عمرکوٹ(ڈاکٹر ایم لال واگھانی)پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی راناہمیرسنگھ سوڈو نے کہاہےکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے وفاقی حکومت کازرعی تحقیقاتی ادارہ (پی اے آرسی)ایرڈ زون ریسرچ سینٹرعمرکوٹ زرعی شعبہ کی ترقی کےلیے اہم کردار ادا کررہا ہےرکن سندھ اسمبلی رانا ہمیرسنگھ نے آج عمرکوٹ میں
عمرکوٹ(ڈاکٹر ایم لال واگھانی)پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی راناہمیرسنگھ سوڈو نے کہاہےکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے وفاقی حکومت کازرعی تحقیقاتی ادارہ (پی اے آرسی)ایرڈ زون ریسرچ سینٹرعمرکوٹ زرعی شعبہ کی ترقی کےلیے اہم کردار ادا کررہا ہےرکن سندھ اسمبلی رانا ہمیرسنگھ نے آج عمرکوٹ میں ایرڈ زون ریسرچ سینٹر کا دورہ کیااور مختلف زرعی تحقیقاتی ادارہ کے مختلف زون کا وزٹ کیااس موقع پر انہوں نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ حکومت سندھ بھی تھرپارکر ،عمرکوٹ ضلع کے غریب کسانوں کےلیے عملی اقدامات کررہی ہے تھرپارکر ضلع کی “60”یونین کونسلوں میں سے “26”یونین کونسلوں میں میٹھا قابل کاشت پانی وافر مقدار میں موجود ہے حکومت سندھ ان کسانوں کو سولر، پانی وغیرہ فراہم کررہی ہے رانا ہمیرسنگھ سوڈو نے ایرڈ زون ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف سائنٹفک آفسیر عزیز اللہ شاہ اور ایرڈ زون کے افسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جدید تحقیقات اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنےوالے بیجوں سے ان کسانوں کو آگاہی دیں کسانوں کو زرعی بیج فراہم کیےجائیں تاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہو رکن سندھ اسمبلی نےکہا کہ تھرپارکر ضلع میں پانی کی قلت نہیں ہے ان کسانوں کو حکومت سندھ ہرممکن سہولیات فراہم کریں گی رانا ہمیرسنگھ نےکہا زرعی تحقیقاتی ادارے کی کارکردگی اور ایرڈ زون ریسرچ سینٹر کادورہ کرکے بہت خوشی محسوس کررہے ہیں اس سے قبل(PARC)ایرڈ زون ریسرچ سینٹر عمرکوٹ کے ڈائریکٹر جنرل عزیز اللہ شاہ نے پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی رانا ہمیرسنگھ اور میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ادارہ مختلف فصلوں مونگ،ماش،چنہ ،فروٹ میں چیکو ،فالسہ ،امرود ،بیر، کجھور اور مختلف سبزیاں کاشت کی جارہی ہیں ان فصلوں پر جدید تحقیقات کرکے ان کے بیج حاصل کرکے ان کو محفوظ کرکے کسانوں کو مفت فراہم کیےجاتے ہیں تاکہ کسان تھرپارکر ، عمرکوٹ میں ان کی کاشت کرکے اپنی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرسکیں عزیز اللہ شاہ نےبتایا کہ اس ضلع عمرکوٹ اور تھرپارکر ضلع کے تقریباً “278”دیہاتوں میں ہم نے پروجیکٹ شروع کیےہیں جہاں پر ان کسانوں کو زرعی بیج اور تربیت مفت فراہم کی جارہی ہےیہ امر قابل ذکر ہےکہ پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل عمرکوٹ کےصحرائی علاقے میں پکی ہوئی کھجور وقت سے پہلے ہی مارکیٹ میں آہ جاتی ہے اس کے علاوہ چیکو،بیر،زیتون، فالسہ سمیت کئی پھولوں کے کامیاب تجربات کیئے گئے ہیں جس سے اس بیابان میں زرعی انقلاب برپا ہوسکتا ہےڈاکٹر محمد صدیق ڈیپر ،پرنسیپل سائنٹیفک آفیسرایرڈزون نےبریفنگ دیتے ہوئےبتایا کہ اس منصوبے کی کامیابی نے صحرائے تھر میں زراعت کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں، جس میں دیگر فصلوں اور علاقوں تک توسیع کے منصوبے پہلے سے جاری ہیں صحرائے تھر میں 1.5 ملین سے زیادہ لوگ رہتے ہیں، جو زیادہ تر برساتی پانی کے ذریعے ہی زراعی کاشت کرنے پر انحصار کرتے ہیں یا مویشی پالنے میں مصروف ہیں ایسے میں مقامی اسٹیک ہولڈرز اور سماجی ادارے