واپڈا اور نجی سیکیورٹی کمپینوں کا جال از قلم غنی محمود قصوری
واپڈا اور نجی سیکیورٹی کمپینوں کا جال
از قلم غنی محمود قصوری
آج میں پاکستان کے 2 ایسے بڑے اہم مسائل پر لکھنا چاہتا ہوں جو ہمارے معاشرے میں بے حسی کی اعلیٰ مثال ہیں
ایک طرف بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ سے معمولی تجاوز پر غریب صارف کو بہت بڑی سزا دی جاتی ہے تو دوسری طرف ہماری نجی پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنیاں غریب ملازمین کا استحصال کر رہی ہیں ،یہ دونوں معاملات فوری حکومتی توجہ کے متقاضی ہیں
پہلا مسئلہ بجلی کے 200 یونٹ اور غریب صارف پر چھ ماہ کی سزا کا ہے
دنیا بھر میں عام اصول یہ ہے کہ کوئی شخص جتنی زیادہ چیز خریدتا ہے تو اسے اتنا ہی زیادہ ریلیف ملتا ہے لیکن پاکستان میں بجلی کے معاملے میں اس اصول کے بالکل الٹ ہو رہا ہے
ذرا ایک انتہائی غریب گھرانے کا تصور کریں کہ جہاں گھر میں صرف 4 افراد ہیں
دن بھر ایک پنکھا چلتا ہے، چند منٹ کے لئے واٹر پمپ استعمال ہوتا ہے، کبھی استری چلتی ہے اور فریج اپنی ضرورت کے مطابق 24 گھنٹے بجلی استعمال کرتا ہے
اس کے علاوہ گھر میں کوئی بڑی مشین یا آسائش نہیں گرمیوں میں ان چند بنیادی ضروریات کے باوجود بڑی آسانی سے بجلی کے 200 یونٹ سے تجاوز ہو سکتا ہے
اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی صارف کے یونٹ 190 یا اس کے آس پاس ہوں تو اس کا بل تقریباً 3 ہزار، 3 ہزار 500 یا 4 ہزار روپے آتا ہے
لیکن جیسے ہی یونٹ 200 سے ایک یا 2 یونٹ اوپر ہوتے ہیں بل اچانک تقریباً 10 ہزار روپیہ تک پہنچ جاتا ہے
پھت اس کے بعد اگلے 6 ماہ تک مہنگے ٹیرف کا بوجھ بھی اس صارف پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے تقریباً 45 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کا خرچ اس کے لیے مذید مشکل بن جاتا ہے
میں موجودہ حکومت کے ان لوگوں سے سوال کرتا ہوں جنہوں نے یہ قانون بنایا یا اسے برقرار رکھا ہوا ہے کیا تم نے مرنا نہیں؟ کیا قبر کے اندر تم نے حساب نہیں دینا؟ کیا تمہیں خوفِ خدا نہیں ہے؟
ہر بندہ سولر سسٹم نہیں لگوا سکتا، ہر بندہ 2 بجلی کے میٹر نہیں لگوا سکتا
جو غریب بیچارہ گھر کی روٹی پوری نہیں کر سکتا اگر اس کے بجلی کے یونٹ 200 سے صرف ایک یونٹ اوپر ہو جائیں تو تم اسے اگلے 6 ماہ تک مذید سزا دیتے ہو؟
پہلا مہینہ بھی شامل کر لیں تو اس کا بوجھ کئی ماہ تک اس کے گھر کے بجٹ کو تباہ کرتا رہتا ہے
تمہیں بددعائیں نہیں لگیں گی؟
قبر کے اندر تمہارے کیڑے پڑیں گے جس نے یہ قانون بنایا ہے اللہ تمہیں دنیا کے اندر بھی ذلیل کرے گا ان شاء اللہ
خدارا! اگر اس ظالمانہ قانون کو ختم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو اسے ختم کر دو ورنہ دنیا کے اندر تم ایسے ذلیل ہوگے، ایسے ذلیل ہوگے کہ آج دن تک کوئی ایسا ذلیل نہیں ہوا ہوگا
