میرپورخاص (رپورٹ شاھدمیمن) رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت مہینے کے شروع ہوتے ہی مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ گیا ہے، شہر کی مارکیٹوں میں اندھیر نگری چوپٹ راج جاری ہے،
میرپورخاص (رپورٹ شاھدمیمن) رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت مہینے کے شروع ہوتے ہی مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ گیا ہے، شہر کی مارکیٹوں میں اندھیر نگری چوپٹ راج جاری ہے، دکانداروں نے من مانی شروع کر دی ہے اور شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے، تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامہ مسترد کر دیا اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں خودساختہ طور پر اضافہ کر دیا ہے تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی شہر کی مارکیٹوں میں اس وقت اشیاء خوردونوش کی خود ساختہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ پرائس کمیٹی کا فعال نہ ہونا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹ کی قیمتوں پر چیک نہ رکھنا بھی شامل ہے آٹے و چینی کے بعد دالوں، روز مررہ استعمال کی دیگر اشیاء اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے تاجروں نے پرانے اسٹاک کو بھی نئی قیمتوں پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے تاجروں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامہ پس پشت ڈال دیا ہے آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد مہنگائی کا تدراک کرنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے مگر زمینی حقائق سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت یہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام نظر آ رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مہنگائی کا جن بوتل میں بند نہ ہونے کے باعث خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے عوام کی زندگی اجیرن بن چکی ہے پھلوں، سبزیوں اور روز مررہ استعمال ہونے والی اشیاء کے نرخوں پر نظر ڈالی جائے تو ضرورت کی ہر چیز پانچ یا سات سو روپے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی دسترس سے دور ہو چکی ہے پھل، سبزیاں، آٹے، چینی، چاول، دالوں مصالحہ جات اور آئل و گھی کی قیمتیں سن کر غریب آدمی کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے کہ وہ جسم اور روح کا رشتہ کیسے برقرار رکھے روزمرہ کی اشیاء اتنی بڑھ گئی ہیں کہ غریب آدمی ان تک پہنچ ہی نہیں سکتا عام آدمی پہلے ہی غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اب دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے حکمراں عوام کو مہنگائی کے عفریت سے نجات نہ دلا سکے جس کی وجہ سے ملک کی 70 فیصد آبادی کو خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور عوام کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں بازاروں میں نہ صرف غیر معیاری اشیائے خورد و نوش دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں بلکہ منہ مانگے دام بھی وصول کئے جا رہے ہیں دکانوں اور ٹھیلوں پر آویزاں نرخوں کی فہرستیں محض دکھاوا ہیں صرف گزشتہ ہفتہ کے دوران پھلوں کی قیمتوں میں 50 سے سو فیصد جبکہ تمام اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹی قیمتوں پر کنٹرول کرنے بری طرح ناکام ہے اور مارکیٹ کمیٹیوں کا کردار کہیں نظر نہیں آرہا حالانکہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ذمہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر چیک رکھنا ہوتا ہے کبھی کبھار ڈی سی یا اسسٹنٹ کمشنر بازاروں یا منڈیوں کا دورہ کرتے ہیں تو ایک دو دن صورتحال بہتر ہو جاتی ہے لیکن دوبارہ وہی ملی بھگت شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے عام صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے کوئی ادارہ موجود ہی نہیں ہوتا اور عوام مہنگے داموں اشیا خریدنے پر مجبور ہیں اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو چاہئے کہ اصلاح احوال پر بھرپور توجہ دیں تاکہ مہنگائی کا تدارک یقینی ہو سکے اور عوام سکھ کا سانس لے سکیں اس حوالے سے صوبائی حکومتوں کو اپنی قانونی رٹ قائم کرنا ہوگی تاکہ مہنگائی کا باعث بننے والے مافیاؤں کو عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــ
میرپورخاص (رپورٹ شاھدمیمن) رمضان المبارک میں شہریوں سے مال بٹورنے کی خاطر ایک بار پھر شہر و گرد و نواح میں گداگروں کی یلغار ہے، سینکڑوں گداگروں پر مشتمل درجنوں چھوٹے بڑے گروپ شہر میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں پیشہ ور بھکاریوں میں سب سے بڑی تعداد عورتوں اور مختلف عمر کے بچوں کی ہے ان عادی بھکاریوں نے رمضان و عید سیزن کمانے کیلئے مختلف علاقوں میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں اس معاملے میں تاحال ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی بھکاری مافیا کو روکنے کے لئے کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی گئی ہے رمضان سیزن لگانے کیلئے گداگروں کے بیشتر گروپس ڈویژن کے مختلف علاقوں تھرپارکر، عمرکوٹ، کنری، نوکوٹ، جھڈو، میرواہ، ڈگری اور دیگر علاقوں سے پہنچے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں پہلے سے موجود بھکاریوں اور رمضان سیزن کمانے کے لئے آنے والے بھکاریوں کی مجموعی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک پانچ سو سے زائد ہے جس میں مزید اضافہ ہو گا ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بھکاری اس رمضان کے سیزن میں شہریوں سے ایک خطیر رقم صرف بھیک کی مد میں کما کر جاتے ہیں بلکہ یہ گداگر جرائم کی وارداتیں بھی کرتے ہیں منشیات کی ترسیل کا بھی ایک اہم ذریعہ یہی گداگر ہیں اور انہیں کسی بھی مقام پر کوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ چیک نہیں کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ منشیات کی کھیپ بھی باآسانی ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کر دیتے ہیں ان گداگروں کا تعلق مختلف برادریوں سے ہے جنہوں نے اپنے نام مسلمانوں والے رکھے ہوئے ہیں اس کے علاوہ مسلمان پیشہ ور گداگر بھی بھیک مانگنے میں پیش پیش ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ان بھکاریوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی جا سکی ہے جس کی وجہ سے گداگر صبح ہوتے ہی رہائشی اور تجارتی علاقوں کا رخ کر کے لوگوں کو پریشان کرتے ہیں شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کارروائی کر کے لوگوں کی پریشانیوں کو دور کیا جائے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــ
میرپورخاص (شاھدمیمن) رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے اوقات کے دوران گیس کی بلاتعطل فراہمی کے دعووں کی قلعی کھل گئی، پہلے عشرے کے آغاز میں گیس کی بندش نے روزہ داروں کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا، ایل پی جی عوام کی پہنچ سے دور ہے خواتین لکڑیوں پر سحر و افطار کی تیاریاں کرنے لگیں تفصیلات کے رمضان المبارک میں سحری اور افطار کے اوقات کے دوران گیس کی بلاتعطل فراہمی کے دعووں کی قلعی کھل گئی پہلے عشرے کے آغاز میں گیس کی بندش نے روزہ داروں کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا ایل پی جی عوام کی پہنچ سے دور ہے خواتین لکڑیوں پر سحر و افطار کی تیاریاں کرنے لگیں ہیں سوئی سدرن گیس کمپنی نے چند روز قبل اپنے اعلامئے میں لوگوں کو سحری اور افطار کی تیاری کے لئے بلاتعطل گیس کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی جبکہ سوئی گیس کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں یقین دہانی کرائی تھی کہ سحری کے لئے رات 3 بجے سے صبح 9 بجے تک اور افطار کے لئے دوپہر 4 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا شہر کے مختلف علاقوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں سحری اور افطار کے اوقات میں گیس نہیں مل رہی دریں اثنا ذرائع نے بتایا کہ گیس کمپنی کا ناقص اور خستہ حال ڈسٹری بیوشن سسٹم شہر میں گیس کے کم پریشر کی ایک بڑی وجہ ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ سحری اور افطار کے دوران دباؤ کم ہو جاتا ہے کیونکہ اُس وقت زیادہ تر لوگ ایک ساتھ چولہے استعمال کرتے ہیں سکشن پمپس کے بڑے پیمانے پر استعمال کی وجہ سے بھی بعض علاقوں میں پریشر کم ہوا ہے۔