October 31, 2026

انگریزی امریکا کی سرکاری زبان ہو گی ، ٹرمپ کے فیصلے کا مطلب کیا ہے ؟

20250228_180229

انگریزی امریکا کی سرکاری زبان ہو گی ، ٹرمپ کے فیصلے کا مطلب کیا ہے ؟

توقع ہے کہ امریکی صدر ایک تاریخی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے انگریزی کو امریکا کی سرکاری زبان کے طور پر مقرر کر دیں گے۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا فیصلہ ہو گا۔

یہ یگزیکٹو آرڈر سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے دور سے متعلق اس تفویض کو ختم کر دے گا جس میں وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے والی ایجنسیوں اور اس سے مستفیض ہونے والوں سے یہ تقاضا کیا گیا تھا کہ وہ انگریزی نہ بولنے والوں کو وسیع پیمانے پر زبان کی مدد فراہم کریں۔

پہلی مرتبہ قومی زبان
نئے آرڈر کے تحت ایجنسیوں کو اس معاملے میں لچک حاصل ہو جائے گی کہ وہ انگریزی کے سوا دیگر زبانوں میں کب اور کس طرح سے خدمات پیش کریں۔ یہ بات وائٹ ہاؤس کی جانب سے ABC نیوز کو فراہم کی گئی معلومات پر مبنی بیان میں سامنے آئی ہے۔

یہ پہلا موقع ہو گا جب امریکا کی کوئی قومی زبان ہو گی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے میں جب کہ امریکا بھر میں سیکڑوں زبانوں میں بات چیت کی جا رہی ہے ، یقینا انگریزی زبان سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق قومی زبان کا تعین ملک اور اس کے ہم وطنوں کو متحد کرتا ہے۔

امریکا میں 350 سے زیادہ زبانیں
قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکا میں لوگ 350 سے زیادہ زبانوں میں رابطہ کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہسپانوی، چینی، تاغالوگ، ویتنامی اور عربی زبانیں انگریزی کے علاوہ سب سے زیادہ پھیلی زبانوں میں سے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 تک امریکا میں انگریزی کے سوا دیگر زبانیں بولنے والوں کی مجموعی تعداد 1980 کے مقابلے میں تین گنا بڑھ چکی ہے … یعنی یہ تعداد 2.31 کروڑ (ہر 10 میں سے 1 شخص) سے بڑھ کر 6.78 کروڑ (ہر 5 میں سے 1 شخص) ہو گئی۔

رپورٹ کے مطابق انگریزی زبان بولنے والوں کی تعداد بھی 1980 میں 18.72 لاکھ سے بڑھ کر 2019 میں 24.1 کروڑ افراد تک پہنچ