*قرآن مجید پر تحقیق اور غور و فکر* ہفتہ یکم مارچ 2025 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*قرآن مجید پر تحقیق اور غور و فکر*
ہفتہ یکم مارچ 2025
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
قرآن مجید کا انداز بیان
*اے عقل و دانش والو!*
*میری آیات پر غور کیوں نہیں کرتے*
* قرآن پاک 9 سال 9 ماہ 9 دن مدینہ میں نازل ہوا ،12سال 8 ماہ 5 دن مکہ میں نازل ہوا۔
* تو کل مدت 22 سال5 ماہ 14دن ہوئی۔
٭قرآن پاک کا اکثر حصہ رات کو نازل ہوا۔
٭مصحف عثمانی 5 سال (25ہجری تا 30ہجری )میں مکمل ہوا۔
*سواطع الھام*
قرآن پاک کی وہ تفسیر ہے جس میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس پر نقطہ ہو یہ تفسیر شیخ فیضی نے لکھی تھی۔
*جب شغب*
٭قرآن پاک کی وہ تفسیر جس کے ہر لفظ پر نقطہ ہے۔
٭ قرآن پاک کے دوجملے جن کے حروف الٹا پڑھنے سے بھی وہ ہی جملے بن جاتے ہیں ۔
1……کل فی فلک۔
2 ……ربک فکبر۔
٭قرآن پاک میں حضرت محمدﷺ کو نبی کے نام سے 23 مرتبہ پکارا گیا ہے۔
٭قرآن پاک میں6فرشتوں کے نام آئے ہیں۔
(ہاروت ، ماروت ،جبرائیل، میکائیل، رعد، مالک)
٭قرآن پاک میں چند مومنین کے نام آئے ہیں۔(عمران،لقمان،ذوالقرنین،تبع،
طالوت)
٭قرآن مجید میں چند جگہوں کے نام آئے ہیں ۔(بکہ، مصر،بابل، طورسینا، احقاف، طویٰ، یثرب، روم، مدین)
٭قرآن پاک میں چند قبیلوں اور قوموں کے نام آئے ہیں۔(عاد، ثمود، مدین، قریش ، یاجوج ماجوج)
٭قرآن پاک میں دو دنوں کے نام آئے ہیں۔(جمعہ ،ہفتہ یعنی السبت)
٭قرآن پاک میں صرف دو بندوں کی کنیت کا ذکر ہے۔ابن مریم، ابی لھب۔
٭قرآن پاک میں7کافروں کے نام آئے ہیں۔(فرعون،ہامان،قارون،جالوت،
آزر، سامری، ابو لہب)
٭قرآن پاک میں شیطان کا نام ابلیس11 مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن پاک میں حضرت موسٰی ؑ کا ذکر 40 مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن پاک میں لفظ سورۃ 7 مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن پاک میں لفظ قارون 4 مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن پاک نے صرف 2 خواتین کی پاکدامنی کی تصدیق کی۔ ( حضرت عائشہؓ اور حضرت مریمؑ)
٭قرآن پاک میں ﷲ پاک نے صرف ایک انسان (نبیﷺ ) کی زندگی کی قسم کھائی۔
٭قرآن پاک میں صرف ایک جگہ لفظ ﷲ ڈبل آیا ہے
(سو رۃ انعام پارہ نمبر8،
آیت نمبر 24) اس جگہ دعاء بھی قبول ہوتی ہے۔
٭قرآن پاک میں صرف ایک عورت حضرت مریم ؑ کا نام 32 مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن پاک میں لفظ ﷲ اکبرنہیں ہے۔
٭سورۃقمر ، سورۃ رحمٰن ، سورۃ واقعہ تینوں میں لفظ ﷲ نہیں ہے۔
٭قرآن پاک کی وہ سورت جو مدینہ میں سب سے پہلے نازل ہوئی سورہ رحمٰن ہے۔
٭قرآن پاک کی 3 سورتیں
یا ایھا النبی سے شروع ہوتی ہیں۔
1 ……احزاب،
2……طلاق،
3……تحریم،
٭قرآن پاک کی 5 سورتیں قل سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ قرآن پاک کی 6 سورتیں الم سے شروع ہوتی ہیں ۔
٭ قرآن پاک کی 6 سورتیں
الر سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ قرآن پاک کی 7 سورتیں
حم سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ قرآن پاک کی 29 سورتیں حروف مقطعات سے شروع ہوتی ہیں۔
