August 30, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سلامت مسیح اور ظالم عطائی ڈاکٹر عطائی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کا طریقہ

20240730_170303
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سلامت مسیح اور ظالم عطائی ڈاکٹر
عطائی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کا طریقہ

آج سوشل میڈیا پر ایک FIR گردش کر رہی ہے۔ جس کے مطابق سلامت مسیح صاحب بگری قصور کا رہائشی مورخہ 27 جولائی 2024 کو اپنی بیوی کو عابدہ کلینک نزد کوٹ مراد خان قصور چیک اپ کیلئے لے کر گیا تو وہاں موجود ڈاکٹر عابدہ(خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتی ہے) نامی خاتون اور اسکی بیٹی آنسہ نے سی سیکشن آپریشن کر دیا اور میڈیکل نیگلیجنس/غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے بیوی اور بچے کی وفات ہوگئی۔ اور ڈاکٹر عابدہ دونوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پھینک گئی۔

1. سلامت مسیج کی مدعیت میں قصور پولیس نے نام نہاد ڈاکٹر اور انکی بیٹی کے خلاف 322 ت پ قتل بالسبب دفعہ کے تحت FIR کاٹ دی۔

2. پنجاب گورنمنٹ کی طرف سے 2010 میں ایک قانون پاس کیا گیا تھا (پنجاب ہیلتھ کمیشن ایکٹ 2010) اس قانون کے بعد ڈاکٹر چاہے اصل ہو یا نقل (عطائی) اسکے خلاف پولیس کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔ لہذا سلامت مسیح کی عطائی ڈاکٹر کے خلاف کروائی گی FIR خارج ہو جائے گی۔

آپکے زہین میں فورآ یہ سوال آیا ہے کہ پھر اسکا حل کیا ہے؟

3. سلامت مسیح صاحب کی طرح سینکڑوں لوگ ہیں۔ جنکی اپنی لاپرواہی اور غفلت بھی انکی پیاروں کی موت کا سبب بنتی ہے۔ بچے کی پیدائش یا دیگر آپریشن کی صورت میں صرف اسی کلینک، ہسپتال سے آپریٹ کروائے جو باقاعدہ رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ہو۔ اور وہاں ایمرجنسی کے تمام الات، مشینری وغیرہ موجود ہو۔

3. کلینک، ہسپتال کی رجسٹریشن آپ وہاں موجود عملے سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر اسکو PHC کی ویب سائٹ سے کنفرم کرسکتے ہیں۔

4. سلامت مسیح یا کسی بھی شخص کو ہسپتال، کلینک، ڈاکٹر و عملہ سے شکایت ہو تو پولیس کے پاس جانے کی بجائے وہ فوراً پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو درخواست دے۔

5۔ اگر مریض کی ہسپتال، کلینک میں وفات ہو گئی ہے اور آپ ڈاکٹر، ہسپتال کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو فوت شدہ مریض کا پوسٹ مارٹم ہر صورت کروائے۔ پوسٹ مارٹم کے بغیر ڈاکٹر چاہے وہ عطائی ہی کیوں نہ ہو اسکے خلاف کارروائی کا کوئی رزلٹ نہیں نکلے گا۔

6۔ اگر کوئی شخص سلامت مسیح بگری قصور کو جانتا ہے تو اس کی رہنمائی فرمائیں کے وہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو (بیوی اور بچے کی موت) شکایت درج کروائے۔ اگر سلامت نے اپنی فوت شدہ بیوی اور بچے کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا تو فلفور عدالت کے ذریعے قبر کشائی (اوپن) کروا کر اسکا پوسٹ مارٹم لازم کروائے۔ ورنہ ڈاکٹر عابدہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی اور یہ دوبارہ موسوم لوگوں کی زندگیوں کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں آئی گی۔

7. پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو کسی بھی ڈاکٹر، ہسپتال کے خلاف شکایت کرنے کا طریقہ بڑا آسان ہے۔ پہلا طریقہ PHC ویب سائٹ پر جا کر آئن لائن درخواست جمع کروائے۔ دوسرا طریقہ ہیلپ لائن
0800 00 742
پر کال کر کے شکایت درج کروائی جا سکتی ہے۔ تیسرا طریقہ بذریعہ آی میل
complaints@phc.org.pk
چوتھا اور سب سے آسان طریقہ
ایک کاغذ پر شکایت لکھے اور اس نمبر واٹس ایپ کر دیں
0306-0843500

8۔ ڈاکٹر چاہے اصل ہو یا نقل اسکے خلاف کارروائی کا صرف یہی طریقہ ہے کہ PHC سے رجوع کیا جائے۔

9. کسی ہسپتال، کلینک، ڈاکٹر کے خلاف آپ وقوعہ ہونے کے 60 دن کے اندر اندر شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ 60 دن کے بعد جمع کروائی شکایت خود بخود خارج ہو جائے گی۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0