September 1, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

اداریہ عنوان: غلام اور آزاد قوم — سیاسی شعور کا امتحان تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں، بیوروچیف، دعا آن لائن نیوز

20250502_165631
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

اداریہ
عنوان: غلام اور آزاد قوم — سیاسی شعور کا امتحان
تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں، بیوروچیف، دعا آن لائن نیوز

قوموں کی اصل آزادی کا تعین ان کے جھنڈے، قومی ترانے یا محض آزادی کے دن منانے سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ اُن کے سیاسی، آئینی اور ادارہ جاتی نظام سے ہوتا ہے۔ ایک آزاد قوم وہی ہوتی ہے جو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرے، اپنے نمائندے خود منتخب کرے، اور جہاں ریاست کے تمام ستون آئین کے تابع اور عوام کے خادم ہوں۔

بدقسمتی سے ہمارا سیاسی ماحول اور تاریخی پس منظر اس حقیقت کی تائید نہیں کرتا۔ جب ووٹ کی حرمت پامال ہو، جب عدالتیں دباؤ میں ہوں، جب میڈیا کو سنسرشپ کا سامنا ہو، اور جب منتخب ایوان محض نمائشی اجلاسوں تک محدود ہو جائیں، تو ایسی فضا میں قوم کی آزادی ایک خواب سے زیادہ نہیں رہتی۔

سیاسی غلامی کی انتہا یہ ہے کہ عوام کو سوچنے کا حق تو ہو، بولنے کا نہیں۔ انتخاب کا حق ہو، لیکن فیصلہ کہیں اور ہو چکا ہو۔ ایسی غلامی محض بیرونی طاقتوں کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ اندرونی کمزوریاں، ذاتی مفادات، اور مفاہمتی سیاست بھی اس میں برابر کی شریک ہوتی ہیں۔

یہ بات باعثِ تشویش ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اصولوں کے بجائے اقتدار کی سیاست میں الجھی ہوئی ہیں۔ ادارے آئین کے بجائے مصلحتوں کا شکار ہیں، اور عوام صرف تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم ایک اجتماعی سیاسی بیداری پیدا کریں جو محض نعروں تک محدود نہ ہو، بلکہ عملی اقدامات، شفاف اداروں، اور جوابدہ قیادت کی شکل میں سامنے آئے۔

اگر ہم نے اب بھی نہ سوچا تو آنے والی نسلیں ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھیں گی، جو آزاد ہوتے ہوئے بھی غلام تھی۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سیاست کو آزاد، جمہوریت کو مستحکم، اور اداروں کو آئینی دائرے میں لانے کے لیے متحد ہو جائیں۔

آزادی ایک تحفہ نہیں، ایک مسلسل قربانی اور جدوجہد کا نام ہے۔ اور یہ جدوجہد صرف میدانِ جنگ میں نہیں، سوچ، شعور، اور سیاسی عمل میں کی جاتی ہے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0