٭قرآن پاک کی صرف 3 سورتوں میں تین تین آیتیں ہیں ۔
٭حضرت آدم ؑ کا تذکرہ قرآن پاک کی 9 سورتوں میں 25 مرتبہ آیا ہے
(بقرہ، مائدہ ،عمران ، اعراف ، اسرا ، کہف ، مریم ، طہٰ ، یٰس)
٭قرآن پاک کی سب سے چھوٹی آیت حم ہے۔
٭قرآن پاک میں سب سے زیادہ الف استعمال ہوا ہے اور سب سے کم ظ استعمال ہوا ہے۔
٭قرآن پاک کے پارہ نمبر 15 کی پہلی آیت کے آخر میں الف نہیں اور باقی تمام آیتوں کے آخر میں الف ہے
* قرآن مجید ﷲ تعالیٰ کی آخری کتاب اور لاجواب کلام ہے، جو خاتم النبیین آنحضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر 22 سال 5 ماہ اور 14 دن کے عرصے میں وقت کی فصیح و بلیغ زبان عربی میں نازل ہوا۔
* قرآن مجید الفاظ اور معنٰی دونوں کا مجموعہ ہے۔ آپ نے جس طرح الفاظِ قرآن کی تعلیم دی ویسے ہی اس کے معنٰی بھی بیان فرمائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کر دو تاکہ وہ غور کریں۔‘‘(سورہ ٔالنحل، 44:16) قرآنِ مجید قیامت تک کے آنے والے انسانوں کے لیے واحد ذریعہ ٔہدایت ہے۔ انسانیت کی فوز و فلاح اور اُخروی نجات کا دارومدار کتاب ﷲ سے وابستگی ہی میں ہے۔ ایمانیات، عبادات، معاملات اور اخلاقیات ہر شعبۂ زندگی سے متعلق اس کتاب میں رہنما اصول موجود ہیں۔ یہی وہ اُصول ہیں جن کی روشنی میں کامیاب زندگی کی تشکیل ممکن ہے۔ قرآن مجید کا نزول فصیح و بلیغ زبان عربی میں ہوا، اس لیے اس کے اوّلین مخاطب بھی عرب تھے ۔ قرآن نے عرب کے فصحاء و بلغاء کو یہ چیلنج کیا کہ اگر انہیں اس کلام میں کوئی شک اور شبہ ہے تو اس جیسا کلام لے آئیں، لیکن وہ سب کے سب اس کلام کی مثل پیش کرنے سے عاجز رہے۔ ارشاد ِباری تعالیٰ ہے:’’اور اگر تمہیں اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمدؐ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح ایک اور سورت تم بھی بنا لائو اور اللہ کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں انہیں بھی بُلالو، اگر تم سچے ہو۔‘‘(سورۃالبقرۃ، 23:2)
* آپؐ کو عطا کیے گئے معجزات میں سے قرآن مجید آپ ؐ کا سب سے بڑا اور قیامت تک محفوظ رہنے والا زندہ معجزہ ہے۔ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اس کے متکلّم نے لیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
* ’’بے شک ہم نے یہ ذکر نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘(سورۃ الحجر، 9:15)
* قرآن مجید سیکھنے، سکھانے اور اس کی تلاوت کرنے کی فضیلت میں آپ ؐ سے کئی روایات منقول ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:خیرکم من تعلم القرآن و علمہ(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن) قرآن ہم سے یہ پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اس میں تدبّر وتفکّر کریں۔ الفاظِ قرآن کے ساتھ اس کے معنٰی پر بھی بھرپور توجہ دیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں۔‘‘(سورہ ٔ محمد ،24:47)
* ابو عبدالرحمن السلمی ؓ کا قول ہے کہ جن لوگوں نے ہمیں قرآن پڑھایا جیسے حضرت عثمان بن عفان ؓ اورحضرت عبداﷲ ابنِ مسعود ؓ وغیرہ، وہ نبی کریم ؐ سے جب تک دس آیات نہیں سیکھ لیتے، آگے نہیں بڑھتے تھے، یہاں تک کہ وہ سب کچھ جو اُنؐ میں علم وعمل کے بارے میں ہے سیکھ لیتے۔ اسی لیے انہوں نے فرمایا:’’ ہم نے قرآن علم وعمل دونوں لحاظ سے سیکھا۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ انہیں ایک سورت حفظ کرنے میں مُدّت لگ جایا کرتی تھی۔ حضرت انس ؓ نے فرمایا:’’ جب کوئی شخص سورہ ٔبقرہ اور آلِ عمران پڑھ لیتا ہماری نظر میں بڑا بن جاتا۔ ‘‘ابن عمر ؓ کو سورۂ بقرہ حفظ میں کئی سال لگے، امام مالکؒ کی روایت کے مطابق آٹھ سال لگے۔ اسی سے متعلق ﷲ تعالیٰ نے فرمایا:’’یہ (کتاب) جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں تاکہ اہلِ عقل نصیحت پکڑیں۔ ‘‘(سورۂ ص، 29:38) فرمایا:’’بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پرقفل لگ رہے ہیں۔‘‘(سورۂ محمد ،24:47) ’’کیا انہوں نے اس کلام میں غور نہیں کیا یا اُن کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو اُن کے اَگلے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی۔‘‘(سورۂ مومنون،28:23)
* ظاہر ہے کہ کسی کلام میں تدبّر کیے بغیر اس کے معنٰی سمجھنا ممکن نہیں ،اس لیے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ہم نے قرآن عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔‘‘(سورۂ یوسف،2:12) اور کسی بات کا عقل میں آنا اس کے سمجھنے پر موقوف ہے یعنی ہر کلام کا مقصد اس کے معنٰی سمجھنا ہوتا ہے نہ کہ محض الفاظ ِقرآن ،لہٰذا قرآن اس بات کا سب سے زیادہ مستحق ہے۔(ابنِ تیمیہ، مقدمہ فی اصول التفسیر)
* تدبّر، تفکّر مسلمانوں پر قرآن مجید کا بہت بڑا حق ہے، لہٰذا قرآن مجید کاحق محض سجا سنوار کر خوب صورت اور قیمتی غلافوں میں لپیٹ کر رکھ دینے سے ادا نہ ہوگا بلکہ ہمیں تلاوتِ الفاظ کے ساتھ اس کے معنٰی بھی سمجھنا ہوں گے۔ اپنے آپ کو اس کلام کے رَنگ میں رَنگنا ہوگا اور اپنے آپ کو اس کا تابع دار اور فرماں بردار بنانا ہو گا، تاکہ ہم ﷲ تعالیٰ کی اس آخری ہدایت اور اس کے انوار وبرکات سے فیض یاب ہوسکیں۔ جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر اُس راہِ ہدایت اور صراطِ مستقیم پر زندگی بسر کرنے کے قابل ہوسکیں۔ جسے اپنانے والوں پر ﷲ تعالیٰ نے خصوصی انعام فرمایا۔ راہِ حق سے روگردانی کرنے والوں کے لیے ﷲ تعالیٰ نے مغضوب اور ضالین کے الفاظ استعمال کیے۔ انسان کو تلاوت ِقرآن کے دوران ایک ایک آیت پر رُکنا چاہیے اور اس کے معنٰی و مفاہیم سمجھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ آیتِ رحمت کا تذکرہ ہو تو وہاں رُک کر ﷲ تعالیٰ کا شکر بجالائیں۔ کہیں عذاب کا ذکر ہو وہاں ﷲ سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کریں اور ہر قسم کے عذاب سے پناہ مانگیں۔ جہاں ﷲ تعالیٰ نے اوامر و نواہی بیان کیا ،وہاں ہم ان کی پابندی کرنے کا مضبوط عزم کریں ،حلال کو حلال اور حرام کو حرام، خیر کو خیر اور شرکو شر تسلیم کریں۔ ہدایت چھوڑ کر من مانی تاویلات کے ذریعے گمراہی کا انتخاب نہ کریں۔ آج ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ فلاح ِدارین کا انحصار قرآن مجید کے مطالبات تسلیم کرنے ہی میں ہے۔ ﷲ تعالیٰ قرآن مجید کا صحیح فہم سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333
قرآن مجید پر تحقیق