81

*_‏قومی اسملبی کی جمع تفریق تو 15 دنوں میں ہوجائے گی، حکومت کو اصل چیلنج سینیٹ میں دو تہائی پوری کرنا ہے_*

*_‏قومی اسملبی کی جمع تفریق تو 15 دنوں میں ہوجائے گی، حکومت کو اصل چیلنج سینیٹ میں دو تہائی پوری کرنا ہے_*

*_جمع تفریق اور گنجائش نکالنے کے بعد کیلکولیشن کی ہے جس کے بعد حکومت+اتحادیوں کے پاس قومی اسمبلی میں 205 اراکین ہیں، دو تہائی کیلئے 224 اراکین چاہئیں_*

*_قومی اسمبلی کے اراکین کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ شاید توڑ لئے جائیں، فرض کیا توڑ لئے جاتے ہیں جو کہ بظاہر ناممکن لگ رہا ہے، سیاستدان مشکل سے اپنی سیاست بچا کر ایوان میں پہنچا، سب سے مقبول جماعت کیساتھ کھڑا ہے، عوامی حمایت بھی ہے وہ کیوں کر ایسی جماعت کو سپورٹ کرے گا جو اپنی حمایت عوام میں کھو رہی ہیں، مقبول نہیں ہیں، عوام نفرت کرتی ہے_*

*_خیر اگر اراکین قومی اسمبلی کو توڑ لیا جاتا ہے پھر گیم پھنسے گی سینیٹ میں جاکر، وہاں حکومت کیساتھ بڑا ہاتھ ہوا ہے، ابھی حکومت+ کے پاس 54 اراکین کی حمایت حاصل ہے، دو تہائی کیلئے 67 اراکین کی حمایت چاہئے_*

*_حکومت کو سینیٹ میں دوتہائی پوری کرنے کیلئے مولانا فضل الرحمان، ایمل ولی خان کے 8 ووٹ چاہئیں ہوں گے اس کے علاوہ ایک ہی صورت ہے کہ تحریک انصاف ان کیساتھ ملکر دوتہائی پوری کردے، خیبرپختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے بعد تحریک انصاف 27 اراکین کیساتھ سییٹ کی سب سے بڑی جماعت بن جائے گی، علامہ راجہ ناصر عباس ایم ڈبلیو ایم اور حامد خان سُنی اتحاد کونسل کے سینیٹر ہیں_*

*_جمع تفریق کرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ حکومت 4 سے 5 سینیٹر مشکل سے ادھر اُدھر کر سکتی ہے، اس لئے وہاں بھی حکومت دو تہائی حاصل نہیں کر پائے گی ،، یعنی کہ سُپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دو تہائی حاصل کرنا اب خواب ہی رہے گی، سب کچھ پانی میں بہہ گیا۔۔۔!!!_*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں