81

آئینہ وقت کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں “جب پاکستان واقعی آزاد تھا!”

آئینہ وقت
کالم نگار: محمد حنیف شاہد ارائیں

“جب پاکستان واقعی آزاد تھا!”

پاکستان 76 سال کا ہو چکا ہے۔ بظاہر ہم 14 اگست 1947 سے آزاد ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طویل سفر میں ہمیں صرف تین سال اور سات ماہ کا دور ایسا ملا، جب ریاست نے کچھ دیر کے لیے سانس لی، عوام کو خودداری کا ذائقہ چکھنے کو ملا، اور حکمران پہلی بار “عوام” سے ڈرتے ہوئے محسوس ہوئے۔

یہ وہ وقت تھا جب نہ ڈرون حملے ہو رہے تھے، نہ شہر بازار خودکش دھماکوں سے لرزتے تھے۔ نہ کوئی کہتا تھا کہ “ہماری جنگ نہیں”، اور نہ ہی کوئی سازشوں کے جال بُن کر عوامی نمائندوں کو رات کے اندھیرے میں بےدخل کر رہا تھا۔

یہ عمران خان کا دور تھا۔

کیا اُس دور میں سب کچھ پرفیکٹ تھا؟ ہرگز نہیں! مگر کچھ چیزیں ایسی ضرور تھیں جنہوں نے ایک عام پاکستانی کو احساس دلایا کہ ملک اب شاید کسی آزاد قیادت کے ہاتھ میں ہے۔

صحت کارڈ جیسے منصوبے نے غریب کو پہلی بار بڑے اسپتال کی دہلیز تک پہنچایا۔

کسان خوشحال ہوا، اُس کی گندم اور گنے کی قیمت وقت پر ملی۔

پاسپورٹ کی عزت بحال ہوئی۔ بیرون ملک پاکستانیوں نے فخر سے اپنا تعارف کروایا کہ ہاں، ہم عمران خان کے پاکستان سے آئے ہیں۔

خارجہ پالیسی آزاد نظر آئی، جب وزیراعظم امریکہ میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا تھا۔

نوجوان سیاسی شعور کے ساتھ کھڑا ہوا، اور سمجھا کہ ووٹ کی قیمت کیا ہے۔

یہ سب کچھ عارضی کیوں تھا؟
کیونکہ اصل حکمرانی کی خواہش رکھنے والوں کو یہ سب کچھ ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ تین سال سات ماہ کے بعد پھر سے وہی پرانی فلم چل پڑی — اس بار نئی کاسٹ اور پرانی اسکرپٹ کے ساتھ۔

آج ہم پھر اُسی جگہ کھڑے ہیں جہاں سانس لینے کے لیے بھی اجازت درکار ہے۔ جہاں جمہوریت ایک تماشا، اور عوام صرف ووٹ ڈالنے کی مشین ہیں۔
مگر یاد رکھیں، تاریخ ایک دن فیصلہ سناتی ہے — اور وہ فیصلہ آج نہیں تو کل ضرور آئے گا۔

تب شاید ہم ایک بار پھر آزاد ہو سکیں، مگر اس بار ہمیشہ کے لیے۔

نوٹ: یہ کالم کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کے لیے نہیں بلکہ ایک صحافی کے طور پر اُس وقت کی جھلک دکھانے کے لیے لکھا گیا ہے جو آج ماضی کا ایک نایاب باب بن چکا ہے۔

✍️ محمد حنیف شاہد ارائیں
(مصنف و تجزیہ نگار)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں