کسووال بچوں و نوجوان لڑکوں سے زیادتی کے بعد ویڈیوز بیرون ملک ایران میں فروخت ہونے کا انکشاف، ایس ایچ او امجد آرائیں نوٹوں کے عوض کاروائی کرنے سے گریزاں
کسووال میں لڑکوں سے جنسی زیادتی کے اڈے قائم، کئی ویڈیوز نورنظر میڈیا گروپ کو موصول، بدفعلی کی ویڈیو کے ہاتھوں بلیک میل ہونے والے نوجوان کی خودکشی، کئی بڑے بڑے نام نہاد چوہدری ویڈیوز سے بلیک میل ہو کر منتھلیاں دینے پر مجبور، مقامی پولیس بھی اپنا حصہ لی کر چپ،
جہاں ایک طرف نائیکائیں خواتین و خوبرو لڑکیوں سے جسم فروشی کا دھندہ کرواتی ہیں وہیں کسووال میں لونڈے بازی کا دھندہ بھی عروج پر ہے۔ ٹائیگر گروپ، ہنٹر گروپ و دیگر جرائم پیشہ لونڈے بازوں کے گروہ کئی بچوں و نوجوان لڑکوں سے حرام کاری کر کے ویڈیوز بنا چکے ہیں۔ اسکول آنے جانے والے نوجوان طلباء، کالج سٹوڈنٹس، دیگر کم عمر کے بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر ویڈیوز بنا کر بلیک میل کر کے رقم بٹورنا اور ویڈیوز کو بیرون ملک فروخت کرنا اس مکروہ دھندہ میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کا شیوہ۔ نورنظر میڈیا گروپ نے جب اس گھناونے مکروہ دھندہ کی بابت اس خطرناک گینگ کے کارندے رابط کیا تو معلوم ہوا کہ متعدد پولیس آفیسرز بھی نوٹوں کی چمک کے عوض اس گند کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ایس ایچ او امجد آرائیں بھی بھاری رقم لے کر ویڈیوز بنانے و فروخت کا دھندہ کرنیوالے گروہ کے خلاف کاروائی سے گریزاں، ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک سب انسپکٹر صاحب بہادر و ایک اسٹنٹ سب انسپکٹر صاحب ملکر باہم صلاح مشورہ سے کسووال چھوٹا پھاٹک کے قریب جسم فروشی کا دھندہ بھی کروا رہے ہیں اور حرام کاری کے لیے آنے والے مکروہ کرداروں کو پولیس کی آڑ میں مقدمات کے اندراج کا خوف دلا کر خوب لوٹا جاتا ہے۔ کئی بڑے بڑے چوہدری، و نام نہاد خود ساختہ عزت داران بھی بچوں سے جنسی زیادتی کے اس مکروہ دھندہ میں ملوث ہیں۔ محرم الحرام کے بعد یکے بعد دیگرے ان مکروہ کرداروں کی ویڈیوز کو بھی اعلیٰ افسران و نیوز گروپس میں شئیر کیا جائے گا تاکہ لاالہ الااللہ کے نام پر بننے والی مملکت خدادا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس مکروہ و کبیرہ گناہ کے دھندے کا خاتمہ ہو سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایس ایچ او کسووال و دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاران اس مکروہ دھندہ میں ملوث کرداروں کے خلاف کیا کارروائی کرتے ہیں۔ اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ ایس ایچ او امجد آرائیں کے اثاثوں کو بھی چیک کیا جائے کہ مال کدھر سے آ رہا ہے اور کدھر جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کسووال میں موجود متعدد صحافی حضرات بھی اس بارے مکمل معلومات رکھنے کے باوجود آواز اٹھانے کی بجائے نوٹوں کے عوض اپنا ضمیر بیچ چکے ہیں۔ اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ اس مکروہ دھندہ میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔ اگلے شمارے میں اس مکروہ دھندہ میں ملوث کرداروں و پولیس اہلکاروں کی تصاویر بھی شائع کی جائیں گی۔