انڈین اینکر بلا وجہ نہیں چیخ رہے
انڈین اینکر بلا وجہ نہیں چیخ رہے
2019 میں ہونے والی پاک بھارت فضائی جھڑپ شاید ایک عام فرد کے لیے تو چھوٹا سا ٹاکرا تھا ، مگر حربی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے لیے یہ مڈ بھیڑ اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے کسی باقاعدہ جنگ سے کم نہیں تھی .
یہ جھڑپ واضح کر رہی تھی کہ فضائی قوت میں پاکستان انڈیا سے کوسوں آگے کھڑا ہے. اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ جنگ میں کسی بھی حریف کی حدود میں کارروائی کے لیے اپنے بیڑے کے بہترین فائٹر جیٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے. اس ٹاکرے میں پاکستانی طیارے جب ایک منظم حکمت عملی کے تحت انڈین حدود میں چھیڑ چھاڑ کر کے واپس پلٹے تو تعاقب میں پچاس کی دہائی میں بننے والا روسی ساختہ مگ 21 اڑا. وہ مگ 21 جس کا استعمال خود روس بھی ترک کر چکا ہے. جیسے ہی یہ جہازوں میں باوا کے درجے کا ضعیف العمر جہاز پاکستانی فضائی حدود میں پہنچا تو اسے جے ایف 17 تھنڈر کے ذریعے یوں مسل دیا گیا جیسے گرمیوں میں لوگ بازو پہ لینڈ کرتے مچھر کو مسل دیا کرتے ہیں. یوں جو کہانی پاکستان کو سبق سکھانے کی غرض سے شروع کی گئی تھی، ٹی از فنٹاسٹک پہ ختم ہوگئی.
اس تگڑے جواب کے بعد بھارت کا جنگی جنون جھاگ کی مانند بیٹھ گیا. اب اسے اندازہ ہوا کہ وہ جس پاکستان کو افغان جنگ کی وجہ سے نحیف و نزار سمجھتا تھا ، وہ تو فضائی طاقت کے اعتبار سے قوی ہیکل دیو کا روپ دھار کر ایشیا میں روس اور چین کے بعد تیسری بڑی قوت بن چکا ہے. چنانچہ انڈیا نے فوراً فرانس سے رافیل طیارے منگوائے اور ایک بار پھر چوڑا ہو کر شریکوں کی گلیوں میں گھومنے لگا.
انڈیا کے اس ایک داؤ کے جواب میں پاکستان نے دو داؤ کھیلے. ایک طرف تو چین سے جے 10 سی طیارے خریدے، اور دوسری جانب ترکی سے بیرکتار ٹی بی ٹو اور بیرکتار آکنجی جیسے جدید ترین ڈورن طیارے پکڑے . جے 10 سی نے رافیل طیاروں کے ذریعے حاصل ہونے والی انڈیا کی سبقت کو ملیامیٹ کیا اور ترک ڈرونز نے پاکستان کی فضائی قوت کی برتری کو مزید مستحکم کردیا.
بیرکتار ٹی بی ڈرون طیارے کی کارکردگی اور صلاحیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آرمینیا اور آزربائیجان کی جب جنگ شروع ہوئی تو حسبِ سابق آرمینیائی افواج کو آزری سپاہ پہ فوقیت حاصل تھی. ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ متنازع علاقہ ناگورنو کراباخ آزربائیجان کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گا. مگر پھر یکایک ترک ساختہ بیرکتار ٹی بی ڈرون طیارے فضاؤں میں نمودار ہوئے اور آرمینیائی زمینی افواج کو مسالے کی طرح پیس کر رکھ دیا. یہی ڈرونز جنگ کی ابتداء میں یوکرائن نے روس کے خلاف استعمال کیے، جس میں اسے اس قدر کامیابی ملی کہ یوکرائن میں اس طیارے پہ باقاعدہ ترانے لکھے گئے.
