کیا ہسپتال ٹھیکے پر چلیں گے؟ تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں، بیوروچیف دعا آن لائن نیوز جب سڑکیں ٹھیکے پر بن سکتی ہیں تو پھر ہسپتال کیوں نہیں؟
کیا ہسپتال ٹھیکے پر چلیں گے؟
تحریر: محمد حنیف شاہد ارائیں، بیوروچیف دعا آن لائن نیوز
جب سڑکیں ٹھیکے پر بن سکتی ہیں تو پھر ہسپتال کیوں نہیں؟
یہ سوال بظاہر معصوم ہے، لیکن اس کا جواب ایک پورے نظام کی قلعی کھول دیتا ہے۔
آئیے پہلے اس نظام کو سمجھتے ہیں۔
مثال کے طور پر، ایک سڑک بنانے کے لیے حکومت ایک ارب روپے کا بجٹ دیتی ہے۔ ٹھیکیدار آتا ہے، بولی لگاتا ہے، اور بولی جیتنے کے لیے 30 فیصد حصہ بطور رشوت پیش کرتا ہے۔ مزید 30 فیصد اپنے منافع کے طور پر رکھتا ہے، اور باقی معمولی سی رقم سے سڑک بنا دی جاتی ہے۔ نتیجہ؟ وہی گڑھے، وہی ٹوٹی سڑک، اور وہی دو سال بعد نیا ٹھیکہ۔
اب یہی ماڈل اگر ہسپتالوں پر لاگو کر دیا جائے تو؟
یعنی بجٹ وہی ہو گا جو حکومت براہ راست ہسپتالوں کو دیتی ہے، لیکن اب یہ پیسہ ایک “ٹھیکیدار” کو دیا جائے گا — وہی سرمایہ دار، وہی صنعتکار، وہی سیٹھ، جو ہر بولی میں شامل ہوتا ہے۔
یہ ٹھیکیدار پہلے رشوت دے گا، پھر منافع نکالے گا، اور آخر میں جو بچتا ہے، اس میں ہسپتال “چلائے گا”۔
نتیجہ؟
ڈاکٹرز اور نرسیں کم تنخواہ پر،
دوائیاں ناپید،
مشینیں خراب،
اور مریض در بدر۔
اس ماڈل میں انسان کی جان ایک سرکاری فائل بن کر رہ جائے گی، جس پر ہر افسر، ہر سیٹھ، اور ہر سیاستدان اپنی مہر لگائے گا — مگر علاج نہیں ملے گا۔
یہ نجکاری نہیں، یہ “منافع خوری” ہے۔
یہ سہولت کی فراہمی نہیں، یہ استحصال ہے۔
یہ اصلاحات نہیں، یہ عوام دشمنی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کا یہی کمال ہے —
یہ امیروں کو مزید امیر بناتا ہے،
اور عوام کو مزید محکوم۔
اگر ہم نے ہسپتالوں، تعلیم، پانی، اور صحت کو بھی “ٹھیکے” پر دے دیا تو کل کو شاید سانس لینے کے لیے بھی “ٹھیکہ” لینا پڑے۔
لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں —
ہمیں علاج چاہیے یا ٹھیکہ داری؟
ہمیں سہولت چاہیے یا منافع؟
اگر ان نجکاری کے حملوں کو روکنا ہے،
تو صرف احتجاج نہیں،
بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف شعوری جدوجہد درکار ہے۔