یہ انتہائی زیادہ سفاکیت ہے کہ ایک غریب آدمی اپنی بنیادی ضروریات کے لئے بجلی استعمال کرے اور اسے اس کی اتنی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجلی کوئی عیاشی نہیں، آج کے دور میں یہ بنیادی ضرورت ہے پنکھا، پانی کی موٹر اور فریج کسی امیر کی جاگیر نہیں بلکہ غریب کو بھی ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور دوسری سمت اشرافیہ کو یہ سب مفت ملتا ہے
دوسرا مسئلہ نجی سیکیورٹی کمپنیاں ہیں جو غریب سیکیورٹی گارڈز کا استحصال کر رہی ہیں
آج کل عام طور پر ایک فیکٹری مزدور کی ماہانہ تنخواہ 40 سے 45 ہزار روپیہ کے قریب ہے اور اس کی ڈیوٹی 8 گھنٹے ہوتی ہے اگر وہ اوور ٹائم لگاتا ہے تو اسے اضافی معاوضہ ملتا ہے لیکن ہماری نجی سیکیورٹی کمپنیاں غریب سیکیورٹی گارڈز سے 12، 12 گھنٹے ڈیوٹی لیتی ہیں اور ماہانہ صرف 30 سے 35 ہزار روپیہ ماہانہ دیتی ہیں اور اس میں چھٹی کا بھی کوئی مناسب انتظام نہیں ہوتا
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان نجی سیکیورٹی کمپنیوں کے مالکان کوئی غریب لوگ نہیں ہیں ان میں اعلیٰ طبقے کے لوگ بھی شامل ہیں، سویلین بھی اور ریٹائرڈ فوجی افسران بھی ہیں جن کی یہ ملکیت ہیں
سوال یہ ہے کہ یہ کمپنیاں اپنے کاروبار اور منافع کے لئے غریب لوگوں کی زندگیوں کو داؤ پر کیوں لگا رہی ہیں؟
میں نے خود بہت سے سیکیورٹی گارڈز کو دیکھا اور ان کی تربیت کا جائزہ لیا ہے اکثر کے پاس بنیادی تربیت تک نہیں ہوتی
انہیں اسلحہ چلانے اور محفوظ طریقے سے سنبھالنے کا درست طریقہ معلوم نہیں ہوتا
اس کے باوجود ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما دی جاتی ہیں
زیادہ تر ان سیکیورٹی گارڈز کو 12 بور کی شاٹ گن دی جاتی ہے امجس کے مختلف کارتوسوں میں چھرّوں کی تعداد اور نوعیت مختلف ہوتی ہے
کارتوس میں متعدد چھرّے ہوتے ہیں جو فائر ہونے کی صورت میں ایک سے زیادہ افراد کو زخمی یا ہلاک کرنے کا سبب بن سکتے ہیں
یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں بلکہ عوامی تحفظ کا انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے
میں آپ کو اپنا ایک ذاتی مشاہدہ بتاتا ہوں
میں اپنے ایک عزیز کی دکان پر گیا وہاں اس نے ایک سیکیورٹی گارڈ رکھا ہوا تھا میں نے اس سے کہا کہ ذرا این ایس پی یعنی نارمل سیفٹی پریکاشنز کر کے دکھاؤ
اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کیا ہوتا ہے
میں نے کہا چلو بندوق کو لوڈ کر کے دکھاؤ
اس کے پاس 12 بور کا ریپیٹر تھا جو دیکھنے میں اے کے 47 کی طرز کا بنا ہوا ہوتا ہے
اس گارڈ کا بندوق کو کاک کرنے کا طریقہ ایسا تھا کہ اللہ نہ کرے اگر اسلحے میں کوئی خرابی ہوتی یا گولی چیمبر میں موجود ہوتی تو سامنے کھڑے کسی شخص کو گولی لگ سکتی تھی
اب سوال یہ ہے کہ یہ کس قسم کا سیکیورٹی نظام ہے؟
آپ نے سیکیورٹی کمپنیاں بنا لی ہیں لوگوں سے ہزاروں روپیہ ماہانہ وصول کر رہے ہیں، لیکن جس غریب گارڈ کے ہاتھ میں اسلحہ تھما رہے ہیں اسے مناسب تنخواہ بھی نہیں دیتے، تربیت بھی نہیں دیتے اور اس کی حفاظت کا بھی کوئی انتظام نہیں کرتے
کم از کم گارڈز کو پوری تنخواہ تو دیں اور اگر ان سے 12 گھنٹے ڈیوٹی لیتے ہیں تو قانون کے مطابق ان کے اوقاتِ کار اور اضافی کام کا معاوضہ بھی یقینی بنائیں انہیں باقاعدہ تربیت دیں
ہر ماہ ان کی تربیت کا جائزہ لیں اسلحے کی محفوظ ہینڈلنگ کی جانچ کریں اور تربیت یافتہ افراد سے نگرانی کروائیں
مگر افسوس آپ لوگ کھائے جا رہے ہیں، کھائے جا رہے ہیں۔پتہ نہیں آپ ان گارڈز کے نام پر کتنے ہزار روپیہ وصول کرتے ہیں اور آگے ضلعی یا تحصیل سطح پر آپ کا مینیجر انہیں صرف 30 سے 35 ہزار روپیہ ماہانہ دیتا ہے وہ بھی 12، 12 گھنٹے ڈیوٹی کے بدلے
تمہیں خوفِ خدا نہیں ہے؟ مرنا نہیں تم لوگوں نے؟
یہاں کوئی لیبر کورٹ کیوں کام نہیں آتا،؟کوئی کنزیومر کورٹ کام نہیں آتا، یہاں کوئی پیرا فورس نہیں پوچھتی، یہاں کوئی جج سوموٹو ایکشن نہیں لیتا کیوں؟ اس لیے کہ وہ غریب لوگ ہیں؟
ایک اور انتہائی اہم پہلو بھی ہے
جب کسی دکان، بینک یا ادارے میں ڈکیتی ہوتی ہے تو سب سے پہلے نشانہ اکثر یہی بے چارہ سیکیورٹی گارڈ بنتا ہے اسے گولی ماری جاتی ہے یا اس کا اسلحہ چھین لیا جاتا ہے
اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ اسے مناسب تربیت، حفاظتی سامان اور پیشہ ورانہ تیاری فراہم نہیں کی گئی ہوتی
آخر اس غریب گارڈ کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟
اس کے بھی بچے ہیں، اس کا بھی گھر ہے، اس کے بھی والدین اور اہلِ خانہ ہیں
وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی املاک کی حفاظت کرتا ہے مگر اس کے اپنے حقوق اور تحفظ کی ذمہ داری کون لے گا؟
میں حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ان دونوں معاملات پر فوری ایکشن لیا جائے
اول بجلی کے 200 یونٹ سے معمولی تجاوز پر غریب صارف کو اگلے 6 ماہ تک مہنگے ٹیرف کے بوجھ تلے دبانے والی پالیسی ختم کی جائے اور بجلی کے بلوں کا ایسا نظام بنایا جائے جس میں غریب صارف کو چند یونٹ اضافی استعمال کرنے پر ناقابلِ برداشت مالی سزا نہ ملے
دوم نجی سیکیورٹی کمپنیوں کا مکمل آڈٹ اور معائنہ کیا جائے اور ان کے ملازمین کی تنخواہوں، ڈیوٹی کے اوقات، چھٹیوں، تربیت اور اسلحے کے محفوظ استعمال کو یقینی بنایا جائے اور جو کمپنیاں غریب گارڈز کا استحصال کر رہی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے
یہ دونوں معاملات کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کا مسئلہ نہیں ہیں یہ عام پاکستانی شہری کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور جان کے تحفظ کا معاملہ ہے
آخر میں حکومت سے پھر کہوں گا کہ خدارا ان مسائل کو سنجیدگی سے لیں
بجلی کے بلوں سے غریب کا گھر نہ اجاڑیں اور نجی سیکیورٹی کمپنیوں کو غریب ملازمین کی زندگیاں اور حقوق پامال کرنے کی اجازت نہ دیں
ورنہ یقین کر لیں بدعائیں لے ڈوبیں گیں اور یہ حکومت بہت ذلیل ہو جائے گی
ابھی بھی وقت ہے دعائیں لیں اور اپنی دنیا و آخرت سنواریں