انڈین ٹی وی شو کی ایک ویڈیو وائرل ہے، جس میں اینکر چلا چلا کر اپنے عوام کو بتا اور ڈرا رہا ہے کہ پاکستان میں واقع مرید ( ضلع چکوال ) ایئر بیس پر ترک ساختہ بیرکتار ٹی بی ڈرون طیارے کھڑے ہیں. یہ چیخ و پکار ضرورت سے زیادہ سہی مگر اتنی بھی بےمعنی نہیں ہے. کیوں کہ یہ طیارے 27 گھنٹے فضا میں رہنے ، پچیس ہزار فٹ بلندی پر پرواز کی اہلیت کے ساتھ ساتھ بھاری ہتھیار بھی ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں. دوسری جانب انڈیا کے پاس بھی ڈرونز ضرور موجود ہیں، مگر وہ حملے کی صلاحیت اور طویل پرواز کی اہلیت سے محروم ہیں. سو ڈرونز کے میدان میں انڈیا پاکستان سے اس قدر پیچھے ہے کہ دونوں ممالک کا آپس میں موازنہ بنتا ہی نہیں ہے.
کارگل جنگ پاکستان اور انڈیا کے درمیان روایتی طرز پہ لڑی جانے والی آخری جنگ تھی، جس میں معمول کا ہتھیار اور تینیک بروئے کار لائی گئی تھی. اب ہمارے پاس ایٹم بم، طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، کروز میزائل،شاہین میزائل اور حالیہ میزائل تجربےنے انڈیا کی پھاڑ کے رکھ دی ہے جدید ترین فضائیہ اور ڈرونز جدید بحری بیڑے آبدوزیں اور وار ہیڈ استعمال کرنے کی آبدوزیں صلاحیت نے ہندو بنئیے کا جینا حرام کر دیا ہے ۔
فضائی قوت جنگوں میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے. حالیہ سالوں میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئی ہیں، سبھی میں فضائیہ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے. اب وہی ملک فوجی لحاظ سے طاقتور سمجھا جاتا ہے، جس کے پاس جدید ہتھیاروں سے لیس فضائیہ ہے.
مارشل آرٹ میں ایک بات کہی جاتی ہے، وہ یہ کہ مارشل آرٹ لڑائی کے لیے نہیں، بلکہ لڑائی کے امکانات کو کم کرنے کے لیے سیکھا جاتا ہے. جنگوں کا بھی یہی اصول ہے. اگر دونوں پہلوان جوڑ کے ہوں تو لڑائی کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں. روس اور امریکا کی مثال ہمارے سامنے ہے. دونوں بڑی طاقتیں ہیں. یہ کبھی ویت نام میں لڑیں گی، کبھی افغانستان میں بالواسطہ مدمقابل آئیں گی اور کبھی شام میں پنجہ آزمائی کریں گی ،مگر براہ راست ایک دوسرے سے کبھی نہیں الجھیں گی . یہی طاقت کا فلسفہ ہے.
انڈیا اور پاکستان آپس میں لڑتے لڑتے اچھے خاصے پہلوان بن چکے ہیں. خصوصاً پاکستان، جس نے افغانستان کی سر زمین پر ہونے والے دو بڑے دنگل میں کسی نہ کسی سطح پر موجود رہ کر اور کردار ادا کرکے دنیا سے اپنی حربی صلاحیت منوائی ہے اور اندرونی شورشوں سے نمٹتا چلا آیا ہے، بہترین ہتھیاروں سے لیس ہے، اس کی صلاحیتوں کو حریف و حلیف کوئی بھی نظر انداز نہیں کرسکتا. سن اکہتر کا داغ تو دامن پر اس کے لیے لگا کہ اپنے گھر کے لوگ دشمن صفوں میں جا کھڑے ہوئے تھے. اپنے گھر میں لڑی جانے والی لڑائی اس قدر مہلک ہوتی ہے کہ ایسی صورت حال نے خلافتِ عثمانیہ جیسی عظیم اور طاقتور سلطنت کے بھی بخیے ادھیڑ دیے تھے. ایسا کوئی مرحلہ اگر روس یا امریکا جیسی طاقتوں کو درپیش ہوا تو ان کا بھی صحیح سلامت بچ نکلنا محال ہوگا. سن اکہتر کے معرکے کے علاوہ ہر معرکے میں پاکستان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے .
خلاصہء کلام یہ ہے کہ جنگ ہوتی دکھائی نہیں دے رہی. رہا سہا امکان پاکستان کے جارحانہ اقدامات نے ختم کر دیا ہے. لہٰذا اطمینان سے گندم کی کٹائی پہ توجہ دیں، ستو کا شربت پئیں، رسیلے آموں کے استقبال کی تیاریاں شروع کیجئے اور گرمیاں ” انجوائے ” فرمائیں!