*سجدے کی حقیقت، مقامِ قرب اور حدودِ شریعت* ہفتہ 31 اکتوبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینئر نذیر ملک، سرگودھا
*سجدے کی حقیقت، مقامِ قرب اور حدودِ شریعت*
ہفتہ 31 اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینئر نذیر ملک، سرگودھا
الحمد للہ رب العالمين والصلوة والسلام على خاتم النبيين اما بعد!
اسلام ایک مکمل، متوازن اور ضابطہ حیات دین ہے، جس میں عبادت کی روح بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ اس کی شکل اور ہیئت۔ آج ہمارے معاشرے میں نیکی کے جذبے سے سرشار ہو کر کئی ایسے طریقے اختیار کر لیے جاتے ہیں جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہوتی۔ حالانکہ دینِ اسلام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ نیکی صرف اسی وقت بارگاہِ الٰہی میں شرفِ قبولیت پاتی ہے جب وہ اخلاصِ نیت کے ساتھ ساتھ سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں بھی ڈھلی ہو۔
* سجدہ: قربِ الٰہی کا زریں موقع
صحیح مسلم کی ایک معروف حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ:
بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔
سجدہ بندگی کی معراج اور عاجزی کی انتہا ہے۔ یہ وہ مبارک مقام ہے جہاں بندہ اپنے غرور کو خاک میں ملا کر اپنے خالق کے سامنے جھک جاتا ہے۔ لیکن شریعت نے اس مقام کے بھی آداب اور حدود مقرر کیے ہیں۔
* باجماعت نماز اور اعتدال کا تقاضا
جب ہم باجماعت نماز ادا کرتے ہیں، تو امام کی اقتداء کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مقتدی امام کے تابع ہوتا ہے۔ امام کی رفتار کا احترام اور بوڑھوں، کمزوروں و بیماروں کی سہولت کا خیال رکھنا سنتِ نبوی کا حصہ ہے۔ فرض نمازوں میں سجدے کی طوالت کو محدود رکھنا اور تسبیحات (تین بار یا اس کے لگ بھگ) پر اکتفا کرنا اس بات کا ضامن ہے کہ جماعت میں نظم و ضبط برقرار رہے۔ جو لوگ طویل دعاؤں کے شوق میں تنہا نفل نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں، وہ سجدے کے اصل لطف اور اس کی مسنون روح کو بہتر انداز میں پا لیتے ہیں۔
* سلام کے بعد اضافی سجدہ اور اس کی شرعی حیثیت
بعض اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ باقاعدہ فرض یا سنت نماز مکمل کرنے یعنی سلام پھیرنے کے بعد الگ سے ایک لمبا سجدہ کرتے ہیں اور اس میں دعائیں مانگتے ہیں۔
کیا یہ درست ہے؟ شریعتِ مطہرہ نے سجدے کے لیے مقامات مقرر کیے ہیں۔ نماز کے اندر سجدہ کرنا عین سنت ہے، لیکن سلام پھیرنے کے بعد نماز سے ہٹ کر اس طرح کا کوئی اضافی سجدہ کرنا جس میں دعائیں مانگی جائیں، نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ ہی احادیثِ مبارکہ یا دورِ صحابہ سے۔
دین میں ہر وہ عمل جو نیک نیتی سے تو کیا جائے لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے خلاف ہو، وہ شریعت کی اصطلاح میں بدعت کے زمرے میں آتا ہے، اور حدیث شریف کا واضح فرمان ہے:
جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود یعنی قابلِ رد ہے۔ (صحیح بخاری و مسلم)
* اصل کامیابی اتباعِ سنت میں ہے
نیکی کا راستہ وہی درست اور پرنور ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دکھایا۔ جذبات کی رو میں بہہ کر یا خود ساختہ طریقے اپنا کر ہم دین میں وہ کچھ داخل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب نہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنتِ نبوی کی سچی سمجھ عطا فرمائے، ہر قسم کی بدعات اور غیر مسنون طریقوں سے بچائے، اور ہماری تمام عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے، آمین!
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333