63

‏ترقی کا “ راوی طریقہ “

‏ترقی کا “ راوی طریقہ “

پاکستان میں ترقی کے بہت سے راستے ہیں۔یعنی آپ ککھ پتی سے ارب پتی کیسے ہوتے ہیں اسکے کئی شارٹ کٹس مارکیٹ میں موجود ہیں۔ سرکاری افسر ہیں تو حرام کھانا شروع کردیں۔ تاجر ہیں تو ٹھگی چمکا لیں۔ طبیعت بدمعاشی کی طرف مائل ہے تو بھتہ لینا شروع کردیں۔ لیکن ایک ایسا طریقہ بھی ہے جو سو فیصد کامیاب ہوتا ہے۔ اس میں نہ ناکامی کا ڈر ہے نہ کسی قانونی کاروائی کا۔ نہ کبھی پکڑے جائیں گے نہ کبھی نقصان ہوگا۔ یہ ہے ترقی کا راوی طریقہ

کسی چھاونی کے باہر ایک کوٹھی ڈال لیں۔ اسکے بیسمنٹ میں بار بنا لیں۔ دو چار پیشہ ور خواتین سے تعلقات بنا لیں۔ چھاونی کے کسی کلب کی ممبر شپ لے لیں۔ چھوٹے افسران میں اٹھنا بیٹھنا شروع کردیں۔ انکی کافی کا بل دینا شروع کریں۔ رفتہ رفتہ انکی وہ تمام ضروریات پوری کرنا شروع کردیں جو حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں تفصیل سے لکھی ہیں۔ عورت اور شراب۔

جیسے جیسے افسر آتے جائیں گے ٹرانسفر ہوتے جائیں گے آپ کی تعلق داری وسیع ہوتی جائے گی۔ وہ کیپٹن اور میجر صاحبان ، کرنل اور بریگیڈیر بننا شروع ہوجائیں گے۔ اب ان کیساتھ مل کر چھوٹے کاروبار شروع کردیں۔ کوئی فرنچائز لے لیں۔ چھاونی کے کچھ ٹھیکے لے لیں۔ جب وہ بریگیڈیر صاحب باقاعدہ جرنیلی میں داخل ہوں تو پھر باقاعدہ پلازے اور ہاوسنگ سوسائٹیاں شروع کرلیں۔ لیں جی پلا پلایا راوی تیار ہے۔ اگرچہ کام سارے دلالوں کے ہیں لیکن کوئی شخص آپ کو دلال نہیں کہے گا۔ آپ کی معاشرے میں عزت ہوگی۔ جو شعبہ چاہیں چن لیں۔ کسی چھوٹے ادارے میں ایڈوائزر لگ جائیں۔ کسی چینل پر بیٹھ جائیں۔ یہ آپ کی طبیعت پر منحصر ہے۔آپ کی خاصی عزت ہوگی۔ کچھ آپ جیسے کم ظرف اور گھٹیا لوگ آپ کے آگے بچھے چلے جائیں گے۔

لیکن یہاں ایک مسئلہ آئے گا۔ ایسا راوی باہر سے جتنا بھی باعزت ہوگا وہ اندر سے تو دلال ہی ہوگا۔ اسکا اٹھنا بیٹھنا بھی ان لوگوں میں ہوگا جو عورت اور شراب کے علاوہ کچھ ڈسکس ہی نہیں کرتے ( حوالہ دوبارہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ ) ۔ اسے نہ بات کرنے کی تمیز ہوگی نہ معاشرے میں اٹھنے بیٹھنے کا سلیقہ۔ لہذا ایسے لوگوں کو کبھی عزت نہ دیں انہیں منہ نہ لگائیں۔ انکو جوتے کی نوک تلے رکھیں۔ کیونکہ انکا پیشہ ان کا پس منظر اور ان کی “کمپنی” دوبارہ پڑھیں ان کی “کمپنی” انہیں ایسی گھٹیا حرکات پر مجبور رکھتی ہے۔

ایسے ترقی یافتہ راوی کہاں ملتے ہیں؟ کسی بھی بڑی چھاونی کے آس پاس ۔ ملکیت میں پلاٹ اور اراضیاں ہوں گی۔ گھٹیا پن پہچان ہوگا۔ نشانیاں بتا دی ہیں باقی خود ڈھونڈھ لیں۔ مجھے لگتا ہے ابصا کومل کو بھی کوئی ایسے ہی ترقی کرنے والا راوی ملا ہے۔ کیونکہ حرکتیں بالکل وہی ہیں۔ اگرچہ ابصا کومل نے نام نہیں لکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں