September 1, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سید نصیر حسین زیدی بیورو چیف ان لاین بات تماری نہیں ھے بات زمانے کی ھے ایسا بھی ھوتا ھے

IMG-20250502-WA0087
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سید نصیر حسین زیدی
بیورو چیف ان لاین
بات تماری نہیں ھے
بات زمانے کی ھے
ایسا بھی ھوتا ھے

‏وہ اپنا حلیہ بدل کر پختونخواہ کے انتہائی مصروف بازار میں تکہ بوٹی کا سٹال سجا کر بیٹھ گئے۔

وہ سارا دن تکے لگاتے اور مطلوبہ اشخاص پر گہری نظر رکھتے۔

تین ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا‏وہ کئی مشکوک افراد کو شارٹ لسٹ کر چکے تھے مگر ٹارگٹ ابھی تک لا حاصل تھا۔۔۔

مگر ایک دن ان کا شکار ان کی عقابی نظروں میں آہی گیا..

انہوں نے اپنی ذہانت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے بل بوتے پر‏مطلوبہ شخص کا پتہ لگا لیا۔

یہ سرحد پار سے آئے ہوئے دہشتگردوں کا میزبان تھا اسکا تعاقب کیا گیااور دہشتگردوں کی کمین گاہ کا پتہ لگا لیا گیا۔

یہ تمیرگرہ اپر دیر کا انتہائی دشوارگزار اور پرخطر علاقہ تھا‏جہاں دشمن اپنی بھرپور تیاری کے ساتھ موجود تھا..

9 اگست 2017 کی رات تھی، میجر علی سلمان اپنے گھر سے سینکڑوں کلومیٹر دور دیر کے پہاڑوں میں بیٹھا موبائل پر اپنی اہلیہ اور ننھے بیٹے سے باتیں کر رہا تھا۔ بیٹا بار بار بابا سے جلدی گھر آنے کا ضد کر رہا تھا اور میجر علی نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی آئیگا۔

9اگست 2017 کی دوپہر علی سلمان کو اطلاع ملی کہ ایک درے میں دہشت گرد خفیہ ٹھکانہ بنا کر علاقے میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

میجر علی سلطان نے فورا” حوالدار غلام نظیر شہید،حوالدار اختر شہید اور سپاہی عبدالکریم شہید کو ساتھ لے کر دہشتگردوں کے خفیہ ٹھکانے کا گھیراوء کر لیا۔
دہشتگردوں سے شدید جھڑپ ہوئ جس میں میجر علی سلمان نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ایک خدکش بمبار سمیت کئ دہشتگرد مارگرائے، لیکن تب تک میجر علی سلمان کے ساتھی شدید زخمی ہو چکے تھے(جو کہ بعد میں زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے شہید ہو گئے)

اسی دوران ایک خودکش بمبار عمارت سے نکل کر آبادی کی طرف دوڑ پڑا، چونکہ اسلحہ ختم ہو چکا تھا لہزا میجر علی سلمان نے بھاگ کر دہشتگرد کو دبوچ لیا۔نتیجے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا جس سے علی سلمان شہید کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے۔

لیکن تب تک میجر علی سلمان شہید اور اسکے ساتھی دہشتگردوں کے مزموم عزائم خاک میں ملا چکے تھے۔
میجر علی سلمان شہید کے دو چھوٹے چھوٹے بیٹےتھے جن میں سے بڑے بیٹے سے اس نے ایک دن پہلے ہی جلد گھر آنے کا واعدہ کیا تھا۔

اگر میجر علی سلمان اور ان کی ٹیم ہم پر اس طرح جان نچھاور نہ کرتے، خودکش بمباروں کو وہی پر ختم نہ کرتے اور وہ کسی مسجد کسی سکول یا بازار میں پھٹتے تو میرے علاقے میں کتنے جنازے اٹھتے کتنے گھر اجڑتے، سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں۔
میجر علی سلمان کے شہید ہونے کے بعد انکی جوان بیوی بیوہ ہو گئ لیکن شہید نے اپنی جان قربان کرکے کئ عورتوں کے سہاگ اُجڑنے سے بچا لیے۔

فوج سے بغض چند شخصیت پرست بے غیرت لوگوں اور گھٹیا دانشوروں کا تو ہوسکتا ہے لیکن جب ایسے واقعات دیکھتا ہوں تو دل گواہی دیتا ہے کہ یہ فوج محبت کی لائق ہے۔ یہی ہماری محافظ اور محسن ہے اور جو کوئی مجھے ان سے نفرت اور دشمنی کرنے کا کہے وہی میرا اصل دشمن ہے۔

میجر سلمان علی کی شہادت کے ٹھیک چار دن بعد قوم نے یومِ آزادی بھرپور جوش و جذبے سے منایا۔

اے راہ حق کے شہیدوں وفا کے تصویروں
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔۔۔

#مارخور 🦌🇵🇰

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0