October 28, 2026

بدنام زمانہ عدلیہ کے بد نما اور بد اعمال کارنامے جج پہلے جنرلوں کی ائین شکنی کو جائیز اب خود آئین شکنی کر رھے ہیں

IMG-20240611-WA0057(13)

بدنام زمانہ عدلیہ کے بد نما اور بد اعمال کارنامے

جج پہلے جنرلوں کی ائین شکنی کو جائیز اب خود آئین شکنی کر رھے ہیں

بلاشبہ آئین میں ردو بدل – از سرنو تحریری – توسیع – معطل یا منسوخ کرنا آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی ھے
چاھے وہ کوئ جج کیوں نا ھو
جو تشریح کی آڑ میں آئین کو بدلنے کی اجازت نہیں دیتا ھے

جس طرح ماضی میں جنرلوں نے آئین پاکستان کو توڑا – منسوخ اور معطل کیا تھا
جس کی سزا موت ھے جس طرح جنرل مشرف کو آئین شکنی کی سزاۓ موت دی گئی ھے
جس پر کوئ پانڈی حکومت عمل درآمد نہیں کر پائ ھے

یا پھر جج بندیالی ٹولہ ججوں نے آئین میں اضافہ کرتے ھوۓ آئین کے آرٹیکل 63اے کی تشریح کی آڑ میں آئین میں اضافہ کرتے ھوۓ پارلیمنٹرین کو ووٹنگ حق سے محروم کر دیا ھے
کہ اب وہ نا اپنی پارلیمانی پارٹی کی مرضی سے ووٹ دے سکتا ھے اگر دے گا تو اس پارلیمنٹرین کا ووٹ شمار نہیں کیا جاۓ گا

جو مہذب دنیا بھر کے دساتیر کا مذاق کیا گیا ھے

کہ کسی شخص یا پرلیمنٹرین کو اس کے بنیادی حق سے محروم کر دیا جاۓ
یہی وجوھات ہیں کہ پاکستان کی عدلیہ بدنام زمانہ بن چکی ھے
جس نے ماضی میں جنرلوں کی آئین شکنی کو جائیز قرار دیا

اب خود آئین شکنی کر رھی ھے