پنجاب بھر میں آبیانہ کی وصولی جاری، کسانوں کی جانب سے آبیانہ بل نا ملنے پر تحفظات کا اظہار
پنجاب بھر میں آبیانہ کی وصولی جاری، کسانوں کی جانب سے آبیانہ بل نا ملنے پر تحفظات کا اظہار
تاندلیانوالہ (علی حسن صابری سے) پنجاب بھر میں آبیانہ کی وصولی کا عمل زور و شور سے جاری ہے، اس سلسلے میں تحصیل تاندلیانوالہ میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیلدار کی نگرانی میں متعلقہ محکمے کی پوری مشینری متحرک ہے، جب کہ دیہاتوں کے نمبردار بھی اس عمل میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔کسان حلقوں نے آبیانہ کی وصولی کو ایک ضروری اور جائز اقدام قرار دیا ہے، تاہم متعدد مقامات سے شکایات سامنے آئی ہیں کہ محکمہ مال کی جانب سے آبیانہ بلز کسانوں کو فراہم ہی نہیں کیے جا رہے۔ یہ بل پٹواریوں اور نمبرداروں کے پاس موجود رہتے ہیں اور کسانوں سے نقد رقم طلب کی جاتی ہے جو کہ قانونی اصولوں کے برخلاف ہے۔کسانوں کا مؤقف ہے کہ آبیانہ کی وصولی کا شفاف نظام قائم ہونا چاہئے، جیسا کہ بجلی کے بلز کا ہے۔ بل براہ راست کسان کو دیا جائے تاکہ وہ خود اسے کسی بھی بینک، ایزی پیسہ یا موبائل اکاؤنٹ کے ذریعے جمع کروا سکے۔ ایک نمبردار کے مطابق بل کسانوں کو اس لیے نہیں دیے جاتے کہ وہ بل گم کر دیتے ہیں، اس لیے ان سے نقد رقم لے کر محکمہ میں جمع کروائی جاتی ہے اور رسید دی جاتی ہے۔کسان برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ آبیانہ کی ادائیگی کے لیے بھی ایسا نظام متعارف کروایا جائے جس میں کسان کو بل دیا جائے اور وہ خود اپنی سہولت کے مطابق اسے ادا کرے۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح کیا جائے کہ اگر کوئی کسان آبیانہ جمع نہ کروائے تو اس کے خلاف کیا ضابطہ کار اپنایا جائے گا۔
کسانوں کا کہنا ہے کہ آبیانہ کی وصولی کو شفاف بنانے سے نہ صرف کسانوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ کرپشن اور بدعنوانی کا بھی خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