (فاطمة): يا ابن الخطاب، أتراك محرقاً عليَّ بابي؟ قال: نعم …) قد روته الشيعة من طرق كثيرة … وأيُّ اختيارٍ لمن يُحرَق عليه بابه حتى يبايع؟” یعنی ’’یہ روایت کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا: ’اے ابنِ خطاب! کیا تم میرے گھر کا دروازہ جلانے والے ہو؟‘ اس نے جواب دیا: ’ہاں‘۔۔۔ شیعہ علماء نے اس روایت کو متعدد طریقوں سے نقل کیا ہے۔ پھر اس شخص کے لئے اختیار کہاں باقی رہتا ہے جس کے گھر کا دروازہ جلایا جائے تاکہ وہ بیعت کرے؟‘‘(شریف مرتضیٰ، علی بن حسین موسوی (متوفیٰ 436ھ)، الشافی فی الإمامة، ج 3، ص 241، تحقیق و تعلیق: سید حسینی خطیب، مؤسسۃ اسماعیلیان، قم، طبع دوم، 1410ھ۔)* *5۔ شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *بانی حوزہ علمیہ نجف اشرف شیخ الطائفہ شیخ طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 460ھ)، پانچویں صدی ہجری کے ممتاز شیعہ عالم، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ضرب لگنے اور حضرت محسن علیہ السلام کے سقط ہونے کے واقعہ کو شیعہ حلقوں میں مشہور روایت کے طور پر نقل کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: “والمشهور الذي لا خلاف فيه بين الشيعة: أن عمر ضرب على بطنها حتى أسقطت، فسمي السقط محسناً، والرواية بذلك مشهورة عندهم.” یعنی ’’شیعوں کے درمیان مشہور بات، جس میں ان کے ہاں اختلاف نہیں، یہ ہے کہ عمر بن خطاب نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے شکم پر ضرب لگائی، جس کے نتیجے میں آپ کا بچہ ساقط ہوگیا اور اس ساقط ہونے والے بچے کا نام محسن رکھا گیا۔ اس واقعہ سے متعلق روایت بھی ان کے درمیان مشہور ہے۔‘‘(شیخ طوسی، ابوجعفر محمد بن حسن بن علی، تلخیص الشافی، ج 3، ص 156۔)* *6۔ ابو الصلاح حلبی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *جناب ابو الصلاح حلبی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 447ھ) پانچویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم تھے۔ انہوں نے خلفائے ثلاثہ کی عدالت پر بحث کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کے گھر سے متعلق پیش آنے والے واقعات کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: “ومما يقدح في عدالة الثلاثة … إحضار الحطب لتحريق منزله والهجوم عليه بالرجال من غير إذنه واضطرارهم بذلك زوجته وبناته وغيرهم إلى الخروج عن بيوتهم.” یعنی ’’ان تینوں کی عدالت کو مخدوش کرنے والی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ علی علیہ السلام کے گھر کو جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کی گئیں، ان کی اجازت کے بغیر لوگوں کے ذریعہ ان کے گھر پر حملہ کیا گیا اور اس کے نتیجے میں ان کی زوجہ، بیٹیوں اور گھر کے دیگر افراد کو اپنے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔‘‘(ابو الصلاح حلبیؒ، تقریب المعارف، ص 233، تحقیق: فارس تبریزیان الحسون، 1417ھ)* *7۔ قاضی ابن براج رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *جناب قاضی عبدالعزیز بن براج طرابلسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ (متوفیٰ 481ھ) نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت کے ضمن میں آپ کو ’’شہیدہ‘‘ اور ’’مظلومہ‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا ہے: “السلام على البتول الشهيدة … السلام عليك أيتها المظلومة.” یعنی ’’سلام ہو بتولِ شہیدہ پر۔۔۔ سلام ہو آپ پر، اے مظلومہ!‘‘(قاضی ابن براجؒ، المهذب، ج 1، ص 277، تحقیق: مؤسسہ سید الشہداء العلمیہ)* *8۔ ابن شہر آشوب رضوان اللہ تعالیٰ علیہ.* *چھٹی صدی ہجری کے معروف عالم جناب ابن شہر آشوب مازندرانی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو “الْمَظْلُومَةُ الشَّهِيدَةُ” یعنی ’’مظلومہ شہیدہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا ہے۔(ابن شہر آشوب، رشیدالدین ابو عبداللہ محمد بن علی السروی المازندرانیؒ، مناقب آل ابی طالب، ج 3، ص 132، تحقیق: نجف اشرف کے علما کی ایک جماعت، المکتبۃ والمطبعۃ الحیدریہ، 1376ھ)* *9۔ سید ابن طاووس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ۔* *ساتویں صدی ہجری کے معروف شیعہ عالم جناب سید ابن طاووس رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر ہونے والے ظلم کے بارے میں علماء امامیہ کے درمیان اختلاف نہ ہونے کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: “وعلماء أهل البيت عليهم السلام لا يحصى عددهم وعدد شيعتهم إلا الله تعالى، وما رأيت ولا سمعت عنهم أنهم يختلفون في أن أبا بكر وعمر ظلما أمهم فاطمة عليها السلام ظلما عظيما.” یعنی علمائے اہل بیت بے شمار ہیں اور ان کے شیعہ جن کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، میں نے نہ کسی ایسے عالم کو دیکھا اور نہ ان کے بارے میں سنا کہ وہ اس بات میں اختلاف رکھتے ہوں کہ ابوبکر اور عمر نے ان کی مادرِ گرامی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر جو عظیم ظلم کیا۔‘‘(ابن طاووس حلیؒ، ابوالقاسم علی بن موسیٰ، الطرائف في معرفة مذاهب الطوائف، ص 252، مطبعہ الخیام، قم، طبع اول، 1399ھ۔)* *10۔ خواجہ نصیر طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ۔* *ساتویں صدی ہجری کے معروف متکلم و فلسفی خواجہ نصیر الدین طوسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول عبارت میں بھی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے متعلق اس واقعہ کا ذکر ملتا ہے۔ عبارت یہ ہے: “وبعث (أبو بكر) إلى بيت أمير المؤمنين عليه السلام لما امتنع من البيعة فأضرم فيه النار وفيه فاطمة والحسن والحسين وجماعة من بني هاشم.” یعنی ’جب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے بیعت سے منع کیا تو ابوبکر نے ان کے گھر کی طرف افراد بھیجے، پھر اس گھر میں آگ بھڑکائی (لگائی) گئی، جبکہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، امام حسن علیہ السّلام، امام حسین علیہ السلام اور بنی ہاشم کی ایک جماعت وہاں موجود تھی۔‘‘(حسن بن یوسف حلیؒ (متوفیٰ 726ھ)، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، ص 511۔)* *مذکورہ شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شہادت کے بعد حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پر پیش آنے والے مصائب کا ذکر شیعہ علمی ذخیرے میں ابتدائی صدیوں ہی سے موجود ہے۔ نعمانیؒ، شیخ صدوقؒ، شیخ مفیدؒ، سید مرتضیٰؒ، شیخ طوسیؒ اور بعد کے متعدد علما کی تحریروں میں اس موضوع کے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں۔ کہیں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی مظلومیت و شہادت کے الفاظ ملتے ہیں، کہیں گھر سے متعلق واقعات کا ذکر ہے اور کہیں حضرت محسن علیہ السلام کے سقط کا بیان موجود ہے۔* *یہ شواہد کم از کم اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے مصائب اور شہادت کا تصور شیعہ علمی روایت میں کسی ایک متاخر دور کی پیداوار نہیں، بلکہ اس کے مختلف اجزا ابتدائی اور بعد کی صدیوں کے شیعہ مصادر میں مسلسل نقل ہوتے رہے ہیں۔*