*عالمی یوم کتاب اور حق تصنیف کے موقع پر ادارہ فروغ قومی زبان کی مطبوعہ “حق تصنیف” کاچرچا*
*عالمی یوم کتاب اور حق تصنیف کے موقع پر ادارہ فروغ قومی زبان کی مطبوعہ “حق تصنیف” کاچرچا*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) عالمی یوم کتاب اور حق تصنیف کے موقع پر جامعہ کراچی میں ڈاکٹر جمیل جالبی فاونڈیشن کی جانب سے مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض مجید رحمانی نے نہایت خوبصورتی سے انجام دیئے۔ مذاکرے میں نامور اہل قلم اور کتاب دوست شخصیات نے شرکت کی، تقریب کی صدارت معروف صحافی، شاعر اور افسانہ نگار زیب اذکار حسین نے کی جبکہ دیگر شرکاء میں ڈاکٹر رئیس صمدانی، پروفیسر انیس زیدی، پروفیسر شاہد کمال، طارق رئیس فروغ، ڈاکٹر عرفان شاہ، انچارچ اردو لغت بورڈ طارق بن آزاد، پروفیسر مشتاق مہر، سید ذوالفقار علی و دیگر شامل تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر شاہد کمال نے کتاب کے لمس سے جڑی رومانیت کا ذکر کیا جبکہ پروفیسر انیس زیدی نے زمانے کے ساتھ کتاب کے بدلتے روپ سے وابستہ افادی پہلو کو قبول کرنے پر زور دیا، دیگر مقررین نے کتاب بینی کے فروغ اور اس سلسلے میں ڈاکٹر جمیل جالبی کے کردار کو سراہا اور ان کے انتقال کے بعد ڈاکٹر خاور جمیل کی خدمات کو قابل تحسین قرار دیا۔ شرکاء نے مختلف انداز میں ڈاکٹر جمیل جالبی فاونڈیشن کی کارکردگی پر روشنی ڈالی بالخصوص اس ضمن میں تقریب کی منتظمہ اور ڈاکٹر جمیل جالبی فاونڈیشن کے شعبہ مطبوعات کی روح و رواں گلناز محمود کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ “حق تصنیف” کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رئیس صمدانی نے حاضرین کو بتایا کہ ادارہ فروغ قومی زبان سابقہ مقتدرہ قومی زبان نے باقاعدہ اسی نام سے ایک کتاب شائع کی ہے جو پاکستان میں حق تصنیف آرڈینس سے متعلق ہے، بعد میں دیگر شرکاء نے بھی بار بار اس اہم کام کا حوالہ دیتے ہوئے ادارہ فروغ قومی زبان کی اس کاوش کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ حق تصنیف سے متعلقہ قوانین کی آگاہی کے سلسلے میں بھی باقاعدہ سیمینار کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔ اس موقع پر ادارہ فروغ قومی زبان کے فیلڈ دفتر اردو لغت بورڈ، کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے طارق بن آزاد نے اپنی گفتگو میں عالمی یوم کتاب کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم کی خدمت تحقیق و کتاب کے باب میں”حاجی بغلول” کی ترتیب و تدوین کا تذکرہ کیا اور حاضرین کو بتایا کہ حاجی بغلول کے دیباچے میں ڈاکٹر جمیل جالبی نے Don Quixote کا ذکر کیا ہے جس کا انھوں نے منشی سجاد حسین کے کردار حاجی بغلول اور رتن سرشار کے خوجی و آزاد سے تقابل کیا ہے۔ ڈاکٹر جمیل نے اپنے زمانے کے مزاج کے مطابق Don Quixote کو “ڈون کوئزو” لکھا ہے جبکہ جدید رجحان کے مطابق اس نام کو تلفظ کے مطابق “ڈان کے ہوتے” لکھا جاتا ہے۔ یہ ناول Miguel de Cervantes کی تخلیق ہے اور اسی “سروان تے” کے نام پر بارسلونا میں قائم شدہ ایک طباعتی ادارے کے ڈائریکٹر Vicente Clavel نے سروان تے کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اولا 1922 میں یوم کتاب کا خیال پیش کیا تھا جو پہلے پہل اکتوبر 1926 میں سروان تے کے یوم پیدائش کی مناسبت سے منایا گیا بعد ازاں 1930 میں اسے 23 اپریل کو منتقل کردیا گیا جو کہ Miguel de Cervantes کا یوم وفات ہے جبکہ یونیسکو نے موجودہ عالمی یوم کتاب کا آغاز 1995 میں کیا اور اسکی تاریخ کیلئے شیکسپیئر کے یوم وفات کو بنیاد بنایا ہے لیکن اس تاریخ سے نسبت رکھنے والے دیگر قلم کاروں کو خراج تحسین پیش کرنے کا تصور بھی اس میں کارفرما ہے۔
زیب اذکار حسین نے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر جمیل جالبی مرحوم کی تاحیات کتاب دوست سرگرمیوں، تحقیقی خدمات اور نواردان بساط ادب کی حوصلہ افزائی کا ذکر کیا اور ڈاکٹر خاور جمیل کی جانب سے اسی شمع کو جلائے رکھنے کو خوش آئند قرار دیا۔
تقریب کے اختتام پر منتظمہ گلناز محمود نے کلمات تشکر پیش کئے اور ڈاکٹر جمیل جالبی فاونڈیشن کے زیر اہتمام مزید کتب کی جلد اشاعت کا مژدہ بھی سنایا۔