سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سینیٹر اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور، فوری رہائی کا حکم
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: سینیٹر اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور، فوری رہائی کا حکم
اسلام آباد (رپورٹ: محمد حنیف شاہد ارائیں) — پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعجاز چوہدری کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ آج ایک اہم سماعت کے دوران سنایا گیا جس کی صدارت جسٹس نعیم اختر نے کی، جبکہ بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
پس منظر:
سینیٹر اعجاز چوہدری کو گزشتہ ماہ سیاسی سرگرمیوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر مختلف الزامات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے جن میں عوامی اجتماعات سے خطاب، دفعہ 144 کی خلاف ورزی، اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات شامل تھے۔ ان کی گرفتاری کو تحریک انصاف نے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
سماعت کی تفصیل:
سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت میں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اعجاز چوہدری ایک سینئر پارلیمنٹرین ہیں اور ان کے خلاف درج مقدمات بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ چونکہ تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور اعجاز چوہدری کی مزید حراست کی کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہا، اس لیے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اعجاز چوہدری کی ضمانت منظور کر لی اور انہیں ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔
عدالتی ریمارکس:
بینچ کے سربراہ جسٹس نعیم اختر نے ریمارکس دیے کہ “سیاسی اختلافات کو بنیاد بنا کر بنیادی حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔ اگر کوئی شخص پارلیمنٹ کا رکن ہے تو اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے، نہ کہ انتقامی کارروائی کی جائے۔”
سیاسی ردِعمل:
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ پارٹی ترجمان نے اس فیصلے کو “قانون کی فتح اور آئین کی بالادستی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتِ عظمیٰ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ انصاف کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔
آئندہ کی کارروائی:
قانونی ماہرین کے مطابق ضمانت کی منظوری کے بعد سینیٹر اعجاز چوہدری کو اب نچلی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا۔ اگرچہ وہ رہا ہو رہے ہیں، لیکن قانونی جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