آئینہ وقت قلم: محمد حنیف شاہد ارائیں
آئینہ وقت
قلم: محمد حنیف شاہد ارائیں
عنوان: انصاف کی کرسی پر بغض یا قانون؟
رانا ثناء اللہ کی زبان سے یہ جملہ کہ “قاضی فائز عیسیٰ نے بغضِ عمران میں فیصلے دیے” نہ صرف عدلیہ پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ خود نظامِ انصاف کے چہرے پر بھی ایک دھبہ ہے۔ یہ بیان ایک وزیرِ داخلہ رہ چکے شخص کا ہے، کوئی سوشل میڈیا صارف نہیں، جو جذباتی تبصرے کر کے آگے بڑھ جائے۔
یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک “عدالتی نظریہ” ہے جو برسوں سے چپکے چپکے عدالتی فضا میں سرایت کر رہا ہے: کیا ہمارے جج صاحبان فیصلے آئین و قانون کے تحت دیتے ہیں یا ذاتی رنجشوں، سیاسی نظریات اور ماضی کی کدورتوں کی بنیاد پر؟
رانا ثناء اللہ کا اعتراف دراصل وہ “آڈیو لیک” ہے جو زبان سے جاری ہوئی، مائیکروفون کی ضرورت نہیں تھی۔ اب یہ سوال سب کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر عدلیہ کی خود مختاری، غیر جانب داری اور آئینی حدود کہاں کھڑی ہیں؟ اور اگر ایسا نہیں تو پھر ایسی باتیں کہہ کر عدلیہ کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے؟
کیا یہ بھی محض ایک سیاسی چال ہے؟ ایک طرف جب فیصلے اپنے حق میں ہوں تو ججز دیانت دار، تاریخ ساز، قانون کے رکھوالے بن جاتے ہیں، اور جب وہی عدالت کسی ایسے کیس میں خلاف فیصلہ دے دے تو جج پر الزام تراشی شروع ہو جاتی ہے۔ یہی دہرا معیار نظامِ عدل کے گلے میں وہ پھندہ ہے جس سے عوام کا اعتماد گھٹتا جا رہا ہے۔
رانا صاحب کے بیان نے اس بیانیے کو تقویت دی ہے جو پہلے ہی عمران خان کے حامی حلقوں میں موجود تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے جانبدارانہ تھے تو پھر اس پر مؤثر قانونی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ اگر عدلیہ متعصب ہے تو پھر وزیر اعظم کی سطح پر ان ججز کے ساتھ رسمی ملاقاتیں اور تعریفیں کس مقصد کے لیے کی جاتی ہیں؟
کیا ہمیں اب اس نکتہ پر سوچنے کی ضرورت نہیں کہ سیاستدان اپنے بیانیے کی خاطر اداروں کو استعمال کرتے ہیں اور جب مقصد پورا ہو جائے تو انہیں بےرحمی سے تنقید کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم عدلیہ کو سیاسی اکھاڑے سے نکال کر قانون کے ستون پر دوبارہ کھڑا کریں۔ ورنہ جو بیج آج بویا جا رہا ہے، وہ کل کو ہر سیاسی رہنما کی جھولی میں بے یقینی اور بےاعتباری کا زہر اُگل دے گا۔