ریسرچ سینٹر ایرڈزون عمرکوٹ کے کامیاب تجربات کی روشنی میں عام تھری باسیوں تک تک پہنچایا جائے تو کوئی وجہ نہیں یہ علاقہ پاکستان کے زرمبادلہ میں کافی قدر بہتری لاسکتے ہیں)پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی راناہمیرسنگھ سوڈو نے کہاہےکہ زراعت کا شعبہ پاکستان کی معشیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے وفاقی حکومت کازرعی تحقیقاتی ادارہ (پی اے آرسی)ایرڈ زون ریسرچ سینٹرعمرکوٹ زرعی شعبہ کی ترقی کےلیے اہم کردار ادا کررہا ہےرکن سندھ اسمبلی رانا ہمیرسنگھ نے آج عمرکوٹ میں ایرڈ زون ریسرچ سینٹر کا دورہ کیااور مختلف زرعی تحقیقاتی ادارہ کے مختلف زون کا وزٹ کیااس موقع پر انہوں نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ حکومت سندھ بھی تھرپارکر ،عمرکوٹ ضلع کے غریب کسانوں کےلیے عملی اقدامات کررہی ہے تھرپارکر ضلع کی “60”یونین کونسلوں میں سے “26”یونین کونسلوں میں میٹھا قابل کاشت پانی وافر مقدار میں موجود ہے حکومت سندھ ان کسانوں کو سولر، پانی وغیرہ فراہم کررہی ہے رانا ہمیرسنگھ سوڈو نے ایرڈ زون ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر جنرل اور چیف سائنٹفک آفسیر عزیز اللہ شاہ اور ایرڈ زون کے افسران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جدید تحقیقات اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنےوالے بیجوں سے ان کسانوں کو آگاہی دیں کسانوں کو زرعی بیج فراہم کیےجائیں تاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہو رکن سندھ اسمبلی نےکہا کہ تھرپارکر ضلع میں پانی کی قلت نہیں ہے ان کسانوں کو حکومت سندھ ہرممکن سہولیات فراہم کریں گی رانا ہمیرسنگھ نےکہا زرعی تحقیقاتی ادارے کی کارکردگی اور ایرڈ زون ریسرچ سینٹر کادورہ کرکے بہت خوشی محسوس کررہے ہیں اس سے قبل(PARC)ایرڈ زون ریسرچ سینٹر عمرکوٹ کے ڈائریکٹر جنرل عزیز اللہ شاہ نے پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی رانا ہمیرسنگھ اور میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارا ادارہ مختلف فصلوں مونگ،ماش،چنہ ،فروٹ میں چیکو ،فالسہ ،امرود ،بیر، کجھور اور مختلف سبزیاں کاشت کی جارہی ہیں ان فصلوں پر جدید تحقیقات کرکے ان کے بیج حاصل کرکے ان کو محفوظ کرکے کسانوں کو مفت فراہم کیےجاتے ہیں تاکہ کسان تھرپارکر ، عمرکوٹ میں ان کی کاشت کرکے اپنی فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرسکیں عزیز اللہ شاہ نےبتایا کہ اس ضلع عمرکوٹ اور تھرپارکر ضلع کے تقریباً “278”دیہاتوں میں ہم نے پروجیکٹ شروع کیےہیں جہاں پر ان کسانوں کو زرعی بیج اور تربیت مفت فراہم کی جارہی ہےیہ امر قابل ذکر ہےکہ پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل عمرکوٹ کےصحرائی علاقے میں پکی ہوئی کھجور وقت سے پہلے ہی مارکیٹ میں آہ جاتی ہے اس کے علاوہ چیکو،بیر،زیتون، فالسہ سمیت کئی پھولوں کے کامیاب تجربات کیئے گئے ہیں جس سے اس بیابان میں زرعی انقلاب برپا ہوسکتا ہےڈاکٹر محمد صدیق ڈیپر ،پرنسیپل سائنٹیفک آفیسرایرڈزون نےبریفنگ دیتے ہوئےبتایا کہ اس منصوبے کی کامیابی نے صحرائے تھر میں زراعت کے لیے نئی راہیں کھول دی ہیں، جس میں دیگر فصلوں اور علاقوں تک توسیع کے منصوبے پہلے سے جاری ہیں صحرائے تھر میں 1.5 ملین سے زیادہ لوگ رہتے ہیں، جو زیادہ تر برساتی پانی کے ذریعے ہی زراعی کاشت کرنے پر انحصار کرتے ہیں یا مویشی پالنے میں مصروف ہیں ایسے میں مقامی اسٹیک ہولڈرز اور سماجی ادارے ریسرچ سینٹر ایرڈزون عمرکوٹ کے کامیاب تجربات کی روشنی میں عام تھری باسیوں تک تک پہنچایا جائے تو کوئی وجہ نہیں یہ علاقہ پاکستان کے زرمبادلہ میں کافی قدر بہتری لاسکتے ہیں۔